
والد آصف ریاض کے ساتھ مدیحہ آصف
’’مدیحہ بچپن سے ہی ایک ذہین طالبہ رہی ہیں۔ جب وہ پانچویں درجہ میں تھیں تو انھوں نے روانی کے ساتھ انگریزی بولنا سیکھ لیا تھا۔ نویں درجہ میں اس نے کئی مختصر کہانیاں انگریزی زبان میں لکھیں جو کتاب کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ’بریبُک ایپ‘ (BriBook App) پر موجود ہے۔ مدیحہ کی کامیابی میں ان کی والدہ فاخرہ قمر کا بے حد اہم کردار رہا ہے۔‘‘ یہ بیان مدیحہ آصف کے والد اور معروف قلم کار آصف ریاض نے دسویں درجہ کے امتحان میں بیٹی کی نمایاں کارکردگی پر اپنی خوشی ظاہر کرتے ہوئے دیا۔ ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ مدیحہ کی اس کامیابی میں چاچا اور ماما کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، ساتھ ہی دادی اور نانا-نانی کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
Published: undefined
مدیحہ آصف دہلی کے تاریخی شاہین باغ علاقہ میں رہتی ہیں اور میٹرک کا امتحان رواں سال مدن پور کھادر (نئی دہلی) واقع ’اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلنس‘ سے دیا، جو کہ ’دہلی بورڈ آف اسکول ایجوکیشن‘ (ڈی بی ایس ای) کے ماتحت ہے۔ یہ اسکول اب ’سی ایم شری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ 16 مئی کو جب مدیحہ کا ریزلٹ آیا تو اہل خانہ کی خوشی کی انتہا نہیں رہی، کیونکہ اس نے 95.6 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ ہندی، انگریزی اور سوشل سائنس میں 96-96 نمبر، جبکہ ’سسٹمز اینڈ سوسائٹیز‘ اور ’ورلڈ آف ورک‘ (دونوں اسپیشلائزڈ سبجیکٹس) میں 95-95 نمبر حاصل ہوئے۔ بقیہ 3 موضوعات (ریاضی، سائنس اور انٹریپرینیوریل مائنڈ سیٹ اینڈ ڈیجیٹل ڈیزائن) میں بھی انھوں نے ڈسٹنکشن حاصل کیا۔ میٹرک کا نتیجہ برآمد ہوتے ہی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، اور پھر دوست و احباب کے ساتھ ساتھ ہم جماعت طلبا و طالبات اور اساتذہ کی مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
Published: undefined
’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے مدیحہ آصف نے اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ ’’مجھے 95 فیصد سے زائد نمبر کی پوری امید تھی، کیونکہ سبھی امتحانات اچھے گئے تھے۔‘‘ اپنی کامیابی کا سہرا مدیحہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے سر باندھتی ہیں جنھوں نے گھر میں خوشگوار ماحول فراہم کیا، جو پڑھائی میں معاون ثابت ہوا۔ خاص طور سے مدیحہ نے اپنے والد آصف ریاض کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بچپن سے انھوں نے مجھے انگریزی پڑھایا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ انگریزی میڈیم تعلیم میں کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘‘ جب مدیحہ سے سوال کیا گیا کہ وہ اب آگے کیا کرنا چاہتی ہیں؟ تو وہ کہتی ہیں ’’مجھے ڈاکٹر بننا ہے، اس لیے نیٹ (NEET) کی تیاری کا ارادہ ہے۔ یہ تیاری جلد ہی شروع کر دوں گی تاکہ بارہویں کا امتحان پاس کرتے ہی اپنی خواہش کی تکمیل کی طرف قدم بڑھا سکوں۔‘‘
Published: undefined
مدیحہ کی کامیابی پر اس کی استاد زیبا عباس بہت مسرور نظر آتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ بچی ہمیشہ سے ذہین تھی اور سبھی سبجیکٹس میں اچھے نمبر حاصل کرتی تھی۔ زیبا عباس ’اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلنس‘ میں ہندی کی ٹیچر تھیں، جو اب سبکدوش ہو چکی ہیں۔ انھوں نے مدیحہ کو نویں درجہ میں پڑھایا تھا اور اس کے اندر ادبی صلاحیت کو محسوس کیا تھا۔ جب انھیں بتایا گیا کہ مدیحہ ’نیٹ‘ کی تیاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’’وہ لٹریچر میں بہت اچھا کر سکتی تھی، لیکن اگر اس نے ڈاکٹر بننے کا ارادہ کیا ہے تو یہ بھی بہت اچھی بات ہے۔ بچی بہت محنتی ہے، اگر اس نے نیٹ کی تیاری کرنے کا سوچا ہے تو ضرور کامیاب ہوگی۔‘‘ بات چیت کے دوران وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ مدیحہ اسکول میں تعلیمی سرگرمیوں میں تو پیش پیش رہتی ہی تھیں، ثقافتی پروگراموں اور تحریری مقابلوں میں بھی نمایاں کارکردگی انجام دیتی تھیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مدیحہ نے ابتدائی تعلیم ’رحیق گلوبل اسکول‘ (شاہین باغ) میں حاصل کی اور درجہ 6 سے 8 تک کی پڑھائی ’شاہین پبلک اسکول‘ میں کی۔ مدیحہ کی والدہ فاخرہ قمر نے اپنی بیٹی کی ذہانت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بیشتر درجات میں اس نے ٹاپ-3 پوزیشن حاصل کی۔ رحیق گلوبل اسکول میں ٹرافی اور سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کا سلسلہ جو اس نے شروع کیا تو اب تک جاری ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مدیحہ اسی طرح کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی جائے اور تعلیمی سفر میں سرخروئی حاصل کرے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ پانچویں درجہ تک تو پڑھائی میں بیٹی کی مدد کیا کرتی تھیں، لیکن اس کے بعد مدیحہ نے بغیر ٹیوشن خود سے ہی پڑھائی کر اچھے نمبر لاتی رہی۔ نویں اور دسویں درجہ میں ٹیوشن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو ’نیورون اکیڈمی‘ میں نام لکھایا گیا۔
Published: undefined
مدیحہ آصف کے والدین اور ان کی سابقہ ٹیچر زیبا عباس کی باتوں سے صاف جھلکتا ہے کہ وہ بچپن سے ہی ذہین رہی ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ ’نیورون اکیڈمی‘ نے اپنے یہاں زیر تعلیم بہتر کارکردگی پیش کرنے والے طلبا و طالبات کی جو لسٹ جاری کی ہے، اس میں مدیحہ کو پہلا مقام حاصل ہے۔ بات چیت کے دوران مدیحہ نے یہ بھی بتایا کہ ’اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلنس‘ کی مکمل لسٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے، اور وہاں بھی وہ ’ٹاپ-5‘ میں آنے کی امید رکھتی ہیں۔ مدیحہ ’نیورون اکیڈمی‘ کی بھی تعریف کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ یہاں یاسر پرویز سر اور عاطف سر جیسے اساتذہ سے بہت فائدہ پہنچا۔ یہ ایسے اساتذہ ہیں، جنھوں نے نہ صرف بہتر انداز میں تعلیم دی بلکہ مشکل سوالات کے جواب بھی بہت آسان انداز میں پیش کیے۔
Published: undefined
بہرحال، عصری تعلیم میں مدیحہ آصف کی کامیابی کا جشن تو دوست و احباب منا رہے ہیں، لیکن یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ مدیحہ نے 3 پارے حفظ بھی کر رکھے ہیں۔ یعنی وہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس خوشی کے موقع پر گھر والے مدیحہ کی دین اور دنیا دونوں میں ہی کامیابی کے لیے دعا گو نظر آتے ہیں۔ آصف ریاض اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوش تو ہیں ہی، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اور وہ بیٹی کو یہ پیغام بھی دیتے نظر آتے ہیں کہ:
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined