فکر و خیالات

کیرالہ کے سرکاری اعداد اور لو جہاد کا بیانیہ: حقیقت کیا ہے؟...آکار پٹیل

کیرالہ میں مذہبی تبدیلیٔ مذہب کے سرکاری اعداد و شمار لو جہاد کے دعووں کی تردید کرتے ہیں۔ حکومتِ ہند بھی پارلیمان میں ایسے کسی رجحان کی موجودگی سے انکار کر چکی ہے، مگر بیانیہ اب بھی زندہ ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

ملک میں کچھ ایسے موضوعات ہیں جن پر غیر معمولی بے چینی پیدا کر دی جاتی ہے، اور کچھ ایسی خبریں بھی ہوتی ہیں جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری توجہ اکثر ان موضوعات پر مرکوز رہتی ہے جنہیں میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں جذباتی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ ’آبادیاتی تبدیلی‘ اور ’لو جہاد‘ جیسے موضوعات اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار ہمارے خدشات کی تائید نہیں کرتے مگر جب بیانیہ مضبوط ہو تو پھر حقائق کی اہمیت ثانوی ہو جاتی ہے۔

’دی نیوز منٹ‘ نے حال ہی میں کیرالہ میں تبدیلیٔ مذہب سے متعلق تازہ اعداد و شمار شائع کیے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں کے ہائی کورٹ نے دسمبر 2009 میں ایک فیصلے میں یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ خوش حال گھرانوں کی ذہین اعلیٰ ذات ہندو اور عیسائی لڑکیوں کو پھانسنے کا کوئی منصوبہ ہو سکتا ہے۔ جج نے خود تسلیم کیا تھا کہ ان کے پاس اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں مگر اسی تبصرے نے ’لو جہاد‘ کے نظریے کو جنم دیا، جو آج تک مختلف شکلوں میں گردش کر رہا ہے۔

Published: undefined

کیرالہ کا قانون ہر تبدیلیٔ مذہب کو سرکاری طور پر درج کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ 2024 کے اعداد کے مطابق ریاست میں کل 963 افراد نے مذہب تبدیل کیا۔ ان میں 543 خواتین اور 420 مرد شامل تھے۔ ہندو مذہب اختیار کرنے والوں کی تعداد 365 تھی، جن میں 329 پہلے عیسائی اور 36 مسلمان تھے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد 343 رہی، جن میں 276 پہلے ہندو اور 67 عیسائی تھے۔ عیسائیت اختیار کرنے والوں کی تعداد 255 تھی، جن میں 234 پہلے ہندو اور 23 مسلمان تھے۔

ان اعداد و شمار سے کسی منظم سازش یا ’لو جہاد‘ جیسے تصور کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ جو لوگ عرصے سے ان رجحانات کا جائزہ لے رہے ہیں، ان کے لیے یہ نتائج حیران کن نہیں۔ چند برس قبل شائع ہونے والی کتاب ’آور ہندو راشٹر‘ میں ماضی کے اعداد کا تجزیہ کرتے ہوئے پہلے بھی اسی نوعیت کے نتائج پیش کیے جا چکے ہیں

Published: undefined

7 مارچ 2017 کو ملیالم منورما نے کوژیکوڈ کی ایک غیر منافع بخش تنظیم (میڈیا ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن) کی تحقیق شائع کی۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوری 2011 سے دسمبر 2017 کے درمیان کیرالہ میں مذہب تبدیل کرنے والوں میں سے 60 فیصد نے ہندو مذہب اختیار کیا۔ سرکاری گزٹ میں ناموں کی تبدیلی کے ریکارڈ کے مطابق سات برسوں میں 8,334 افراد نے مذہب تبدیل کیا۔ ان میں سے 4,968 نے ہندو مذہب اپنایا، جن میں 4,756 عیسائی اور 212 مسلمان تھے۔ مجموعی طور پر 2,244 خواتین اور 2,724 مرد اس عرصے میں مذہب تبدیل کرنے والوں میں شامل تھے۔

اسی عرصے میں 1,864 افراد نے اسلام قبول کیا، جن میں 78 فیصد پہلے ہندو تھے۔ یہاں بھی مرد اور خواتین کی تعداد تقریباً برابر رہی۔ عیسائیت اختیار کرنے والوں کی تعداد 1,496 تھی، جن میں 95 فیصد پہلے ہندو تھے۔ ان میں 720 خواتین اور 776 مرد شامل تھے۔ چھ افراد نے بدھ مت اختیار کیا، جن میں پانچ پہلے ہندو اور ایک عیسائی تھا، جب کہ مجموعی طور پر دو خواتین اور چار مرد اس فہرست میں شامل تھے۔

Published: undefined

اس سے قبل 15 جولائی 2016 کو ایک اخبار نے محکمہ انٹیلی جنس کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ کیرالہ میں 5 سال کے دوران 2011 سے 2015 تک 5,793 افراد نے مذہب اسلام قبول کیا، جن میں تقریباً نصف مرد اور نصف خواتین تھیں اور 4,719 پہلے ہندو اور 1,074 عیسائی تھے۔

یہ اعداد ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں، تبدیلیٔ مذہب کا رجحان متنوع اور دو طرفہ ہے، نہ کہ کسی ایک سمت میں بہنے والا منظم عمل۔ اس کے باوجود واٹس ایپ گروپس میں ایسے افراد موجود ہیں جو سرکاری اعداد کو بھی فرضی قرار دینے پر آمادہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے 4 فروری 2020 کو لوک سبھا میں پیش آنے والا واقعہ قابلِ غور ہے۔

Published: undefined

کانگریس کے رکن پارلیمان بینی بہنان نے وزارتِ داخلہ سے پوچھا کہ آیا حکومت کے علم میں ’لو جہاد‘ کے کوئی واقعات ہیں؟ اگر ہیں تو ان کی تفصیلات کیا ہیں؟ وزارت کا تحریری جواب واضح تھا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے، بشرطیکہ امنِ عامہ، اخلاقیات اور صحت عامہ متاثر نہ ہوں۔ مختلف عدالتیں، بشمول کیرالہ ہائی کورٹ، اس اصول کی توثیق کر چکی ہیں۔ مزید یہ کہ ’لو جہاد‘ کی اصطلاح موجودہ قوانین میں متعین نہیں اور کسی مرکزی ایجنسی نے ایسا کوئی معاملہ رپورٹ نہیں کیا۔

سوال یہ ہے کہ جب حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ ’لو جہاد‘ نام کی کوئی قانونی یا مصدقہ حقیقت موجود نہیں اور جب اعداد و شمار بھی اس بیانیے کی تردید کرتے ہیں، تو پھر یہ موضوع اتنی شدت سے کیوں زیرِ بحث رہتا ہے؟

Published: undefined

اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی وجہ یہ کہ حقیقی مسائل اور ناکامیاں اس بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتیں جو ایک نئی اور مضبوط قوم کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اگر قومی سلامتی کے دعووں کے برعکس کسی حالیہ واقعے میں امریکہ نے ایک ہندوستانی شہری کو گرفتار کر کے سزا دی ہو، یا اگر کسی سیاسی جماعت اور اس کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کمزور مقدمہ دائر کر کے انہیں قید کیا گیا ہو، تو یہ سب دعووں کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں توجہ کسی اور سمت موڑ دینا آسان حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندوتوا کا بیانیہ اس قدر قبولیت حاصل کر چکا ہے کہ اعداد و شمار بھی اس کی گرفت کمزور نہیں کر پاتے۔ یہاں تک کہ جب پارلیمان میں حکومت تسلیم کرے کہ ’لو جہاد‘ کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، تب بھی 2018 کے بعد سات ریاستوں میں ایسے قوانین منظور کیے گئے جن کا مقصد اسی تصور سے نمٹنا بتایا گیا۔ یوں ایک غیر ثابت شدہ دعویٰ قانون سازی کی بنیاد بن گیا۔

Published: undefined

تازہ اعداد ان لوگوں کے لیے اطمینان کا باعث ہو سکتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خوف اور سازش کے بیانیے پر مبنی سیاست ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ کچھ افراد، جو اب تک اس دعوے کو درست سمجھتے رہے مگر معلومات کی بنیاد پر رائے بدلنے کو تیار ہیں، شاید ان اعداد پر غور کریں۔ تاہم ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو سازشی نظریات کو اپنی شناخت کا حصہ بنا چکا ہے؛ ان کے لیے حقائق شاید کوئی معنی نہ رکھیں۔

بالآخر سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ جذباتی نعروں کے بجائے مستند معلومات پر انحصار کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر اعداد و شمار خواہ کچھ بھی کہتے رہیں، شور کم نہیں ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined