رکن پارلیمنٹ فنڈ: 11 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ، لیکن خرچ ہوئے محض 30 فیصد، 54 اراکین پارلیمنٹ نے کیا حیران!
پورے ملک (دونوں ایوانوں) کی بات کریں تو 29,964 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں (جن کا مجموعی خرچ 1,657.9 کروڑ روپے ہے)، لیکن 57,257 منصوبے اب بھی زیر التوا ہیں۔
ہندوستان میں مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کو رفتار دینے کے لیے 1993 میں ’رکن پارلیمنٹ مقامی علاقہ ترقیاتی منصوبہ‘ (ایم پی ایل اے ڈی ایس) شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبہ کے تحت ملک کے ہر منتخب رکن پارلیمنٹ کو اپنے حلقہ کی بنیادی ضروریات اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہر سال 5 کروڑ روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے۔ قواعد واضح ہیں، یہ رقم صرف عوامی اثاثوں کی تعمیر، سرکاری زمین پر اور سرکاری کنٹرول والے اداروں کے لیے ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ 12-2011 سے ہر رکن پارلیمنٹ کے لیے یہ رقم سالانہ 5 کروڑ روپے مقرر ہے۔ لیکن کیا ہمارے اراکین پارلیمنٹ اس بھاری بھرکم فنڈ کا صحیح استعمال کر رہے ہیں؟ حالیہ اعداد و شمار جو کہانی بیان کرتے ہیں، وہ کافی مایوس کن ہیں۔
18ویں لوک سبھا (29-2024) اور راجیہ سبھا کے مجموعی طور پر 745 اراکین پارلیمنٹ کے لیے نظام میں کل مختص رقم 11,544 کروڑ روپے ہے۔ لیکن اس بھاری بجٹ میں سے اب تک پورے ملک میں صرف 3,539.8 کروڑ روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مجموعی مختص فنڈ کا صرف 30.7 فیصد حصہ ہی ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18ویں لوک سبھا (27 مئی 2026 تک) کے تمام 543 موجودہ اراکین کے لیے منصوبے کے تحت مجموعی 8,265 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزارت شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ نے اب تک مجموعی طور پر 88,790 عوامی کاموں کی سفارش کی ہے، جن کی مالیت تقریباً 4,787 کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے 67,524 کاموں کو منظوری دی گئی ہے (جن کی مالیت 3,547 کروڑ روپے ہے)، لیکن صرف 21,807 کام ہی مکمل ہو سکے ہیں (جن کی مالیت 1,047 کروڑ روپے ہے)۔ پورے ملک (دونوں ایوانوں) کی بات کریں تو 29,964 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں (جن کا مجموعی خرچ 1,657.9 کروڑ روپے ہے)، لیکن 57,257 منصوبے اب بھی زیر التوا ہیں۔ اس کے علاوہ 1,881.9 کروڑ روپے ان نامکمل کاموں پر خرچ ہو چکے ہیں جن کی ادائیگی تو کر دی گئی ہے، لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔
’ایمپاورڈ انڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے اراکین پارلیمنٹ نے فنڈ کا سب سے بہتر استعمال کیا ہے۔ ناگالینڈ پورے ملک میں سرفہرست ہے، جہاں مختص رقم کا 82.3 فیصد حصہ (35.4 کروڑ میں سے 29.1 کروڑ روپے) خرچ کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد میزورم 73.8 فیصد (31.9 کروڑ میں سے 23.5 کروڑ روپے) کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ سرفہرست 5 میں میگھالیہ (63.9 فیصد)، سکم (63.3 فیصد) اور اروناچل پردیش (62.8 فیصد) بھی شامل ہیں۔
بڑی ریاستوں کی صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اتر پردیش نے اپنے فنڈ کا 45.8 فیصد استعمال کیا ہے (1,776.7 کروڑ میں سے 814.6 کروڑ روپے خرچ کیے گئے)، جبکہ جھارکھنڈ نے 42.4 فیصد، بہار نے 39.7 فیصد، پنجاب نے 38.3 فیصد اور مدھیہ پردیش نے 37.3 فیصد فنڈ خرچ کیا ہے۔ سب سے نچلے درجے والی بڑی ریاستوں میں اڈیشہ (13.2 فیصد)، مہاراشٹر (17.3 فیصد) اور کیرالہ (17.3 فیصد) شامل ہیں۔ سب سے خراب کارکردگی مرکز کے زیر انتظام خطوں کی رہی ہے۔ دادر-نگر حویلی اور دمن و دیو میں فنڈ کا استعمال صفر فیصد رہا (39.2 کروڑ روپے کے فنڈ میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا)۔ لداخ نے محض 3.7 فیصد، انڈمان و نکوبار نے 6.9 فیصد، جبکہ ملک کی راجدھانی دہلی اور چنڈی گڑھ نے صرف 9.5 فیصد فنڈ استعمال کیا ہے۔
انفرادی کارکردگی کی بات کریں تو انتہائی حیرت انگیز اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 54 اراکین پارلیمنٹ نے اپنے فنڈ سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، جبکہ کئی سرکردہ اراکین پارلیمنٹ کا خرچ ایک فیصد سے بھی کم رہا۔ ایمپاورڈ انڈین کی رپورٹ کے مطابق:
سکندرآباد سے رکن پارلیمنٹ جی کشن ریڈی کو 14.7 کروڑ روپے کا فنڈ ملا، لیکن انہوں نے صرف 4 لاکھ روپے (0.3 فیصد) خرچ کیے۔
کلیان سے رکن پارلیمنٹ شری کانت ایکناتھ شندے نے 14.7 کروڑ روپے میں سے صرف 3.25 لاکھ روپے (0.2 فیصد) خرچ کیے۔
جودھ پور سے رکن پارلیمنٹ گجیندر سنگھ شیخاوت نے 14.7 کروڑ روپے میں سے صرف 4.91 لاکھ روپے (0.3 فیصد) خرچ کیے۔
بلڈھانہ سے پرتاپ راؤ جادھو (0.8 فیصد) اور ہریانہ سے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کارتکے شرما (0.6 فیصد) کی کارکردگی بھی انتہائی خراب رہی۔
اس کے برعکس کچھ اراکین پارلیمنٹ نے اپنے حلقوں میں 80 فیصد سے زیادہ فنڈ خرچ کیا ہے۔ ان میں اتر پردیش کے ارون کمار ساگر (87.3 فیصد)، متھلیش کمار (87.1 فیصد)، گیتا عرف چندرپربھا (85.5 فیصد) اور جاوید علی خان (81.1 فیصد) شامل ہیں۔ میزورم کے ون لال وینا (84.7 فیصد) اور ناگالینڈ کی ایس فانگنون کونیاک (84.0 فیصد) بھی سرفہرست کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اس منصوبہ کے تحت 12 زمروں میں 112 قسم کے کاموں کی اجازت ہے۔ اس کے باوجود اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 71 فیصد کام صرف 3 اہم شعبوں تک محدود رہے۔
بجلی: سب سے زیادہ 23,440 سفارشات (26.4 فیصد) صرف توانائی کے شعبہ میں کی گئیں، جن میں بیشتر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے متعلق ہیں۔
سڑکیں اور پل: 21,475 کاموں (24.2 فیصد) کے ساتھ سڑکیں دوسرے نمبر پر رہیں۔
کمیونٹی عمارتیں: 17,921 کاموں (20.2 فیصد) کے ساتھ یہ تیسرے نمبر پر ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسٹریٹ لائٹس، سڑکوں کی مرمت اور کمیونٹی عمارتیں ایسے کام ہیں جو سب سے زیادہ نظر آتے ہیں اور جن پر رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ آسانی سے اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔ اسی لیے ان پر زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی بڑی آبادی زراعت پر منحصر ہے، اس کے باوجود فصلوں کے تحفظ اور تربیتی مراکز جیسے کاموں کے لیے پورے ملک میں صرف 37 سفارشات کی گئیں۔ عوامی صحت کے لیے صرف 1,322 کاموں (1.5 فیصد) کی سفارش کی گئی، جن کا مجموعی خرچ 120 کروڑ روپے ہے۔ پینے کے پانی اور صفائی کے زمرے میں 10,702 کاموں میں سے 63.5 فیصد رقم ٹیوب ویل، ہینڈ پمپ اور موبائل واٹر ٹینکر جیسی عارضی سہولیات پر خرچ کی گئیں، جبکہ طویل مدتی پائپ لائن منصوبے پس منظر میں چلے گئے۔
بہرحال، 8,265 کروڑ روپے کی مختص رقم اور 2,192 کروڑ روپے کے خرچ کے درمیان موجود بڑا فرق کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کاغذوں پر ایم پی لیڈس منصوبے کا ڈھانچہ بہت مضبوط نظر آتا ہے، جس میں تھرڈ پارٹی جائزہ، باقاعدہ نظرثانی اور آر ٹی آئی کی پابندی شامل ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ صحت اور زراعت جیسے شعبے اب بھی فنڈ کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ فرق اراکین پارلیمنٹ کے حقیقی ارادوں اور عوام تک پہنچنے والی سہولتوں کے درمیان کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
