فکر و خیالات

کام کا انبار، مستقل ملازمتوں کا بحران... ڈاکٹر اجیت راناڈے

کیا ہندوستان کا لیبر مارکیٹ اس مستقبل کے لیے تیار ہے جہاں پروجیکٹ اور پلیٹ فارم تو ہوں گے، لیکن سماجی تحفظ والی مستقل ملازمتیں سمٹتی جائیں گی؟

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

علامتی تصویر / آئی اے این ایس

 

یقیناً نیٹ پرچہ لیک معاملے نے حالیہ طلبا تحریک کو ہوا دی ہو، لیکن یہ سمجھنا بڑی بھول ہوگی کہ احتجاج صرف امتحانات کی بدانتظامی کے خلاف تھا۔ مظاہروں میں جو غصہ دیکھنے کو ملا، وہ گہری تشویش سے پیدا ہوا ہے۔ کروڑوں نوجوانوں کے لیے مسابقتی امتحانات محفوظ اور باعزت تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے کے چند ذرائع میں سے ایک ہیں۔ ایسے میں جب ان امتحانات کی منصفانہ حیثیت سے سمجھوتہ ہوتا ہے، تو اس کا سیدھا مطلب ہوتا ہے دوبارہ کوشش کرنے کے لیے پورے ایک سال کا انتظار۔ اس لیے شروع ہی سے یہ تحریک جتنی امتحانات کو لے کر تھی، اتنی ہی ملازمتوں کے لیے بھی تھی۔

سرکاری مسابقتی امتحانات گریجویٹس کے لیے ایسے ’ویٹنگ روم‘ بن چکے ہیں جہاں زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ 20 سے 22 سال کے نوجوان ان امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کی بار بار کوشش میں، جہاں کامیابی کی شرح محض 2-1 فیصد ہوتی ہے، کوچنگ اداروں اور کرایہ کے کمروں میں سالوں گزار دیتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کے وہ سب سے قیمتی سال ہوتے ہیں جن میں وہ کام کا تجربہ، عملی مہارت اور پیشہ ورانہ روابط حاصل کر سکتے تھے۔

نوجوانوں کا یہ طویل انتظار بے وجہ نہیں، کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں ابتدائی سطح کی تنخواہیں طویل عرصے سے ٹھہری ہوئی ہیں۔ ایک نوجوان مرد گریجویٹ کی اوسط ماہانہ آمدنی 2011 کے 21,800 روپے سے گھٹ کر 2023 میں 19,573 روپے رہ گئی اور یہ کمی مہنگائی کی شرح کو ایڈجسٹ کرنے سے پہلے کی ہے۔ اس کے برعکس سرکاری ملازمت کہیں بہتر تنخواہ، تسلسل، صحت کے فوائد، سماجی وقار اور ملازمت سے محروم ہونے سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو انتظار کا یہ فیصلہ منطقی معلوم ہوتا ہے، لیکن اجتماعی سطح پر اس کا نتیجہ انسانی صلاحیت کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہے۔

2004 سے 2023 کے درمیان ہندوستان نے ہر سال اوسطاً 50 لاکھ گریجویٹس تیار کیے، لیکن گریجویٹس کے لیے روزگار میں سالانہ صرف 28 لاکھ کا ہی اضافہ ہو سکا۔ ان میں بھی باقاعدہ تنخواہ والی ملازمتوں کی تعداد اس سے بھی کم تھی۔ نتیجتاً کروڑوں نوجوان یا تو بے روزگار ہیں یا اپنی اہلیت سے کم تر کام کر رہے ہیں، یا کسی نایاب سرکاری ملازمت کی امید میں ’ویٹنگ روم‘ میں بیٹھے ہیں۔ پی ایل ایف ایس (پیریوڈک لیبر فورس سروے) نے 2025 میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 9.9 فیصد درج کی۔ لیکن ’معمول کی صورت حال‘ کا پیمانہ کسی شخص کو تب بھی ’برسر روزگار‘ مان لیتا ہے جب اس نے گزشتہ ایک سال میں محض 30 دن کوئی چھوٹی موٹی معاشی سرگرمی انجام دی ہو۔ اس طرح خاندانی کھیت میں کبھی کبھار ہاتھ بٹانے والا، ڈیلیوری کا چھٹ پٹ کام کرنے والا یا خود روزگار سے انتہائی معمولی آمدنی حاصل کرنے والا شخص بھی اعداد و شمار میں ’برسر روزگار‘ مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزگار پر بحث کو صرف ’برسر روزگار‘ اور ’بے روزگار‘ کی سطحی تقسیم سے آگے لے جانا ہوگا۔ کم روزگار، بالواسطہ بے روزگاری، کام کے غیر یقینی اوقات، کم اجرت، معاہدہ نامے کا نہ ہونا اور سماجی تحفظ کا فقدان بھی اتنے ہی اہم مسائل ہیں۔

انسانی سرمائے کے نامکمل استعمال کی سب سے واضح تصویر زرعی شعبے میں نظر آتی ہے۔ روزگار میں اس کا حصہ، جو کئی دہائیوں سے کم ہو رہا تھا، 18-2017 کے 44.1 فیصد سے بڑھ کر 24-2023 میں 46.1 فیصد ہو گیا۔ یہ الٹ پھیر وبا کے دور میں ہونے والی نقل مکانی کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کی اس ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کے باعث وہ مزدوروں کو مناسب تعداد میں استعمال نہیں کر سکے۔ زرعی شعبہ قومی پیداوار میں صرف چھٹے حصے کا تعاون کرتا ہے، لیکن افرادی قوت کے 2 میں پانچویں سے زیادہ حصے کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ خاندانی کھیت اکثر آخری متبادل ہوتے ہیں۔ تازہ پی ایل ایف ایس کے اعداد و شمار اس میں معمولی کمی دکھاتے ہیں، لیکن یہ پیمائش کے طریقۂ کار میں آنے والی تبدیلی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اجرت کی صورت حال اور بھی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ مرد غیر ہنرمند یومیہ مزدوروں کی اوسط یومیہ اجرت 2024 کے 456 روپے کے مقابلے میں 2025 میں عملی طور پر 455 روپے پر ہی ٹکی رہی۔ خواتین یومیہ مزدوروں کی آمدنی 299 روپے سے بڑھ کر 315 روپے ہوئی۔ یہ محض نام بھر کے اعداد و شمار ہیں، جن میں زندگی گزارنے کی لاگت میں ہونے والے اضافے کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

’پلیٹ فارم‘ پر مبنی کام (گِگ ورک) کے پھیلاؤ کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ حال ہی میں ایک تشہیری اشتہار میں گھریلو کام کے لیے 29 روپے فی گھنٹہ کی پیشکش کی گئی۔ یہ صارف کو دی گئی رعایتی شرح تھی، نہ کہ اس کارکن کو ملنے والی اجرت۔ ایک معروف ڈیجیٹل اخبار کی جانب سے انٹرویو کیے گئے کارکنوں نے تسلیم کیا کہ ان کی ماہانہ آمدنی روایتی گھریلو کام کے مقابلے میں بہتر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے چھٹیوں پر سخت پابندیوں، جرمانوں، غیر یقینی وقفوں، طویل اوقات کار اور ایپ کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی تلخ حقیقت کو بھی ظاہر کیا۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ ہنگامی صورت حال میں بھی چھٹی نہیں لے سکتے اور نہ ہی وقت پر کھانا کھا سکتے ہیں۔ ’پلیٹ فارمز‘ معیشت میں ایک مفید معاشی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تلاش کی لاگت کم کرتی ہے، صارفین اور کارکنوں کو تیزی سے جوڑتی ہے، نئی خدمات پیدا کرتی ہے اور غیر رسمی مزدور بازار میں کسی حد تک شفافیت لاتی ہے۔ اس لیے پالیسی کا ردعمل گِگ معیشت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن کارکنوں کو صرف ’پارٹنر‘ کہہ دینے سے جواب دہی پوری نہیں ہو جاتی، خاص طور پر اس وقت جب پلیٹ فارم ہی صارفین تک رسائی، کام کے اوقات، ریٹنگ، جرمانے اور کام کی اہلیت طے کرتا ہو۔

عدم تحفظ کی یہ صورت حال اب ان پیشوں میں بھی نظر آ رہی ہے جنہیں کبھی محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ آئی ٹی شعبے میں بنچ پیریڈ کم کر کے، کارکردگی میں بہتری کے منصوبے، مہارت کی بنیاد پر چھنٹنی اور ’استعفیٰ کی ترغیب‘ کے ذریعے ملازمتیں چھینی جا رہی ہیں۔ وہیں دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی نایاب مہارت رکھنے والے محققین اور انجینئروں کو غیر معمولی تنخواہیں اور اسٹاک آپشنز مل رہے ہیں۔ لیبر مارکیٹ غیر مساوی ہوتا جا رہا ہے۔ یعنی ٹیکنالوجی کے نئے افق پر لامحدود انعامات ہیں، تو دوسری طرف معمول کی کوڈنگ، ٹیسٹنگ اور بیک آفس کے کام میں بھاری غیر یقینی صورت حال ہے۔

یہ واضح اشارہ ہے کہ ہندوستان کو ایسے مستقبل کے لیے تیار ہونا ہوگا جہاں کام تو بہت ہو سکتا ہے، لیکن روایتی ملازمتیں کم رہیں گی۔ روایتی طور پر ملازمت کا مطلب تھا ایک ہی آجر کے ساتھ طویل تعلق، مقررہ تنخواہ، کام کے مقررہ اوقات اور کسی حد تک سماجی تحفظ۔ مستقبل میں کام کا ڈھانچہ تیزی سے پروجیکٹس، اسائنمنٹس، پلیٹ فارمز اور کئی طرح کے قلیل مدتی معاہدوں کی شکل اختیار کرے گا۔ گِگ ورکر اب کوئی چھوٹا طبقہ نہیں رہا۔ افرادی قوت کے ایک بڑے حصہ کے لیے کام کا یہی لچک دار انتظام عام بات بن گیا ہے۔ ایسے لچک دار انتظام سے دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانے والی خواتین، بزرگوں، مہاجرین اور ہنرمند پیشہ ور افراد کو اپنے حالات کے مطابق کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ کاروباری سرگرمی کو فروغ دے گا، لیکن ایک مناسب پالیسی فریم ورک کے بغیر آجر کے لیے جو ’لچک‘ ہے، وہ کارکن کے لیے بھاری ’عدم تحفظ‘ بن سکتا ہے۔

اس لیے ہندوستان کو بیک وقت 2 کام کرنے ہوں گے... پہلا، ایسا ماحول جہاں گِگ اور پلیٹ فارم والی معیشت پھلے پھولے؛ اور دوسرا، ایسا قانونی ڈھانچہ جو اس کام کو ’باعزت‘ بنائے۔ سماجی تحفظ کے فوائد ایسے ہوں کہ آجر یا پلیٹ فارم بدلنے پر بھی کارکن ان فوائد کو آسانی سے اپنے ساتھ لے جا سکے۔ پلیٹ فارمز کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ معاوضہ، ریٹنگ، کام کی تقسیم اور شناخت غیر فعال کرنے کے فیصلے کن بنیادوں پر لیے جاتے ہیں۔ کارکنوں کے لیے آسان شکایت ازالے کا نظام، بروقت ادائیگی اور منمانی برطرفی سے تحفظ ضروری ہے۔ قانون کو کام کی حقیقی لچک کو برقرار رکھنا چاہیے، لیکن ’پارٹنرشپ‘ جیسی اصطلاحات کی آڑ میں آجر کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے فرار کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

اسی تناظر میں ’پلیٹ فارم والی معیشت میں باعزت کام‘ پر بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے کنونشن سے ہندوستان کا دوری اختیار کرنا اچھا اشارہ نہیں ہے۔ آرگنائزیشن کا کنونشن نمبر 193 ایپ پر مبنی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے کام کو ہدف بنانے والا دنیا کا پہلا قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے۔ خبروں کے مطابق ہندوستانی کارکنوں اور آجر نمائندوں نے معاہدے کی حمایت کی، جبکہ سرکاری نمائندے نے ووٹنگ سے دوری اختیار کی۔ حکومت کا یہ موقف تشویش پیدا کرتا ہے، کیونکہ ہندوستان میں گھریلو گِگ افرادی قوت تیزی سے بڑھ رہی ہے، پھر بھی الگوردم کی شفافیت اور کارکنوں کی ازسرنو درجہ بندی پر پابند عالمی معیارات اپنانے میں ہچکچاہٹ دکھائی دے رہی ہے۔

ہندوستان کو بلاشبہ زیادہ سے زیادہ روزگار کی ضرورت ہے۔ پالیسی کا چیلنج کارکنوں کے مفادات کا تحفظ ہے... یعنی یہ یقینی بنانا کہ اسائنمنٹس، معاہدوں اور پلیٹ فارمز پر منحصر ہوتا جا رہا لیبر مارکیٹ کارکنوں کو آمدنی کا تحفظ، سودے بازی کی طاقت اور سماجی تحفظ سے محروم نہ کر دے۔ ورنہ سرکاری ملازمتوں کا یہ ’ویٹنگ روم‘ اسی طرح بھرتا رہے گا۔

(مضمون نگار معروف ماہر اقتصادیات ہیں۔ بشکریہ: دی بلین پریس)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔