
یومِ جنگلی حیات
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سات جولائی صرف ایک یادگاری تاریخ نہیں بلکہ ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں قومی سوچ کی ابتدا کی علامت بھی ہے۔ سات جولائی 1955 کو پہلی مرتبہ ملک بھر میں یومِ جنگلی حیات منایا گیا۔ اس دن کا مقصد صرف جنگلی جانوروں کی اہمیت اجاگر کرنا نہیں تھا بلکہ عوام میں یہ شعور پیدا کرنا بھی تھا کہ قدرتی ماحول، جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ انسانی زندگی، زراعت، آبی وسائل اور موسمی توازن سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان کو بے شمار معاشی اور سماجی چیلنجوں کا سامنا تھا۔ ملک میں خوراک کی کمی، صنعت کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، بڑے آبی منصوبوں اور زرعی ترقی کو اولین ترجیح دی جا رہی تھی۔ ان منصوبوں نے اگرچہ ترقی کی نئی راہیں کھولیں، لیکن دوسری جانب جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، بے قابو شکار اور قدرتی مسکن کی تباہی کے باعث متعدد جنگلی جانوروں کی تعداد میں تیزی سے کمی آنے لگی۔ اس صورتحال نے ماہرین اور حکومتی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
Published: undefined
اس دور میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا نقطۂ نظر خاص اہمیت رکھتا تھا۔ نہرو جدید سائنس، صنعت اور ترقی کے مضبوط حامی تھے، لیکن وہ اس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ ترقی کا عمل فطرت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ جنگلات، دریا، پہاڑ اور جنگلی حیات کسی بھی قوم کی قدرتی دولت ہوتے ہیں اور ان کا تحفظ مستقبل کی نسلوں کے لیے ناگزیر ہے۔ یہی سوچ بعد میں ہندوستان کی ابتدائی ماحولیاتی پالیسیوں کی بنیاد بنی۔
انہی حالات کے پیش نظر ہندوستانی جنگلی حیات بورڈ نے ملک گیر عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کی سفارش پر سات جولائی 1955 کو پہلی مرتبہ یومِ جنگلی حیات منایا گیا۔ اس موقع پر عوام کو بتایا گیا کہ جنگلی جانور محض جنگلوں کی زینت نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ اگر جنگلی حیات ختم ہو جائے تو جنگلات کا قدرتی توازن بھی متاثر ہوگا، جس کے اثرات پانی، آب و ہوا، زراعت اور انسانی زندگی تک پہنچیں گے۔
Published: undefined
وقت گزرنے کے ساتھ اس سوچ کو مزید وسعت ملی۔ حکومت نے جنگلی حیات کے تحفظ کو محض آگاہی تک محدود رکھنے کے بجائے قانونی اور انتظامی اقدامات بھی شروع کیے۔ اس سلسلے میں 1972 میں جنگلی حیات تحفظ قانون نافذ کیا گیا، جس کے ذریعے غیر قانونی شکار، جانوروں کی اسمگلنگ اور نایاب انواع کی تجارت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس قانون کو ہندوستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کی سمت ایک سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد 1973 میں پروجیکٹ ٹائیگر کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں تیزی سے کم ہوتی شیروں کی تعداد کو بچانا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مختلف ریاستوں میں محفوظ جنگلات اور ٹائیگر ریزرو قائم کیے گئے۔ مسلسل سرکاری اقدامات، سائنسی نگرانی اور مقامی آبادی کی شمولیت کے نتیجے میں ہندوستان آج دنیا میں سب سے زیادہ شیروں والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جسے عالمی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک بڑی کامیابی مانا جاتا ہے۔
Published: undefined
اگرچہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ جنگلات کی مسلسل کٹائی، شہروں کا پھیلاؤ، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے باعث قدرتی مسکن سکڑ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی نایاب جانور اور پرندے اب بھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں، جن کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔
سات جولائی کی تاریخی اہمیت اس لیے بھی برقرار ہے کہ اس دن نے آزاد ہندوستان کو یہ احساس دلایا تھا کہ معاشی ترقی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ تکمیل سمجھا جانا چاہیے۔ یہی سوچ آنے والے برسوں میں ملک کی جنگلی حیات اور ماحولیات سے متعلق متعدد پالیسیوں کی بنیاد بنی۔ آج بھی یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی سرسبز جنگلات اور متنوع جنگلی حیات سے بھرپور ہندوستان دیکھ سکیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined