
علامتی تصویر / اے آئی
جدید ذہن کی تشکیل میں اس تصور نے نمایاں کردار ادا کیا ہے کہ ہر نئی چیز لازماً پرانی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔ ترقی کو مسلسل آگے بڑھنے کا نام سمجھتے ہوئے یہ خیال عام ہوا کہ جو کچھ ماضی میں تھا وہ فرسودہ اور جو کچھ آج ہے وہ زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اسی ذہنیت نے قدیم اور جدید کو محض دو زمانوں کے بجائے دو متضاد رویوں میں تبدیل کر دیا۔ حالانکہ انسانی تاریخ اس بات کی گواہی نہیں دیتی کہ ہر آنے والا دور پچھلے دور سے بہتر رہا ہے۔ تاریخ میں عروج و زوال دونوں آتے رہے ہیں اور جدید دور کی مادی ترقی کے ساتھ ایسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے انسان کے سامنے نئے چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ اس لیے کسی چیز کے درست یا غلط ہونے کا معیار صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ قدیم ہے یا جدید۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ انسانی فطرت، عقل، اخلاق اور اجتماعی بھلائی سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ انسانی زندگی میں تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن ہر تبدیلی بنیادی نوعیت کی نہیں ہوتی۔ ذرائع، وسائل، طریقے اور ظاہری صورتیں بدلتی رہتی ہیں، جبکہ انسان کی بنیادی فطرت، زندگی اور موت کا قانون، خیر و شر کا امتیاز اور عدل و ظلم کی حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ یہی فرق اسلام اور قدیم و جدید کی بحث کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام کسی مخصوص تاریخی دور کی تہذیب، معاشرت یا طرزِ زندگی کا نام نہیں۔ اسلام اس الٰہی ہدایت کا نام ہے جو انسان کی رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیائے کرام کے ذریعے آتی رہی اور اپنی آخری اور مکمل صورت میں حضرت محمد ﷺ کے ذریعے انسانیت تک پہنچی۔ اس لیے اسلام کو صرف ایک قدیم مذہبی نظام سمجھنا اس کی حقیقت کو محدود کرنا ہے۔ وہ انسان کی ان بنیادی ضرورتوں سے متعلق ہے جو زمانے کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتیں اور اسی لیے اس کی رہنمائی کسی ایک عہد تک محدود نہیں رہتی۔
اسلامی تصور میں زندگی کے بنیادی اخلاقی اصول زمانے کے تابع نہیں ہیں۔ سچائی، عدل، امانت، رحم، انسانی احترام، پاکیزگی اور ذمہ داری کسی مخصوص زمانے کی اقدار نہیں کہ جب معاشرتی رجحانات بدلیں تو ان کی معنویت بھی ختم ہو جائے۔ اسی طرح ظلم، جھوٹ، خیانت، دھوکا اور استحصال کو صرف اس لیے درست نہیں قرار دیا جا سکتا کہ جدید معاشرہ انہیں کسی نئے نام یا نئے جواز کے ساتھ قبول کرنے لگا ہے۔ اگر اچھائی اور برائی کا معیار ہر دور کے رجحان کے ساتھ بدلتا رہے تو انسان کے پاس کوئی مستقل اخلاقی معیار باقی نہیں رہتا۔
یہیں اسلام اور جدیدیت کی اصل کشمکش سامنے آتی ہے۔ اسلام تبدیلی کا مخالف نہیں، بلکہ تبدیلی کو حق و باطل کا معیار بنانے کے تصور کا مخالف ہے۔ اسلام نے انسان کو علم حاصل کرنے، کائنات میں غور کرنے، وسائل پیدا کرنے اور زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت استعمال کرنے سے نہیں روکا۔ زمانے کے ساتھ سواری کے ذرائع بدلیں، مواصلات کے طریقے تبدیل ہوں، صنعت ترقی کرے، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سامنے آئیں یا انسان خلا تک پہنچے، یہ سب انسانی وسائل کی ترقی ہے۔ اسلام کی نظر میں اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ فرق آج پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہوائی جہاز نے فاصلے کم کیے ہیں، مگر اس نے انسان کے اخلاقی فاصلے ختم نہیں کیے۔ انٹرنیٹ نے معلومات کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا دیا ہے، مگر اس نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی ذمہ داری ختم نہیں کی۔ مصنوعی ذہانت نے انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، مگر یہ خود فیصلہ نہیں کر سکتی کہ اس طاقت کو خیر کے لیے استعمال کیا جائے یا شر کے لیے۔ سائنس انسان کو یہ بتا سکتی ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ کہ اسے کیا کرنا چاہیے، اخلاقی شعور کا مسئلہ ہے۔
اسی لیے اسلام اور جدید سائنس یا ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنا درست نہیں۔ اسلام علم اور تحقیق کا دشمن نہیں؛ وہ علم اور طاقت کے اخلاقی استعمال کا پابند بناتا ہے۔ ایک ہی ایجاد انسان کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور اس کے استحصال کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ایک ہی سائنسی قوت زندگی بچانے کے کام بھی آ سکتی ہے اور تباہی پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ترقی کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس نے انسان کو کتنی طاقت دی، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ اس طاقت نے انسان اور معاشرے کی بھلائی میں کیا کردار ادا کیا۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ذرائع اور مقاصد کے درمیان فرق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ذرائع زمانے کے ساتھ بدل سکتے ہیں، لیکن وہ مقاصد اور اصولوں کے تابع رہتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی اختیار کی جا سکتی ہے، مگر اسے انسانی وقار کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ معاشی نظام جدید ہو سکتا ہے، مگر انصاف کا اصول ختم نہیں ہو سکتا۔ ذرائع ابلاغ جدید ہو سکتے ہیں، مگر سچائی کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ آزادی کے دائرے وسیع ہو سکتے ہیں، مگر آزادی انسان کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔
اسلام کی یہی خصوصیت اسے نہ اندھی قدامت پسندی بناتی ہے اور نہ اندھی جدیدیت۔ اسلام ہر قدیم چیز کو درست قرار نہیں دیتا۔ کوئی رسم یا روایت محض اس لیے قابلِ قبول نہیں ہو جاتی کہ وہ صدیوں پرانی ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسی بہت سی قدیم روایات رہی ہیں جو ظلم، ناانصافی اور جہالت پر قائم تھیں۔ اسلام نے انسان کو ایسی روایات سے آزاد کیا اور حق و انصاف کو معیار بنایا۔ اسی طرح ہر نئی چیز کو صرف جدید ہونے کی وجہ سے قبول کرنا بھی اسلامی مزاج نہیں۔ معیار ہمیشہ حق، خیر، عدل اور انسانی فطرت رہتا ہے۔
اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام اور قدیم و جدید کی کشمکش دراصل دو زمانوں کے درمیان جنگ نہیں، بلکہ ثابت اصولوں اور بے سمت تبدیلی کے درمیان کشمکش ہے۔ اسلام زمانے کو آگے بڑھنے سے نہیں روکتا؛ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ انسان ترقی کی رفتار میں اپنی منزل نہ بھول جائے۔ انسان کے پاس وسائل بڑھتے جائیں، مگر ان وسائل کے استعمال کا اخلاقی شعور بھی مضبوط ہو۔ علم میں اضافہ ہو، مگر انسانیت کم نہ ہو۔ آزادی بڑھے، مگر ذمہ داری ختم نہ ہو۔ دولت بڑھے، مگر انصاف پامال نہ ہو۔ طاقت بڑھے، مگر اس پر اخلاق کی نگرانی بھی قائم رہے۔
آج کا انسان ماضی کے انسان سے کہیں زیادہ طاقتور اور باوسائل ہے، لیکن یہ طاقت خود بخود اسے زیادہ خوش، مطمئن یا باکردار نہیں بناتی۔ رابطے کے ذرائع بے مثال ہیں، مگر تنہائی موجود ہے؛ معلومات بے شمار ہیں، مگر مقصدِ زندگی کا سوال باقی ہے؛ مادی سہولتیں بڑھ گئی ہیں، مگر ذہنی سکون ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی مسائل کا حل صرف وسائل میں اضافے سے ممکن نہیں۔ انسان کو ایسی رہنمائی بھی چاہیے جو اسے بتائے کہ طاقت، علم اور آزادی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
اسلام اسی مقام پر اپنی معنویت واضح کرتا ہے۔ وہ انسان کو ماضی میں واپس لے جانے کے بجائے اس کی فطرت سے جوڑتا ہے اور مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے اسے مستقل اخلاقی اصول فراہم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک دنیا کے ذرائع بدل سکتے ہیں، مگر انسان کا بنیادی اخلاقی وجود اور اس کی ذمہ داریاں نہیں بدل جاتیں۔ زمانہ جدید ہو سکتا ہے، لیکن انسان کو سچائی، عدل، محبت، ذمہ داری، خاندان، انسانی حرمت اور مقصدِ زندگی کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔اس لیے اسلام کو قدیم اور جدید کی دوئی سے باہر رکھ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ نہ ماضی کی ہر چیز کا دفاع کرتا ہے اور نہ مستقبل کی ہر تبدیلی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زمانے کو بدلنے دو، مگر اصولوں کو زمانے کے رحم و کرم پر نہ چھوڑو۔ ذرائع نئے اختیار کرو، مگر انہیں انسانی خیر کے تابع رکھو۔
حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف زندگی کو تیز، آسان اور طاقتور بنا دے؛ حقیقی ترقی وہ ہے جو انسان کو زیادہ ذمہ دار، عادل، باوقار اور بامقصد بھی بنائے۔ اسلام اسی توازن کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے زمانے میں اسلام کی معنویت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ جتنی زیادہ طاقت انسان کے ہاتھ میں آتی ہے، اتنی ہی زیادہ اسے ایسے مستقل اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے یہ بتا سکیں کہ اس طاقت کو کہاں، کیوں اور کس طرح استعمال کرنا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔