فکر و خیالات

اسپیکر صاحب، اپنے منصب کا وقار برقرار رکھیے...کرشن پرتاپ سنگھ

اسپیکر سر، اپنے منصب کا وقار برقرار رکھیے۔ ایوان کی غیر جانبداری ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔ جب فیصلوں میں فرق دکھائی دے تو اداروں پر اعتماد کمزور پڑتا ہے اور پارلیمانی روایت مجروح ہوتی ہے

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا اسپیکر اوم برلا / آئی اے این ایس</p></div>

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا / آئی اے این ایس

 

جب 1952 میں ملک کی پہلی لوک سبھا تشکیل دی گئی تو گنیش واسودیو ماولنکر کو اس کا پہلا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ بہت سے لوگ انہیں احتراماً ’دادا صاحب‘ کہتے تھے، جبکہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو انہیں ’لوک سبھا کا بانی‘ قرار دیتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ کانگریس سے وابستہ تھے اور اس جماعت سے ان کا فطری لگاؤ بھی تھا، لیکن انہوں نے کبھی اس وابستگی کو اسپیکر کے منصب کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ ان کے فیصلوں، ہدایات اور ایوان کی کارروائی چلانے کے انداز میں غیر جانبداری نمایاں رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 27 فروری 1956 کو جب ان کا انتقال ہوا تو وہ ہندوستانی پارلیمانی نظام میں دیانت، شفافیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھنے والے رہنما کے طور پر یاد کیے گئے۔

Published: undefined

ان کا واضح موقف تھا کہ اسپیکر کی حیثیت سے ایوان کے تمام اراکین کے ساتھ، خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، یکساں انصاف برتنا ان کا مقدس فریضہ ہے۔ ایک موقع پر جب انہیں محسوس ہوا کہ نہرو حکومت بار بار آرڈیننس جاری کر کے پارلیمانی عمل کو کمزور کر رہی ہے تو انہوں نے کسی مصلحت کا لحاظ نہیں کیا۔ انہوں نے نہرو کو خط لکھ کر صاف کہا کہ محض وقت کی کمی کو بنیاد بنا کر آرڈیننس لانا غلط روایت ہے اور پارلیمنٹ کو ’ربر اسٹیمپ‘ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یہ جرات اس بات کی علامت تھی کہ وہ عہدے کی غیر جانبداری کو کسی سیاسی تعلق پر ترجیح دیتے تھے۔

انہوں نے پارلیمانی خود مختاری کو مضبوط رکھنے کے لیے لوک سبھا کے آزاد سیکریٹریٹ کے قیام پر بھی زور دیا۔ 18 دسمبر 1954 کو اپوزیشن نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، مگر نہرو نے، اسے بے بنیاد قرار دینے کے باوجود، اپوزیشن کو بحث کے لیے وافر وقت دینے کی وکالت کی۔ یہ اس دور کی سیاسی سنجیدگی اور ادارہ جاتی وقار کا مظہر تھا۔

Published: undefined

اگر ہم آزادی سے پہلے کے زمانے کی طرف دیکھیں تو پورشوتّم داس ٹنڈن 31 جولائی 1937 کو یونائیٹڈ پروونس (موجودہ اتر پردیش) اسمبلی کے پہلے اسپیکر منتخب ہوئے اور 1946 سے 1950 تک بھی اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی غیر جانب داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اپوزیشن نے ان کی کانگریس کی میٹنگوں میں شرکت پر سوال اٹھایا تو انہوں نے ایوان میں اعلان کیا کہ جس دن ایک بھی رکن ان کی غیر جانبداری پر عدم اعتماد ظاہر کرے گا، وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ اس اعلان کے بعد کسی رکن نے اعتراض نہیں دہرایا۔ اصول پسندی اور ثابت قدمی کے باعث انہیں ’راج رشی‘ کا لقب دیا گیا۔

اسی تسلسل میں 1967 تا 1969 کے دوران بہار اسمبلی کے اسپیکر دھنیک لال منڈل کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اس وقت بہار میں سیاسی عدم استحکام عروج پر تھا۔ مہامایا پرساد سنہا کی قیادت میں قائم پہلی غیر کانگریسی مخلوط حکومت نازک اکثریت پر ٹکی ہوئی تھی۔ جنوری 1968 میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے سبب حکومت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔

Published: undefined

سنہا اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے تو خفیہ طور پر منڈل کے پاس پہنچے اور درخواست کی کہ وہ اسپیکر کی حیثیت سے عدم اعتماد پر بحث کی تاریخ کچھ آگے بڑھا دیں تاکہ وہ اس دوران حمایت حاصل کر سکیں۔ مگر منڈل کا جواب دو ٹوک تھا: جب آپ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ آپ کے پاس اکثریت نہیں تو بہتر ہے کہ گورنر کو استعفیٰ پیش کریں۔ سنہا نے ایسا نہیں کیا اور 28 جنوری 1968 کو ان کی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے ختم ہو گئی۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ منصب کی غیر جانب داری اقتدار سے زیادہ اہم ہے۔

ان مثالوں کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے فیصلے مذکورہ روایات کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور جمہوری اقدار کے لیے اندیشے پیدا کرتے ہیں۔

ایک سابق اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اسپیکر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملتے ہیں تو حد درجہ نرم دکھائی دیتے ہیں، مگر اپوزیشن سے گفتگو میں سختی اختیار کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس فرق کی طرف تھا جو بظاہر ایوان کی کارروائی میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

حالیہ بجٹ اجلاس میں اس تاثر کو مزید تقویت ملی۔ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے ملک کی سلامتی کے حوالے سے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے کی کتاب فور اسٹارز آف ڈیسٹنی کا حوالہ دینا چاہا۔ اسپیکر نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ صرف صدر کے خطاب تک محدود رہیں۔ راہل گاندھی نے دلیل دی کہ قومی سلامتی کا مسئلہ خطاب سے الگ نہیں، لیکن اسپیکر نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ حالانکہ ماضی میں وہ خود یہ قرار دے چکے تھے کہ شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران وہ موضوعات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں جو خطاب میں شامل نہ ہوں مگر شامل کیے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب بی جے پی کے رکن نشیکانت دوبے کو نہرو اور گاندھی خاندان پر تنقید کے لیے مختلف کتابوں کا حوالہ دینے کی اجازت دی گئی۔ اس امتیازی سلوک پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا۔

Published: undefined

ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر اعظم مودی صدر کے خطاب پر جواب دینے کے لیے ایوان میں موجود نہ تھے۔ اگلے دن اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے خود وزیر اعظم کو ایوان میں نہ آنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ ان کے ساتھ کوئی “غیر متوقع واقعہ” پیش آ سکتا تھا۔ اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا: یہ اطلاع انہیں کس ذریعے سے ملی؟ کیا کوئی سرکاری کارروائی کی گئی؟ اگر خطرہ تھا تو ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق کیوں چلتی رہی؟

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام وزیر اعظم کو سخت سوالات سے بچانے کے لیے تھا تو یہ اسپیکر کے منصب کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسی طرح 24 جولائی 2024 کو بجٹ بحث کے دوران ترنمول کانگریس کے رکن ابھیشیک بنرجی نے نوٹ بندی کا ذکر کیا تو اسپیکر نے اسے پرانا موضوع قرار دے کر بجٹ تک محدود رہنے کو کہا۔ بنرجی نے جواب دیا کہ جب حکومتی ارکان پچاس برس پرانی ایمرجنسی کا ذکر کرتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، مگر نوٹ بندی کا حوالہ دینے پر روک دیا جاتا ہے۔

Published: undefined

یہ سوال صرف ایک شخص یا ایک جماعت کا نہیں، بلکہ پارلیمانی روایات کے تسلسل کا ہے۔ ماضی کے اسپیکروں نے یہ ثابت کیا کہ منصب کی غیر جانبداری ہی ایوان کی روح ہے۔ اگر اسپیکر کا رویہ کسی ایک فریق کے حق میں جھکتا ہوا محسوس ہو تو ایوان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

آج جب پارلیمانی مباحث زیادہ تلخ اور سیاسی فضا زیادہ منقسم ہو چکی ہے، ایسے میں اسپیکر کے کردار کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ انہیں نہ صرف قواعد کا محافظ ہونا چاہیے بلکہ اس اعتماد کا بھی کہ ہر رکن کو مساوی موقع ملے گا۔ یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔

اسی لیے 24 جولائی 2024 کو ابھیشیک بنرجی کے کہے گئے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں، ’’اسپیکر سر، اپنے عہدے کا مان رکھیے۔‘‘ یہ جملہ دراصل پارلیمانی روایت کی بقا کی اپیل ہے—ایک یاد دہانی کہ ادارے اشخاص سے بڑے ہوتے ہیں اور ان کی غیر جانبداری ہی جمہوریت کو مضبوط رکھتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined