میناب میں تباہ گرلس اسکول، ویڈیو گریب
ایران پر حملہ جاری ہے۔ چھوٹی معصوم بچیوں کے خون سے انسانیت سیاہ پڑ گئی، پھر بھی کسی خود مختار و آزاد نیشنل اسٹیٹ (قومی ریاست) نے اُف تک نہیں کی ہے۔ انہیں آزاد کہتے اور مانتے ہوئے بھی زبان کانپتی ہے۔ ہمارے حکمراں بھی کس فریق میں کھڑے رہے، سب جانتے ہیں۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ آخر ان سب قومی ریاستوں کو کون چلا رہا ہے؟ کون ان کے اندر فیصلے کرواتا ہے؟ یہ اس صدی کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس سوال سے بچا نہیں جا سکتا۔
Published: undefined
سوویت روس کے بکھرنے کے بعد نظریہ پر مبنی قومی ریاست کا وجود آہستہ آہستہ سکڑنے لگا۔ اسی دور میں اقتدار کی منتقلی کی پہل ہمارے ملک میں ہوئی۔ آئین پر مبنی کثیر النوع ملک کو مساوات، برادری، انصاف اور آزادی کے خیال پر قائم قومی ریاست کے طور پر پروان چڑھانا مقصد تھا، تاکہ دنیا کے کسی کونے میں تو فکری خود مختاری سے مالا مال قومی ریاست کا تصور باقی رہے۔
Published: undefined
تھوڑا تاریخ کو ٹٹولیں تو قومی ریاست کا تصور پوری دنیا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پھیلا اور کچھ برسوں تک برقرار رہا۔ ان جدید قومی ریاستوں میں کچھ بنیادی ڈھانچے ہیں– جغرافیائی سرحد، کرنسی، ٹیکس کا نظام، دفاعی پالیسی، شہری حقوق، تزویراتی تعلقات اور اقوام کی خود مختار رفاقت جسے اقوام متحدہ کہتے ہیں۔ ان قومی ریاستوں میں ایک یکسانیت تھی، مگر قطبیت بھی تھی۔ ایک طرف آزاد بازار، کھلے انتخابات، رائے دہی کا حق، جمہوریت اور عقیدے کی غیر جانبداری غالب رہی، دوسری طرف ریاست کے تحفظ میں متعین پروگرام اور منضبط شہری بازار نظام رہا۔ یہ درست ہے کہ اس دوسری ترتیب میں یک اقتداری کو بہت فروغ ملا، ریاست کے تحفظ میں قائم نظام کنٹرول میں بدلنے لگا، بڑے مرکزی ڈھانچے عوامی توقعات کے اظہار کو مٹا دیتے، بے چینی بڑھنے لگی اور بازار پر مبنی آزاد نظام کا پلڑا بھاری ہوتا گیا۔ امریکی مداخلت نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ روس کا دبدبہ کمزور پڑ گیا۔
Published: undefined
آزاد ہوئی قومی ریاستیں جو اس سے خوش ہوئیں، وہ یہ نہیں سمجھ پائیں کہ اگلی باری ان کی ہوگی۔ آج عالمگیریت نے اتنے چیلنج پیدا کر دیے ہیں کہ قومی ریاست کا شاید ہی کوئی مستقبل بچا ہے۔ آج فیس بک اور گوگل سب سے بڑی ریاستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بازار سب سے طاقتور ملک ہے۔ اس کے تئیں عقیدہ اس قدر پھیل گیا ہے کہ وہ سب سے بڑا مذہب بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ نے شہریت کو حاشیے پر کھڑا کر دیا ہے۔ کوئی شخص ہندوستان میں رہتا ہے، کسی دوسرے ملک کی کمپنی کے لیے کام کرتا ہے، وہ کمپنی کسی اور ملک کی سرزمین پر ہے، تو اب اس شخص پر کس ملک کا ٹیکس نظام اور محنت کے قوانین نافذ ہوں گے؟ وہ کس عدالتی نظام پر انحصار کرے گا؟ کہاں اپنا حق جتا سکے گا؟ اس بازار پر مبنی دنیا میں قومی ریاستوں کی خود مختاری اور ان کا اختیار کہاں رہ گیا؟
Published: undefined
بازار، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت اب اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ وہ قومی ریاستوں کو چلاتے ہیں۔ اقتصادی طاقت انہی کے پاس ہے۔ اسی کے ذریعے وہ ہر ملک کے انتخابات کے نتائج طے کرتے ہیں۔ نام نہاد جدید رسمی تعلیم، صحت کے نظام اور سیاسی پارٹیوں کی حالت کے دھاگے انہی کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ حکومت کا ایجنڈا چلاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایجنڈا صرف ان کے منافع کو مزید بڑھانے کے لیے وقف ہوتا ہے۔
Published: undefined
ان سب کے باعث قومی ریاستوں کی سیاست بنیادی طور پر بدل گئی ہے۔ دائیں بازو کی محدود ریاستی طاقت کے نمائندوں کو اس میں امکان نظر آتا ہے۔ اب بازار پر مبنی سماجی ڈھانچے میں انہیں زیادہ کچھ کرنا نہیں پڑتا۔ ذرائع ابلاغ کو بازار کے سب سے بڑے سرمایہ دار کے کنٹرول میں لانا ہے۔ باقی سارا نظام خود بخود چلنے لگتا ہے۔ ان سرمایہ داروں کے ساتھ اتحاد قائم کیا جاتا ہے کہ ریاست محض وسائل پر قبضے کا ہتھیار بن کر رہ جائے۔ آج یہی ہو رہا ہے۔ شہری محض تماشائی بن جاتے ہیں۔ خبریں تفریح بن جاتی ہیں۔ بازار پر چند لوگوں کی ملکیت ہے، اجارہ داری ہے۔ وہی اب ساری سیاست، سماجی ڈھانچے اور معیشت کو چلاتے ہیں۔
Published: undefined
جب انہی کی مہربانی سے انتخابات لڑے اور جیتے جائیں گے تو اقتدار میں رہ کر ان کے لیے قبضے کی نئی نئی جگہیں تلاش کرنی پڑیں گی۔ اس لیے گرین لینڈ، وینزویلا، کناڈا، ہندوستان کے اندر بستر، کشمیر اور سنگرولی کے جنگلات کو یہ کہہ کر بے شرمی سے قبضہ کرنے کی پیشکش ہوتی ہے کہ ہمیں بس یہ چاہیے۔ کم از کم اس سے پہلے اتنی کھلی لوٹ نہیں ہوتی تھی۔
Published: undefined
یہ بھی لگتا ہے کہ کیا یہ قومی ریاستوں کے کنٹرول والے گروہوں کی آخری مزاحمت ہے، تاکہ قومی ریاست باقی رہ سکے۔ اس لیے نہیں کہ اس نظام کے ذریعہ حاشیے پر کھڑے طبقات کو تحفظ دیا جا سکے اور انہیں حقوق مل سکیں، بلکہ اس لیے کہ وسائل پر یقینی قبضہ برقرار رہے۔ لیکن ہر غلبہ کو چیلنج ملتا ہی ہے۔ مصنوعی ذہانت سب کچھ تہس نہس کرنے والی ہے۔ اب ایک طرح سے صرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہی بامعنی رہ جائیں گے۔ نام نہاد ذہنی کام کہیں اور ہونے لگے گا۔ تب قومی ریاست کی کیا حالت ہوگی؟ کرپٹو کرنسی کے آنے کے بعد آخری آدمی کا کیا ہوگا؟ جب اسلحہ بنانے والے ہر ملک سے سودا کریں گے تو کون متاثر ہوگا؟ ان تمام کنٹرول پسند نظاموں کے درمیان جو ماحولیاتی تباہی ہوئی ہے، اس کا تو ابھی تصور بھی نہیں ہے۔
Published: undefined
اب سوچنا ہوگا کہ کیا پوری دنیا پھر ایک تبدیلی کے دہانے پر ہے؟ کیا ترقی، قومی ریاست، بے لگام اور مایوس کر دینے والی مصنوعی ذہانت اور کھلے بازار پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو راستہ بھی نہیں ملے گا۔
Published: undefined
’ہند سوراج‘ میں ایک فلسفہ ہے جو تقریباً ایک صدی پہلے لکھا گیا۔ اس سوال کے ساتھ کہ ہر نظام کی کسوٹی آزادی ہونی چاہیے (ہم انسان کے طور پر کتنے غلام ہیں اور کتنے آزاد؟ لیکن ہمیں یہ بہت غیر عملی لگتا ہے، جبکہ غلامی سے نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے) ایک ایسے نظام کا متبادل تیار کرنا جس میں مجبوری میں خود کو بازار کے حوالے نہ کرنا پڑے، ورنہ قومی ریاست اور شہریت کی معنویت کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ قومی ریاست اور ترقی کی موجودہ شکل کا متبادل تلاش کرنا اس صدی کا سب سے بڑا کام ہوگا۔ ہند سوراج کی منتقل شدہ اقتدار کی ساخت، جسمانی توانائی اور وسائل کی مساوی تقسیم ہی نئی شمع ہے۔
Published: undefined
بڑے مرکزی ڈھانچے بے معنی ہیں۔ دنیا ایک گاؤں کی طرح قریب آ جائے، لیکن انسان کو بے حس نہ بنائے۔ اسے بیدار بنائے اور ہر طرح کی برتری سے آزاد کرے۔ اسے قبول کرنے کے لیے بڑی ہمت چاہیے۔ وہ ایک ہی قیادت میں نظر آتی ہے۔ اس کی بے خوفی کوئی مظاہرہ نہیں۔ بے خوفی کا مظاہرہ ہو بھی نہیں سکتا۔ قومی ریاست کا صرف ایک نیا نسخہ ممکن ہے۔ وہ منتقل شدہ اقتدار کی ساخت ہے جہاں طاقت مرکز سے نہیں بلکہ گاؤں گاؤں سے منتقل ہو۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined