فکر و خیالات

رمضان المبارک: خواتین ماہِ صیام کے قیمتی ایام کو ضائع نہ کریں... روبینہ خاتون

ماہِ رمضان کی آمد سے پہلے ہی خواتین اس کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں، اس ماہِ مبارک میں ان کی زندگی کے معمولات بھی پوری طرح تبدیل ہو جاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

رمضان کا رحمتوں بھرا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یوں تو رب العالمین اپنی مخلوقات پر اپنی رحمتوں کی بارش سال کے بارہوں مہینے نازل فرماتا ہے، لیکن رمضان کے مبارک مہینے میں اس کی رحمتوں اور برکتوں کی شان ہی نرالی ہے۔ اس ماہ کا اللہ کے نیک بندوں کو شدّت سے انتظار رہتا ہے۔

Published: undefined

رمضان المبارک کا روزہ، صلوۃ، تراویح، صدقہ، دعا، ذکر، تلاوت، مناجات، عمرہ وغیرہ اعمال جہاں مردوں کے لیے ہیں وہیں عورتوں کے لئے بھی ہیں۔ ان اعمال کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ جس طرح مردوں کو نصیب کرتا ہے، ویسے ہی عورتوں کو بھی عنایت کرتا ہے۔ جس طرح مردوں کو رمضان المبارک میں اپنا زیادہ تر وقت عبادت و ریاضت میں گزارنا چاہیے، ویسا ہی حکم عورتوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً یہ کہ روزوں کے حوالے سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں جن کی ادائیگی سے صحیح معنوں میں روزوں سے حاصل ہونے والی برکات و ثمرات سے مستفیض ہوا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

اس مبارک مہینے کی آمد سے پہلے ہی خواتین اس کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معمولات زندگی بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس بابرکت مہینے کی نسبت سے صوم و صلوۃ اور تلاوت قرآن پاک کے لیے خشوع و خضوع سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ سحر و افطار کا اہتمام بھی کیا جائے، کیونکہ گھر کا ہر فرد افطار کے وقت موجودگی یقینی بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی یہ کوشش بھی رہتی ہے کہ وہ گھریلو کاموں کے دوران عبادت و ریاضت کا وقت بھی نکال سکیں۔ لہذا اس کے لیے وہ پہلے سے ہی تیاریاں کرتی ہیں اور کاموں کے لیے وقت طے کر لیتی ہیں کہ کب انہیں کیا کام کرنا ہے۔

Published: undefined

خاص کر وہ خواتین جو نوکری پیشہ ہوتی ہیں یا جن پر گھر میں موجود بزرگوں اور بچوں کی ذمّہ داری ہوتی ہے، ان کے لیے رمضان میں دوہری ڈیوٹی ہو جاتی ہے۔ پہلے انہیں اپنے دفتر میں کام کرنا ہوتا ہے اور پھر گھر کے کاموں کو بھی خصوصی طور پر دیکھنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ ماہِ رمضان کے آنے سے قبل کچھ ضروری چیزیں فریز کر لیتی ہیں تاکہ دوران رمضان کوئی پریشانی نہ ہو۔ عام طور پر خرید و فروخت کا زیادہ تر کام پہلے ہی کر لیا جاتا ہے۔

Published: undefined

دوران رمضان سحری میں تو عموماً متوازن خوراک پر ہی زور دیا جاتا ہے، لیکن افطار سے لطف و اندوز ہونے کے لیے ہر گھر میں اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا ایک روایت سی بن گئی ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ اس کے سبب خواتین کا زیادہ تر وقت سحر و افطار کی تیاریوں میں ہی صرف ہو جاتا ہے، حالانکہ اس بابرکت مہینے میں زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں گزارنا چاہیے۔

Published: undefined

کچھ لوگ روزہ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور سحر و افطار میں ہی اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ روزہ کے کئی بڑے فوائد ہیں۔ جب جاپانی سائنس داں ’یوشینوری اوسہومی‘ کو 2016 میں میڈیسن کا نوبل انعام دیا گیا، تو اس نے ثابت کیا کہ کس طرح مہینے بھر روزہ رکھنے سے جسم میں موجود خطرناک وائرس اور بیکٹریاز ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سے جسم کے اندرونی خلیات کی بناوٹ میں پورے سال جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، وہ درست ہو جاتی ہے۔ نئے خلیات بنتے ہیں، صحت اچھی ہوتی ہے اور عمر لمبی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں معمول سے کم کھنا چاہیے۔ اسلام میں یہ بات 1400 سال پہلے ہی بتا دی گئی تھی۔ اسلام یہی کہتا ہے کہ کم کھاؤ اور سادہ کھاؤ، نہ کہ سحر و افطا یں میں کھانے پر ٹوٹ پڑو۔ ’’مومن کا کھانا ایک آنت میں ہوتا ہے اور کافر سات آنتوں میں بھرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

Published: undefined

خواتین رمضان المبارک کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ فرض نمازوں کی ادائیگی شروع وقت میں ہی ہو جائے۔ سحر و افطار کی تیاریوں میں نماز کو مکروہ وقت تک نہ ٹالیں۔ تلاوت قرآن کے لیے بھی وقت مقرر کریں۔ تراویح بھی خواتین کے لیے مسنون ہے۔ اس میں سستی و کاہلی نہ کریں۔ کام کرتے وقت زبان سے اللہ کا ذکر کرتی رہیں، اس میں درود اور استغفار کی کثرت کریں۔

Published: undefined

رمضان المبارک کا یہ پاک مہینہ ہمیں اپنے نظام الاوقات کو ترتیب دینے، حقوق اللہ اور حقوقت العباد کا باقاعدگی سے اہتمام کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم ان قیمتی ایّام کو ضائع نہ کریں، بلکہ ان کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

Published: undefined

افسوس کا مقام یہ ہے کہ خواتین چاہے جتنا بھی کام رمضان سے پہلے سمیٹ لیں، اس کے باوجود انہیں اس بابرکت مہینے میں بے شمار کام کرنے پڑتے ہیں۔ سحر و افطار کا خصوصی انتظام انہیں کے سر ہوتا ہے۔ یہاں مرد حضرات کی بھی ذمّہ داری ہوتی ہے کہ وہ خواتین کے کاموں میں مدد کریں۔ اسلام دین فطرت ہے، یہ اپنے ماننے والوں کے لیے آسانیاں لے کر آیا ہے۔ سحر و افطار کے اہتمام میں وقت نہ ضائع کرتے ہوئے اس بابرکت مہینے میں تقویٰ حاصل کرنا چاہیے اور اپنے کاموں کو وقت کے حساب سے طے کر لینا چاہیے تاکہ عبادات کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined