فکر و خیالات

نفرت کی سیاست پر سوار دھامی حکومت...رشمی سہگل

اتراکھنڈ میں 2021 سے مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت، تشدد اور نقل مکانی کی تفصیل سامنے آئی ہے۔ اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق دھامی حکومت کے دور میں ریاست کو دانستہ طور پر فرقہ واریت کا میدان بنایا گیا

<div class="paragraphs"><p>پشکر دھامی / تصویر ٹوئٹر / @ANI</p></div>

پشکر دھامی / تصویر ٹوئٹر / @ANI

 

بلھے شاہ کو پنجابی نشاۃِ ثانیہ کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے صوفی بزرگ تھے جن کی لازوال شاعری محبت، ہم آہنگی اور روحانی آزادی کا پیغام دیتی ہے۔ ہندو، سکھ اور مسلمان سبھی ان کا احترام کرتے ہیں۔

24 جنوری 2026 کی رات مسوری کے وِنبرگ–ایلن اسکول میں ہندو رکشا دل سے وابستہ چند انتہاپسندوں نے گھس کر بلھے شاہ کی مزار کو توڑ ڈالا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سو سال پرانی یہ عمارت ’دیوبھومی‘ میں غیر قانونی قبضہ ہے۔ اس عمل میں ان کا اعتماد اس قدر تھا کہ انہوں نے ہتھوڑوں اور لوہے کی سلاخوں سے مزار گرانے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ اتراکھنڈ پولیس نے تین افراد کے خلاف ایف آئی آر تو درج کی، مگر کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

Published: undefined

نومبر 2025 میں دہرادون کے دون اسکول کے احاطے میں واقع ایک اور سو سال پرانی مزار کو بھی ایک ہندوتوا گروہ کے دباؤ میں گرا دیا گیا۔ اس گروہ کی قیادت رادھا دھونی کر رہا تھا، جو ’سناتن سنسکرتی‘ نامی دائیں بازو کی تنظیم کا سربراہ ہے۔ اس تنظیم کا ایجنڈا مسلم دکانداروں، سڑک کنارے چائے بیچنے والوں اور ریہڑی والوں کو نشانہ بنانا دکھائی دیتا ہے۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، جن کا بیٹا دون اسکول میں پڑھتا ہے، فخر کے ساتھ عوام کو بتاتے ہیں کہ ان کے دورِ حکومت میں 400 سے زائد ’غیر قانونی‘ مزارئیں منہدم کی گئیں۔ اپنے ہی افسروں کے سروے کی بنیاد پر دھامی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے ’زمین جہادیوں‘ سے 5 ہزار ایکڑ زمین واپس لی ہے۔

Published: undefined

دو سماجی کارکنوں نے اس مسلم مخالف پروپیگنڈے کی حقیقت جاننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ریاست کے طول و عرض میں جا کر دستاویزی ثبوت جمع کیے کہ 2021 سے 2025 کے درمیان مسلمانوں کو کس طرح منصوبہ بند انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر پناہ گزین جیسی زندگی گزارنی پڑی۔

’ایکسکلوڈیڈ، ٹارگٹیڈ اینڈ ڈسپلیسڈ: کمیونل نیریٹوز اینڈ وائلنس اِن اتراکھنڈ‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ 22 جنوری کو ایسوسی ایشن آف پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے شائع کی۔ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کس طرح ایک پُرامن ریاست کو انتہاپسندی کا گڑھ بنا دیا گیا۔

یہ نفرت انگیز مہم دسمبر 2021 میں ہریدوار دھرم سنسد سے شروع ہوئی، جہاں یتی نرسمہانند، پربودھانند گری، یتندر آنند گری، ساڈھوی اناپورنا، سوامی آنند سروپ اور کالی چرن مہاراج نے کھلے عام ہندوتوا راشٹر اور مسلمانوں کے قتل کی اپیلیں کیں۔ ان تقاریر کے بعد تشدد، معاشی بائیکاٹ اور نفرت پر مبنی جرائم میں تیزی آئی، جو 2023 میں پُرولا واقعے کے دوران عروج پر پہنچ گئی۔ ایک جھوٹے اغوا کے الزام کی بنیاد پر مسلم خاندانوں کو اپنی جائیدادیں بیچ کر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یہی طریقہ اتراکاشی، ٹہری، چمولی اور غیرسین جیسے اضلاع میں بھی اپنایا گیا۔

Published: undefined

دھامی نے ’زمین جہاد‘، ’مزار جہاد‘، ’تھوک جہاد‘ اور ’لو جہاد‘ جیسے نعروں کے ذریعے فرقہ واریت کو کھلے عام ہوا دی۔ ’انڈیا ہیٹ لیب‘ کی سالانہ رپورٹ میں انہیں 2025 کا ’سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریر دینے والا‘ قرار دیا گیا۔ چند دن بعد دھامی نے کہا کہ وہ اس ’ٹیگ‘ کو قبول کرتے ہیں۔ ان کا تازہ فرمان کیدارناتھ اور بدری ناتھ مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی سے متعلق ہے۔

اے پی سی آر کی رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں منظم تشدد کے متاثرین کی زبانی شہادتیں شامل ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو پولیس کا محض تماشائی بن جانا ہے، جو بیشتر معاملات میں مجرموں کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی نظر آتی ہے۔

23 اکتوبر 2024 کو دیوبھومی رکشا ابھیان کے سربراہ سوامی درشن بھارتی کی قیادت میں دائیں بازو کے گروہوں نے اتراکاشی کے باراہاٹ میں ایک مسجد کو گرانے کے مطالبے پر ریلی نکالی۔ مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔ چار افراد کے خاندان میں واحد کمانے والی ریشما حسین (37) نے بتایا، ’’انہوں نے میری دکان کا تالا توڑ دیا، تقریباً ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔‘‘

Published: undefined

قریب کے شہر شری نگر میں ایک مقامی بی جے پی لیڈر لکھپت سنگھ بھنڈاری نے 15 مسلم خاندانوں کو نقل مکانی پر اکسایا۔ انہیں مجبوراً نجیب آباد جانا پڑا۔ ایک سرکاری اسکول کے استاد شعیب اختر نے کہا کہ ایک پروگرام میں، جہاں بھنڈاری مہمانِ خصوصی تھے، پرنسپل نے ’لو جہاد‘ اور ’زمین جہاد‘ کی باتیں کیں۔ ان کا سوال ہے کہ ’’اگر اسکول کا پرنسپل عوامی طور پر ایسی بات کرے تو بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟‘‘

اسی اسکول میں ایک انگریزی ٹیچر نے بارہویں جماعت کے طالب علم احمد سے پوچھا کہ اس جیسے لوگ غیر قانونی مساجد بنانے کے لیے زمین پر قبضہ کیوں کرتے ہیں۔ احمد کہتا ہے، ’’میں نے کون سی زمین پر قبضہ کیا؟ ایسا لگتا ہے جیسے مجھے ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

Published: undefined

شری نگر میں مقیم سماجی کارکن مکیش سیموال کا ماننا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ کشیدگی جان بوجھ کر پھیلائی گئی تاکہ بی جے پی کیدارناتھ اسمبلی نشست جیت سکے۔ ایودھیا اور بدری ناتھ کی نشستیں ہارنے کے بعد کیدارناتھ کا انتخاب خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ اگست 2024 میں چورس میں فرقہ وارانہ تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب دائیں بازو کے گروہوں نے پانچ مسلم دکانداروں اور ان کے اہلِ خانہ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اکسانے کی وجہ؟ ایک ہندو خاتون اور نجیب آباد سے آئے ایک مسلم نوجوان کے درمیان مبینہ تعلقات۔
’لو جہاد‘ کے الزام میں نشانہ بنائے گئے نوجوان کے والد وسیم نے کہا، ’’وہ دوست تھے۔ کیا دوستی کوئی جرم ہے؟ کیا ہمارے بچے کسی سے دوستی کرنے سے پہلے اس کا مذہب دیکھیں گے؟ ہمیں افواہوں کی بنیاد پر بھگا دیا گیا۔ لڑکی کے خاندان نے بھی کبھی میرے بیٹے کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔‘‘

Published: undefined

پچاس سالہ تسیم احمد گزشتہ 45 برس سے چمولی ضلع کے گوچر قصبے میں رہ رہے تھے۔ 15 اکتوبر 2024 کو ان کے بھائی کا اسکوٹی پارک کرنے کے معاملے پر ایک ہندو شخص سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کے بعد ہندوتوا بریگیڈ نے دس مسلم دکانداروں کو قصبہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ احمد نے کہا، ’’پارکنگ کے ایک معمولی جھگڑے نے ہماری پوری زندگی برباد کر دی۔ ہم 45 سال سے یہاں رہ رہے تھے۔ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ہمیں آدھی رات کو گوچر چھوڑنا پڑا۔‘‘

چمولی کے ننداپریاگ میں ایک مسلم نائی پر چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے بعد اگست–ستمبر 2024 میں مسلم مخالف مہم نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ 22 اگست کو نائی کو اپنی دکان خالی کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے بعد وہ نجیب آباد واپس چلا گیا۔ گزشتہ 20 برس سے ڈرائی کلیننگ کی دکان چلانے والے اور 1975 سے نندا گھاٹ میں مقیم عثمان حسن نے بتایا کہ 3 ستمبر کی رات 15 خاندانوں کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔

انہوں نے کہا، ’’31 اگست کو مقامی لوگوں نے نائی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ یکم ستمبر کو تاجر تنظیم نے نندا گھاٹ پولیس اسٹیشن کے سامنے مظاہرے کی کال دی۔ ہم مسلمان بھی اس میں شامل ہوئے۔ ہمیں لگا کہ تاجر برادری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، مگر اجلاس میں ’ملوں کے دلالوں کو جوتے مارو‘ جیسے مسلم مخالف نعرے لگائے گئے۔‘‘

Published: undefined

حسن کی دکان میں ہندوتوا ہجوم نے توڑ پھوڑ کی اور گلے سے چار لاکھ روپے لوٹ لیے۔ انہوں نے سب کچھ لوٹ کر دریا میں پھینک دیا۔ حسن نے اس کا الزام ہندوتوا لیڈر درشن بھارتی پر لگایا، جس نے اتراکاشی میں مسجد کے خلاف ریلی کی قیادت کی تھی۔ حسن کہتے ہیں،“اس واقعے کو یاد کر کے آج بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں…”

حسن نے تحفظ کے لیے اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ عدالت نے ایس ایس پی کو ہدایت دی کہ کسی بھی برادری کے خلاف کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو، مگر اس کے باوجود کوئی بھی مسلمان خود کو اتنا محفوظ محسوس نہیں کر سکا کہ واپس لوٹ آئے۔ حسن نے اپنی دکان دوبارہ کھولی، لیکن دیکھا کہ کوئی بھی اس سے بات کرنے یا اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا، جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ فی الحال نندا گھاٹ میں حسن واحد مسلمان ہیں۔ یہ ہمارے عہد کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

Published: undefined

اگر دھامی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا مزید ثبوت درکار ہو تو اتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ ایکٹ 2024، مذہبی آزادی اور غیر قانونی مذہب تبدیلی پر روک (ترمیمی) بل، اور اقلیتی تعلیمی ادارہ بل 2025 پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ یہ قانون مسلم انتظام والے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ختم کرتا ہے، جہاں 13 میں سے 9 نشستیں مسلمانوں کے پاس تھیں اور اس کی جگہ ایک سرکاری ادارہ قائم کرتا ہے، جس میں 12 میں سے صرف ایک نشست مسلمانوں کو دی گئی ہے۔

حکمرانی کے محاذ پر ناکامی کے بعد دھامی کو یقین ہے کہ ان کے نفرت انگیز بیانات 2027 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں سیاسی فائدہ پہنچائیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined