ہندوستان-امریکہ، تصویر آئی اے این ایس
امریکہ کے ساتھ ہندوستان دو فریقی معاہدہ پر کسی اتفاق پر پہنچنے کے لیے مذاکرہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حیرت انگیز سلوک اور ان کے لگاتار بدلتے رخ کی وجہ سے آج تک اس معاہدہ کا بنیادی خاکہ تک طے نہیں ہو سکا۔ ظاہر ہے یہ مذاکرہ بے حد مشکل ہے اور بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ امریکہ ہمارے لیے سب سے اہم کاروباری شراکت داروں میں شامل ہے۔ یہ بات تجارت کے اعداد و شمار سے بھی جھلکتی ہے۔ 2024 میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کا دو فریقی کاروبار 123.8 ارب ڈالر کا رہا جس میں ہندوستان کا کاروباری سرپلس (اضافی) 37.7 ارب ڈالر تھا۔
Published: undefined
ہندوستان کے لیے امریکہ سب سے بڑا برآمد کنندہ بازار ہے اور وہ اپنی مجموعی برآمدگی کا 18.3 فیصد امریکہ کو فروخت کرتا ہے۔ امریکہ کو ہندوستان کی برآمدگی 2014 کے 42.7 ارب ڈالر سے تقریباً دو گنیا ہو کر 2024 میں 80.8 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
Published: undefined
امریکہ سے تجارتی معاہدہ پر اتفاق قائم کرنے کی مقررہ مدت پہلے 9 جولائی تھی، جسے امریکہ نے بڑھا کر یکم اگست کر دیا ہے۔ حالانکہ مدت کی حد بڑھانے کے ساتھ ہی امریکہ نے 26 فیصد کا سزا پر مبنی ٹیکس لگانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ مدت کار کو اس طرح بڑھانا ظاہر کرتا ہے کہ معاہدہ ممکن ہے اور فطری بھی، لیکن یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ امریکہ وہ سب کچھ کر رہا ہے جس سے ہندوستان دباؤ میں آ کر جھک جائے۔ حد بڑھانے کے معاملے پر ایک دیگر تشریح یہ ہے کہ یہ ٹرمپ کے ’بولنے اور پیچھے ہٹ جانے‘ کی ان کی شبیہ کے ہی موافق ہے، کیونکہ امریکہ نے جس طرح پوری دنیا پر یکساں ٹیکس لگانا چاہا، وہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ حالانکہ اس کا امکان کم ہی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ میں نتائج کی پروا کیے بغیر طاقت جھونک دینے کی روش ہے، جبکہ ہندوستان شرطیں طے کرنے کے لحاظ سے مضبوط حالت میں نہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے اہم رعایتیں حاصل کی ہیں اور وہ ہندوستان کے ساتھ بھی ایسا ہی چاہے گا۔
Published: undefined
بلاشبہ ہندوستان کے لوگوں کو امید ہوگی کہ ملک کسی بھی نامناسب مطالبہ پر نہ جھکے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر ہندوستان جھک کر ان معاملوں میں رعایتیں دیتے ہوئے معاہدہ کر لے تو ہماری حالت مزید خراب ہو جائے؛ وہیں، ایک امکان یہ بھی بنتا ہے کہ ہم ٹریڈ ڈیل کر ہی نہ سکیں اور الگ الگ طریقوں سے ہماری حالت مزید خراب ہو جائے، کیونکہ ٹیرف کاروبار کو متاثر کریں گے اور ہندوستان و اس کی برآمدگی کو اس کا خمیازہ اٹھانا ہوگا۔
Published: undefined
امریکہ کی شرطوں پر معاہدہ نہ کرنے پر سزا والے ٹیکس کو برداشت کرنا ہوگا اور بے شک فوری دقتیں ہوں، لیکن اس میں کچھ حد تک راحت ملنے کی امید بھی ہوگی، کیونکہ امریکی معیشت طویل مدت تک پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں برداشت کر پائے گی اور آخر کار امریکہ کو قدم پیچھے کھینچنے پڑیں گے۔ امریکہ کو نامناسب رعایتیں دے کر ٹریڈ ڈیل کرنا کہیں زیادہ برا ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہندوستانی بازار ان مصنوعات اور سروسز کے لیے کھل جائیں گے جن کا مقامی پروڈیوسرز پر تباہ کن اثر پڑے گا۔
Published: undefined
امریکہ خاص طور سے اپنی دو مصنوعات (جینیاتی طور سے ترمیم شدہ (جی ایم) فصلوں اور گائے کے دودھ) کی برآمدگی کے لیے دباؤ بنا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ مطالبات نئے نہیں ہیں، لیکن ہندوستان کے لیے ایسا کرنا خطرناک ہے۔ اس لیے ہندوستان کو یہ صاف کرنا ہوگا کہ ان 2 معاملوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے لیے ہندوستان کا مطالبہ ہے کہ فوڈ ڈیری پروڈکٹ ایسے مویشیوں سے لیے جانے چاہئیں جنھیں خون-غذا یا مویشیوں کے اعضا یا ٹشوز والا چارا نہ دیا گیا ہو۔ یہ پوری طرح سے مناسب اور مدلل ہے۔ دودھ پروڈکشن کے کام میں لائی جانے والی گائیں اور بھینسیں سبزی خور ہوتی ہیں اور انھیں غذا کی شکل میں کوئی بھی مویشی پروڈکٹ نہیں دیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
اس کے علاوہ ہندوستانی ضمن میں دودھ ثقافتی طور سے حساس موضوع ہے، کیونکہ اس کا استعمال مذہبی پرساد اور مبارک مواقع پر مٹھائیاں بنانے میں کیا جاتا ہے۔ کون ہندوستانی ایسے ذرائع سے آنے والا دودھ پسند کرے گا جسے چارا کی شکل میں خون یا مویشی کے اعضا دیے گئے ہوں؟ پھر بھی امریکی ’غیر ملکی تجارت رخنات پر 2025 کی قومی تجارتی اندازہ رپورٹ (ایف ٹی بی)‘ میں موجود امریکی رخ یہی ہے کہ ہندوستان کی یہ شرطیں ’مویشی کی صحت یا انسانی صحت کے نظریہ سے بامعنی نہیں‘۔
Published: undefined
صاف ہے، امریکہ کیمیکل کے استعمال اور دیگر طریقوں سے حاصل اپنے اضافی پروڈکٹس کو ہندوستان میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اگر اس کی اجازت دی گئی تو ہندوستانی ڈیری شعبہ تباہ ہو جائے گا۔ اس درآمد امریکی دودھ میں گروتھ ہارمون (بی جی ایچ) ہوتا ہے جسے گایوں میں ڈیری پروڈکشن بڑھانے کے لیے 1993 میں منظوری دی گئی تھی، لیکن یوروپی یونین اور کناڈا میں ایسے گروتھ ہارمون ممنوع ہیں۔
Published: undefined
ان ذرائع سے حاصل دودھ اور گوشت میں آئی جی ایف-1 نامی گروتھ ہارمون کی سطح زیادہ ہوتی ہے اور اس ہارمون کی اعلیٰ سطح کو پروسٹیٹ، بریسٹ، کولوریکٹل اور دیگر کینسر سے جوڑا گیا ہے، حالانکہ امریکن کینسر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں اس ہارمون اور اوپر دیے گئے امراض میں کوئی رشتہ ہو۔
Published: undefined
جی ایم فصلوں کے معاملے میں کسانوں اور ماہرین زراعت کو ایک ساتھ لانے والے آشا-کسان سوراج نیٹورک نے حکومت کو خط لکھ کر امریکہ کو ایسی کوئی بھی رعایت نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ ہندوستانی حکومت کو بھیجے گئے خط میں نیٹورک نے کہا ہے ’’ایسی رپورٹ آئی ہے کہ جی ایم فصلوں اور امریکی دودھ و ڈیری مصنوعات کی درآمدگی کی اجازت دینے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ہے۔ ان رپورٹس سے بے حد فکر مند ہو کر ہم آپ کو یہ خط لکھ رہے ہیں۔ ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ پرعزم رہیں اور ایسے کسی بھی قدم کو سرے سے مسترد کر دیں جس کا ہندوستان کی زراعت، بایو سیکورٹی، عوامی صحت، دیہی ذریعہ معاش اور بیج و خوراک کی خود مختاری پر سنگین اثر پڑتا ہو۔‘‘ حکومت کو ملک کو بھروسہ دلانا چاہیے کہ وہ ان پر نہیں جھکے گی۔
Published: undefined
یہ بھی توجہ میں رکھنا ہوگا کہ دراصل امریکہ اس سے کہیں زیادہ چاہتا ہے۔ مثال کے لیے اسٹینٹ کی قیمتوں کو لیں۔ ہندوستان نے تب ان کی قیمتوں کی حد طے کر دی، جب پایا کہ اس کے لیے 2000 فیصد سے بھی زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔ اس حد کے نافذ ہونے تک مریضوں کو چھوڑ کر سب کی چاندی تھی۔ ایف ٹی بی کی 2005 کی رپورٹ میں امریکہ نے دلیل دی ہے کہ ’طے قیمت (کورونری اسٹینٹ اور گھٹنا کے ٹرانسپلانٹ پر) کو مہنگائی کو توجہ میں رکھتے ہوئے نہیں بڑھایا گیا اور نہ ہی اس میں پروڈکشن اخراجات یا تکنیکی تجدید کی بنیاد پر کوئی فرق کیا گیا ہے جو امریکی کمپنیوں کو بازار میں جانے سے روکتا ہے۔‘‘
Published: undefined
مقصد صاف ہے۔ امریکہ بے شک لوٹنا نہ بھی چاہے، لیکن وہ جتنا زیادہ ممکن ہو، وصول کرنا ضرور چاہتا ہے۔ ہندوستان کو اس کی مخالفت کرنی ہوگی۔
(جگدیش رتنانی صحافی اور ایس پی جے آئی ایم آر میں فیکلٹی ہیں۔ بشکریہ ’دی بلین پریس‘)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined