چین کا فائدہ، ہندوستان دیکھتا رہ گیا!

طارق رحمن کا پہلا دورۂ چین اور اہم بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹس کا چین کو سونپا جانا مقامی ٹرانزٹ انحصار کو ہندوستانی نیٹورک سے دور کرنے کی بنگلہ دیش کی وسیع پالیسی پر مبنی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>چینی صدر شی جنپنگ اور بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمن، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/bdbnp78">@bdbnp78</a></p></div>
i

ڈھاکہ سے فیض محمود اور کولکاتا سے سوربھ سین کی رپورٹ

بنگلہ دیش کے تئیں ہندوستان کی پالیسی مجموعی طور پر صرف اپنی داخلی تشویش تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مثلاً غیر قانونی تارکین وطن کو واپس دھکیلنا یا سرحد پر جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا خوف پیدا کرنا۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کا واحد مقصد مغربی بنگال میں اکثریتی ووٹوں کو پولرائز کرنا اور انہیں اپنے حق میں کرنا ہے۔ اس دوران بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ ملک کا معاشی مستقبل کہاں دیکھتی ہے۔ وزیر اعظم طارق رحمن کے حالیہ دورۂ بیجنگ، جو وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا، میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاہدوں کی بھرمار دیکھنے کو ملی۔

یہاں ایک اور بھی اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ اس دورے نے ان 3 منصوبوں کو دوبارہ زندہ کر دیا جو برسوں سے التوا کا شکار تھے... مونگلا بندرگاہ پر چین کے تعاون سے اقتصادی زون، طویل عرصہ سے زیر التوا تیستا ندی کے انتظام و بحالی کا منصوبہ، اور مجوزہ چین-میانمار-بنگلہ دیش اقتصادی راہداری۔ یہ سب مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی چین پر مبنی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دہائیوں تک بنگلہ دیش کے بیرونی تعلقات بنیادی طور پر امداد، تجارتی ترجیحات اور ترقیاتی شراکت داریوں سے تشکیل پاتے رہے۔ آج اس کی خواہشات بالکل مختلف ہیں۔ نچلے متوسط آمدنی والے ممالک کی دہلیز عبور کرنے اور 2029 میں اقوام متحدہ کی کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست سے باہر نکلنے کی تیاری کے ساتھ ڈھاکہ تیزی سے ایسے بیرونی تعلقات کی تلاش میں ہے جو صنعتی سرمایہ کاری، جدید بنیادی ڈھانچہ اور ایشیائی سپلائی چینز میں گہرا انضمام فراہم کر سکیں۔


اسی مقصد نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ کے ساتھ طارق رحمن کی بات چیت کا خاکہ تشکیل دیا۔ دونوں حکومتوں نے اپنے باہمی تعلقات کو اس سطح تک بلند کیا جسے بیجنگ نے ’مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین-بنگلہ دیش برادری‘ قرار دیا۔ دونوں حکومتوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کی توثیق کی اور ان منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جنہیں بنگلہ دیش اپنی اقتصادی ترقی کے اگلے مرحلہ کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مونگلا ہے، جو بنگلہ دیش کی دوسری سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ جنوب مغرب میں واقع اس کی اسٹریٹجک حیثیت کے باوجود، یہ طویل عرصہ تک ملک کی مصروف ترین بندرگاہ چٹگانگ کے سایہ تلے دبی رہی۔ گزشتہ دہائی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے اس کی جہاز رانی کی صلاحیت بہتر بنائی، مال برداری کی گنجائش میں اضافہ کیا اور پدما پل اور اس سے متعلقہ نقل و حمل کے نیٹ ورک کے ذریعہ سڑک اور ریل رابطے کو مضبوط کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک بڑا صنعتی مرکز نہیں بن سکی۔

اس مسئلہ کے حل کے طور پر حکومت کا منصوبہ ہے کہ چینی شراکت داری کے ساتھ بندرگاہ کے قریب ایک برآمدات پر مبنی اقتصادی زون تیار کیا جائے، تاکہ مونگلا کو محض ایک سمندری دروازے کے بجائے مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کے ایک مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔ حکام کو امید ہے کہ اس اقدام سے علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے والی فیکٹریاں یہاں آئیں گی، ساتھ ہی گوداموں، نقل و حمل، جہاز سازی اور معاون صنعتوں میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ بنگلہ دیش کی صنعتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو خود ایک مقصد سمجھنے کے بجائے، حکومت بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریلوے کو ایسے صنعتی ماحولیاتی نظام کی بنیاد کے طور پر دیکھتی ہے جو روزگار پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


یہی بات تیستا ندی منصوبے کے حوالے سے پیدا ہونے والی نئی عجلت کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے پالیسی ساز بنگلہ دیش کی چوتھی سب سے بڑی ندی کے کنارے وسیع پیمانے پر مداخلت پر غور کرتے رہے ہیں۔ یہ تجاویز صرف ڈریجنگ یا بند باندھنے تک محدود نہیں ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ندی کی بحالی، سیلاب سے تحفظ، آبپاشی کی جدید کاری، شہری ترقی اور اراضی کی بہتری کے ذریعے شمالی بنگلہ دیش کے معاشی جغرافیے کو نئی شکل دینا ہے۔ حکام کا استدلال ہے کہ خشک موسم میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے ساتھ موسمی سیلاب پر قابو پانے سے کئی اضلاع میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بڑے دریائی نظاموں کی جدید کاری کو صرف ماحولیاتی انتظام کے طور پر نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت اور طویل مدتی ترقی میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بیجنگ سے واپسی کے بعد طارق رحمن کا یہ اعلان کہ تیستا منصوبہ ’کسی تاخیر کے بغیر‘ آگے بڑھایا جائے گا، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ منصوبہ بندی سے عمل درآمد کی طرف بڑھنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس دورے کا تیسرا ستون رابطہ کاری ہے۔ بنگلہ دیش اور چین نے مشرقی خلیج بنگال میں نقل و حمل اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے مقصد سے چین-میانمار-بنگلہ دیش اقتصادی راہداری کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے تعاون کا اعادہ کیا۔ یہ تجویز جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان ایک لاجسٹک پل بننے کی بنگلہ دیش کی پرانی خواہش کو عملی جامہ پہناتی ہے۔ بہتر سڑک، ریل اور سمندری رابطے سے نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی، ترسیل کا وقت گھٹے گا اور بنگلہ دیشی صنعت کار علاقائی پیداواری نیٹورک میں زیادہ گہرائی سے شامل ہو سکیں گے۔ یہ مقصد اس لیے بھی تیزی سے اہم ہو گیا ہے کیونکہ بنگلہ دیش ملبوسات کی صنعت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی تنوع چاہتا ہے، اگرچہ گارمنٹ صنعت اب بھی ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے۔ ڈھاکہ کا پیغام واضح ہے کہ چین ان چند شراکت داروں میں شامل ہے جو یہ تینوں چیزیں بیک وقت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


ہندوستان کے نقطۂ نظر سے مونگلا بندرگاہ کی ترقی (اگرچہ اس سے کولکاتا اور ہلدیا کے تجارتی مفادات فوری طور پر متاثر نہ ہوں) علاقائی تجارتی توازن کو بدل دے گی اور سنگین اسٹریٹجک و سلامتی کے خدشات پیدا کرے گی۔ یہ خلیج بنگال میں براہ راست سمندری مسابقت کا آغاز کرے گی، جبکہ شیاما پرساد مکھرجی پورٹ (کولکاتا اور ہلدیا) کی بنیادی اہمیت ہندوستان کے مشرقی اندرونی علاقوں، شمال مشرقی ریاستوں اور نیپال و بھوٹان جیسے خشکی میں گھرے پڑوسی ممالک کی خدمت سے وابستہ ہے۔ جہاں نیپال فعال طور پر چین کے ساتھ رسووا گڑھی-گیرونگ اور تاتاپانی-ژانگمو کے شمالی دروں کو متبادل تجارتی راستہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، وہیں بھوٹان چین کے ساتھ صفر رابطہ کی سخت پالیسی پر قائم ہے۔ تاہم 2017 میں مغربی بھوٹان کے ڈوکلام میں ’خالی زمین‘ پر دراندازی اور سیٹلائٹ تصاویر ان علاقوں میں چینی دیہات کی تعمیر اور ’سرحدی محافظوں‘ کی تعیناتی کو ظاہر کرتی ہیں جنہیں بھوٹان اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف وقت کی بات ہے کہ اس نوعیت کی ’دراندازیاں‘ شمال سے نیپال اور بھوٹان کو چین سے جوڑنے والی کثیر موسمی سڑکوں میں تبدیل ہو جائیں گی، جس سے اس خطہ میں ہندوستان کی برتری کمزور پڑ جائے گی۔

ہندوستانی خفیہ اور دفاعی ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک ترقی یافتہ مونگلا بندرگاہ (جو کولکاتا سے 188 کلومیٹر اور ہندوستانی سرحد سے صرف 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے) انتہائی تشویش ناک ثابت ہوگی۔ اگرچہ ہندوستانی وزارت خارجہ کے سینئر حکام پانی کی مناسب مقدار نہ ہونے کی وجہ سے تیستا ندی منصوبے کو قابل عمل نہیں مانتے، لیکن مونگلا بندرگاہ میں چین کی شمولیت کی طرح یہاں بھی سلامتی سے متعلق خدشات موجود ہیں۔


طارق رحمن کا پہلا غیر ملکی دورہ چین کا ہونا، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو چین کے سپرد کرنا، اور علاقائی ٹرانزٹ کے لیے ہندوستانی نیٹورک پر انحصار کم کرنے کی بنگلہ دیش کی کوشش، ایک وسیع تر پالیسی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس تبدیلی کو مغربی بنگال کے انتخابات کی تیاریوں کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی بنگلہ دیش مخالف بیان بازی اور سرحدی اضلاع میں شدت پسند عناصر کے ابھرنے سے متعلق خدشات نے مزید تقویت دی ہے۔ اس دوران امریکی محکمۂ جنگ کی جانب سے اپنے انڈو-پیسیفک کمانڈ کے نام سے’انڈو‘ کو ہٹا دینا اس بات میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑتا کہ اسٹریٹجک خلا کو کون پُر کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش امور کی ماہر شری رادھا دتہ، بمسٹیک جیسی ہندوستان مرکوز علاقائی پیش قدمیوں کے زوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب خلیج بنگال کے خطہ میں چین کی موجودگی زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ اگرچہ بنگلہ دیش نے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا یا وسیع نہ کرے۔‘‘

(فیصل محمود ڈھاکہ میں مقیم صحافی ہیں اور سوربھ سین کولکاتا میں مقیم سیاسی تجزیہ نگار ہیں)