فکر و خیالات

مغربی ایشیا: دنیا تصادم کے دہانے پر

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش معیشت اور خوراک کو متاثر کر رہی ہے۔ حل سفارتکاری، جنگ بندی، قانون کی پاسداری اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی میں مضمر ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

مغربی ایشیا اس وقت ایک ایسے تزویراتی موڑ پر ہے جہاں سے اٹھنے والے جنگ کے بادل پوری دنیا کو ایک ہمہ گیر تصادم کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا حالیہ انتباہ کہ "دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے"، عالمی سلامتی کے لیے ایک حتمی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس خطے میں استحکام محض علاقائی ضرورت نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے اندھا دھند حملے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہیں بلکہ ان سے وہ عالمی سپلائی چینز بھی متاثر ہو رہی ہیں جن پر توانائی درآمد کرنے والے ممالک کا انحصار ہے۔ گوتیرش کے مطابق، جب آبنائے ہرمز جیسے حساس راستوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے، تو اس کا براہ راست اثر دنیا کے غریب ترین طبقوں کی سانسوں پر پڑتا ہے۔

Published: undefined

موجودہ بحران کا حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کو اپنی واحد بنیاد تسلیم کرے۔ کسی بھی پائیدار حل کے لیے ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خاص طور پر ایران سمیت تمام فریقین کی جوہری تنصیبات کا تحفظ بنیادی شرط ہے۔ علاوہ ازیں، عالمی قیادت کو تشدد کے فوری خاتمے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کو ترجیح اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنا ہوگا اور عالمی معاشی مفادات کو علاقائی جنگی جنون پر بھینٹ چڑھانے سے روکنا ہوگا۔

قیامِ امن کے لیے سفارتی کوششیں

جنگ کی انتہائی سنگین صورتحال کے پیشِ نظرسفارت کاری محض ایک آپشن نہیں بلکہ عالمی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس صورتحال نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ روایتی بیانات سے ہٹ کر ہنگامی سفارتی مداخلت کا راستہ اختیار کریں۔ لہٰذا، سیکرٹری جنرل گوتیرش نے ژاں آرنو کو اپنا ذاتی ایلچی مقرر کیا ہے تاکہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کی براہ راست قیادت کر سکیں۔

Published: undefined

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا خطرناک ترین موڑ پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کو فوری طور پر بند کریں جو عالمی معیشت اور انسانیت کے لیے زہرِ قاتل بن چکی ہے۔ ایران پڑوسی ممالک (بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن) پر حملے فوری طور پر بند کرے۔

انسانی بحران اور جبری نقل مکانی

انسانی بحران کے اعداد و شمار محض خشک شماریات نہیں بلکہ بکھری ہوئی زندگیوں اور تباہ شدہ مستقبل کے نوحے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر کے مشاہدات اس انسانی المیے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، جہاں لاکھوں لوگ محض اپنی جان بچانے کی خاطر "خالی ہاتھ" ہجرت پر مجبور ہیں۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم نے 10 لاکھ سے زائد لبنانیوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ شہری انفراسٹرکچر کی دانستہ تباہی نے نہ صرف پناہ گاہوں کو ختم کیا ہے بلکہ ایک پوری نسل کو سماجی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ایک لاکھ 80 ہزار شامی شہری، جو پہلے لبنان میں پناہ گزین تھے، اب جنگ کے خوف سے دوبارہ غیر مستحکم شام کی طرف لوٹنے پر مجبور ہیں۔ 25 ہزار لبنانی پناہ گزین سرحد پار کر کے شام میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ جبری نقل مکانی عالمی سطح پر وسائل کی تقسیم اور سماجی استحکام کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے۔

Published: undefined

توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز

عالمی معیشت کی معدنی ایندھن سے جڑی وابستگی اب ایک ماحولیاتی خطرے سے بڑھ کر "قومی سلامتی کا بحران" بن چکی ہے۔ تزویراتی طور پر، یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ توانائی کے لیے ایسے خطوں پر انحصار کرنا جو مستقل مسلح تنازعات کی زد میں ہوں، عالمی معیشت کو خودکشی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اب ایک جنگی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی کشیدگی نے اس راستے کو جہاز رانی کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں عالمی منڈیوں کو لرزا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ سربراہ کے مطابق، توانائی کی منتقلی اب محض ایک "گرین" ایجنڈا نہیں بلکہ ایک "سیکورٹی تقاضہ" ہے۔ دنیا کو اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوائی اور آبی) کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ قومی معیشتوں کو بیرونی جنگی اثرات سے علیحدہ کیا جا سکے۔

Published: undefined

غذائی تحفظ کا بحران

توانائی اور خوراک کا باہمی ربط ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مہلک جال بن چکا ہے۔ جب توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو کھاد، پیداوار اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ براہ راست غریب ترین ممالک کی غذائی سیکورٹی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق، دنیا کے 17 غریب ترین ممالک اس وقت ایک "ناقابلِ حل معاشی شکنجے" میں پھنس چکے ہیں۔ ان ممالک کی اناج کی ضروریات کا 30 فیصد سے زائد حصہ درآمدات پر مبنی ہے، جبکہ ان کی برآمدی آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ صرف خوراک خریدنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ بیرونی قرضوں کے بوجھ نے ان ممالک کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایندھن کی قیمتوں کے اس جھٹکے کو سہنے کی سکت نہیں رکھتے۔

برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تباہ کن سلسلہ جاری ہے اور غریب گھرانے مہنگے ایندھن سے تنگ آکر دوبارہ کوئلے اور لکڑی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ اس عمل سے شدید ماحولیاتی بگاڑ اور صحت کے مسائل جیسے طویل المدتی نقصان ہوں گے ۔

Published: undefined

توانائی کی بچت کے لیے سخت اقدامات

تزویراتی لچک کا تقاضہ ہے کہ ریاستیں بحرانی صورتحال میں اپنی بقا کے لیے فوری اور سخت اقدامات کریں۔ ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک نے اس معاشی جنگ میں زندہ رہنے کے لیے ہنگامی اقدامات اپنائے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ توانائی کی بچت اب ایک قومی سلامتی کی پالیسی بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایتھوپیا، میانمار اور سینیگال جیسے مملاک ایندھن کی بچت اور بقا کے لیے کفایت شعاری مہم اور ایندھن کے محدود و موثر استعمال کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ، ملازمین کی شفٹیں، ٹیکسوں میں کمی اور سبسڈیز کی فراہمی جیسے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔

انتخاب کا وقت: باہمی بقا یا معاشی تباہی

مغربی ایشیا کا یہ تنازع اس حقیقت کا عکاس ہے کہ جدید دور کی جنگیں کسی جغرافیائی قید میں نہیں رہتیں۔ خلیج فارس میں ہونے والی ایک عسکری کارروائی جنوبی ایشیا کے کسان کی لاگت اور افریقہ کے غریب گھرانے کے دسترخوان کا فیصلہ کرتی ہے۔ عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام اور انسانی بقا کا راستہ بین الاقوامی قانون کی غیر مشروط پاسداری میں پنہاں ہے۔ تنازعات کبھی خود بخود ختم نہیں ہوتے؛ ان کا خاتمہ تب ہوتا ہے جب قائدین تباہی کے اوپر مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کا انتخاب سادہ مگر سنگین ہے: یا تو ہم بین الاقوامی چارٹر کے سائے میں مشترکہ بقا کا راستہ اختیار کریں، یا پھر ایک ایسی عالمی معاشی تباہی کے لیے تیار ہو جائیں جس کی قیمت نسلیں چکائیں گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined