فکر و خیالات

عزت مآب وزیر اعظم، مفت کوچنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے... ڈاکٹر اجیت راناڈے

اصل کامیابی تب ہوگی جب ایسا تعلیمی ڈھانچہ کھڑا کیا جائے کہ کسی خاندان کو کوچنگ کا سہارا لینے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی کے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، اہل اساتذہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک وسیع نیٹورک تیار کرے گی۔ اس کا مقصد ان غریب لیکن باصلاحیت خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کرنا ہے، جو لاکھوں روپے کی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ اچھے اساتذہ اور معیاری مطالعاتی مواد تک مفت رسائی یقینی طور پر عدم مساوات کی خلیج کو پاٹ سکتی ہے، لیکن یہ اعلان اپنے آپ میں ایک بنیادی سوال بھی کھڑا کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کوچنگ ہمارے معاشرے کے لیے اتنی ناگزیر کیوں بن گئی؟

ہندوستان میں بوتل بند پانی کا کاروبار اور کوچنگ کی صنعت بالکل ایک جیسی کہانی بیان کرتے ہیں۔ جب سرکاری نظام عوام کو معیاری اور قابل اعتماد خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پرائیویٹ صنعت اس خالی جگہ پر قابض ہو جاتی ہے۔ لوگ بوتل بند پانی اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ انہیں نل سے آنے والے پانی پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح وہ کوچنگ پر اس لیے پیسے خرچ کرتے ہیں کیونکہ انہیں قطعی یقین نہیں ہوتا کہ عام اسکولوں کی تعلیم ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے دروازوں تک پہنچا پائے گی۔ پرائیویٹ ٹیوشن کے پیچھے کچھ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن ہندوستان میں اس کے اس قدر حاوی ہونے کی وجہ رسمی تعلیمی نظام کی بنیادی کمزوریوں میں ہی پوشیدہ ہے۔

اعداد و شمار اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں۔ ’انڈیا فورم‘ میں راہل ورما کے ایک حالیہ مضمون میں نقل کیے گئے قومی نمونہ سروے (این ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق اسکول جانے والے 27 فیصد بچے پرائیویٹ کوچنگ لیتے ہیں۔ سینئر سیکنڈری سطح پر تو یہ تعداد بڑھ کر 37 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسری طرف تعلیم کی سالانہ صورت حال کی رپورٹ مسلسل بنیادی تعلیم میں سنگین خامیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ 2024 میں سرکاری اسکولوں کی پانچویں جماعت کے صرف 44.8 فیصد بچے ہی دوسری جماعت کی درسی کتاب پڑھ پانے کے قابل تھے، جبکہ ایک تہائی سے بھی کم بچے تقسیم (ڈویژن) کا بنیادی سوال حل کر سکے۔ نتیجہ کار ہمارے سامنے ایک عجیب و غریب تضاد کھڑا ہے۔ جہاں ایک طرف بنیادی تعلیم کا ڈھانچہ پوری طرح کھوکھلا ہے، وہیں دوسری طرف داخلہ امتحانات پاس کرانے والی ایک انتہائی چالاک اور وسائل سے مالا مال صنعت پھل پھول رہی ہے۔

’ڈمی اسکولوں‘ کا بڑھتا ہوا رجحان اس ستم ظریفی کو مزید گہرا کرتا ہے۔ طلبا کاغذات پر تو باقاعدہ اسکول میں داخل رہتے ہیں، لیکن ان کا اصل وقت جے ای ای یا نیٹ کے کوچنگ اداروں میں گزرتا ہے۔ اسکول محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں اور کوچنگ سنٹر تعلیم کا اصل ٹھکانہ بن چکے ہیں۔ طلبا روزانہ 8 سے 15 گھنٹے نیٹ کی تیاری میں صرف کر دیتے ہیں، لیکن حیاتیات کے بنیادی عملی کام میں بھی لڑکھڑا جاتے ہیں۔ سوالات کے نمونے کو رٹ لینا اور داخلہ امتحان کے پیٹرن کی مشق کر لینا اس بات کا قطعی مطلب نہیں ہے کہ طالب علم نے مضمون کی بنیادی سمجھ بھی حاصل کر لی ہے۔

اس اندھی دوڑ کی دوسری بڑی وجہ نشستوں کی شدید قلت ہے۔ اس سال جے ای ای مینس کے لیے 16 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا۔ ان میں سے صرف سرفہرست 2.5 لاکھ طلبا ہی جے ای ای ایڈوانسڈ دینے کے اہل ہوں گے، اور ان میں سے بھی ایک بہت چھوٹا حصہ آخرکار آئی آئی ٹی کی دہلیز پار کر پائے گا۔ میڈیکل کالجوں، معروف یونیورسٹیوں سے لے کر سرکاری ملازمتوں تک کے معاملے میں بھی مواقع کی یہی دم گھونٹ دینے والی تنگی ہے۔

جب لاکھوں دعوے داروں کے درمیان مٹھی بھر قیمتی مواقع تقسیم کرنے ہوں تو امتحان علم کی پرکھ نہیں رہ جاتا۔ وہ مواقع کی راشننگ کا آلہ اور نوجوانوں کو باہر نکالنے یعنی ’اجتماعی چھٹنی‘ کا ظالمانہ ذریعہ بن جاتا ہے۔ کوچنگ پر دوگنا پیسہ خرچ کرنے سے ملک میں آئی آئی ٹی کی نشستیں یا سرکاری عہدے دوگنے نہیں ہو جاتے۔ انفرادی طور پر ہر خاندان کی یہ خواہش جائز ہے کہ اس کا بچہ مقابلے میں آگے نکلے، لیکن اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو قطار میں صرف تھوڑا آگے کھسکنے کی خاطر ملک کا بے پناہ پیسہ، وقت اور نوجوانوں کی بے حد توانائی برباد ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانات کی شفافیت اور قابل اعتماد ہونا اتنا اہم ہو جاتا ہے۔ جب ایک ہی امتحان کسی کا کیریئر بنا یا بگاڑ سکتا ہے تو اس کی غیر جانبداری ایک لازمی عوامی اعتماد بن جاتی ہے۔ ایک امیدوار 50 میں سے ایک یا 100 میں سے ایک ہونے کے مشکل چیلنج کو بھی قبول کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے پختہ یقین ہو کہ ہر شخص یکساں اصولوں کے تحت ایک ہی امتحان دے رہا ہے۔ لیکن پرچہ لیک ہونے کا ایک واقعہ اس پورے سماجی اعتماد کو چکنا چور کر دیتا ہے اور ہندوستان ایسے المیوں کا بار بار سامنا کرتا رہا ہے۔

اس نظام کی مزید ایک خرابی ہے۔ کروڑوں امیدواروں کو چھانٹنے کی مجبوری معیاری اور مشینوں سے جانچی جا سکنے والی کثیر الانتخابی امتحانات کو فروغ دیتی ہے۔ ایسے امتحانات معروضی اور بڑے پیمانے پر آسانی سے نافذ کیے جانے کے لحاظ سے آسان تو ہوتے ہیں، لیکن جب پورا مستقبل ہی ایسے امتحانات پر منحصر ہو جائے تو پورا تعلیمی نظام محض ’ٹیسٹ پریپ‘ بن کر رہ جاتا ہے۔ علم سکڑ کر پیٹرن کی شناخت تک محدود ہو جاتا ہے اور 4 میں سے 3 غلط اختیارات کو تیزی سے چھانٹ دینے کی چالاکی کو ہی حقیقی ’سیکھنا‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 نے رٹنے کے نظام سے ہٹ کر فہم اور صلاحیت پر مبنی تعلیم کی طرف بڑھنے کا دعویٰ کیا، لیکن زمینی مسائل جوں کے توں ہیں۔ جیسا کہ انڈیا فورم کے تجزیے میں بتایا گیا ہے، جب امنگوں کے تناسب سے ادارہ جاتی صلاحیت میں توسیع نہیں ہوتی تو داخلہ امتحانات محض آخری جائزہ نہیں رہتے بلکہ ثانوی تعلیم کا بنیادی رہنما اصول بن جاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود حکومتیں بھی کوچنگ کی اس اندھی دوڑ میں شریک بن چکی ہیں۔ مہاراشٹر کا اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ فار ایڈمنسٹریٹو کیریئرز مفت میں یو پی ایس سی کی فل ٹائم کوچنگ فراہم کرتا ہے۔ مرکز سمیت کئی دیگر ریاستیں بھی ایسی اسکیمیں چلا رہی ہیں۔ محروم طبقات کے ذہین طلبا کے لیے مفت کوچنگ فوری طور پر ایک راحت ضرور ہو سکتی ہے، لیکن یہ غیر مساوی اندھی دوڑ کی عارضی تلافی بھر ہے، اس سڑے گلے نظام کا مکمل علاج نہیں جو اس عدم مساوات کو پیدا کرتا ہے۔

کوچنگ کی یہ بیماری صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں بھی، جہاں کا اسکولی ڈھانچہ انتہائی مضبوط ہے، ’کریم اسکولوں‘ کی جڑیں جمائے ہوئے ثقافت موجود ہے۔ جاپان ریاضی، ریڈنگ اور سائنس میں او ای سی ڈی کی اوسط سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ممتاز اداروں کے لیے مقابلہ اندھا ہوگا تو کوچنگ کا عروج یقینی ہے۔ اس کے برعکس فن لینڈ قومی سطح کے ایسے دباؤ والے امتحانات پر زور نہیں دیتا، جبکہ جرمنی روایتی یونیورسٹیوں کے متوازی ہی معروف پیشہ ورانہ اور اپرینٹس شپ کے راستے فراہم کرتا ہے۔ سبق واضح ہے... صرف اچھے سرکاری اسکول کوچنگ کو ختم نہیں کر سکتے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، عزت اور روزگار کے متعدد قابل اعتماد اور متوازی راستے درکار ہیں۔

حقیقی اصلاح کا ایجنڈا یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ عام اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو وسائل سے مالا مال بنائیں۔ صرف اداروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے معیاری تدریس کو وسعت دیں۔ امتحانات ایسے ہوں جو کوچنگ کی بازی گری کے بجائے مضمون کی گہری سمجھ کو جانچیں، تاکہ کسی ایک دوپہر کا امتحان زندگی اور موت کا فیصلہ نہ بن جائے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو سماجی وقار دلائیں۔ اور سب سے ضروری، بڑے پیمانے پر پرکشش اور محفوظ روزگار پیدا کریں تاکہ کروڑوں ہندوستانی نوجوان مٹھی بھر سرکاری ملازمتوں کے لیے جان لیوا بھگدڑ مچانے پر مجبور نہ ہوں۔

ہندوستان کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کروڑوں بچوں تک مفت کوچنگ تو پہنچا سکتا ہے، لیکن اصل کامیابی ایسا تعلیمی اور روزگار کا نظام بنانے میں ہوگی جہاں کسی بھی خاندان کو کوچنگ کا سہارا لینے کے لیے پیسے خرچ نہ کرنے پڑیں۔

(مضمون نگار اجیت راناڈے معروف ماہر معاشیات ہیں۔ بشکریہ: دی بلین پریس)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔