
’گلوبل لاجسٹکس‘ کے بانی سلمان اختر
سنہ 1989 میں جب پورا ہندوستان 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کا جشن منا رہا تھا، ٹھیک اسی دن ہندوستان سے تقریباً 4000 کلو میٹر دور سعودی عرب کے جدہ شہر میں حاجی محمد اختر اور صالحہ انجم کے سب سے چھوٹے بیٹے سلمان اختر نے آنکھیں کھولیں۔ حاجی محمد اختر جدہ میں ایک آٹو موبائل کمپنی سے منسلک تھے اور اپنے کنبہ کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ حالانکہ انھیں وطن سے دوری کا غم ہمیشہ رہا، اس لیے جب سلمان اختر کی عمر 7 سال ہوئی تو پورے کنبہ کو ہندوستان شفٹ کر خود جدہ میں ملازمت کرتے رہے۔ ان کا مقصد تھا کہ چھوٹا بیٹا سلمان اور بقیہ دونوں بڑے بیٹے الٰہ آباد (نیا نام پریاگ راج) میں رہ کر گنگا جمنی تہذیب کے سایہ میں پرورش پائیں۔
حاجی محمد اختر کی فیملی کو ہندوستان منتقل ہوئے تقریباً 30 سال ہو چکے ہیں، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے جیسی زندگی چاہی تھی وہ شاید نہیں مل سکی۔ اس وقت ان کے بڑے بیٹے شمس الاعظم دہلی میں مقیم ہیں جو کاروباری ضرورت کے تحت اکثر بیرون ممالک کے دورے پر رہتے ہیں، منجھلے بیٹے سمیر اختر سنگاپور میں ملازمت کر رہے ہیں اور شریک حیات صالحہ انجم کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر 2017 میں ہی داغِ مفارقت دے چکی ہیں۔ ہاں، ان کے لیے خوشی کی ایک بڑی بات یہ ضرور ہے کہ چھوٹے بیٹے سلمان اختر الٰہ آباد کے میراپور علاقہ میں ’گلوبل لاجسٹکس‘ نام سے ایک کمپنی شروع کر کامیابی کی سنہری داستان رقم کر رہے ہیں۔ حالانکہ سلمان اختر کی زندگی کا سفر کم جدوجہد بھرا نہیں ہے۔ ان کی زندگی میں آئے نشیب و فراز کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تھوڑا ماضی کی طرف رخ کریں۔
سلمان اختر 1996 میں جب اپنی والدہ اور بھائیوں کے ساتھ الٰہ آباد پہنچے تو آب و ہوا جدہ سے بہت مختلف تھی۔ ابتدا میں اس ماحول سے تال میل بٹھانا مشکل تھا، لیکن دھیرے دھیرے یہاں کی مٹی اور گنگا کی بہتی دھارا نے دل میں کچھ ایسی جگہ بنائی کہ دوسرے ملک تو چھوڑیے، الٰہ آباد چھوڑ کر دوسرے شہر جانا بھی پسند نہیں کیا۔ انھوں نے اسکولی تعلیم بھی الٰہ آباد میں حاصل کی اور پوسٹ گریجویشن کی تکمیل بھی یہیں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ہوئی۔ جب سلمان کی عمر 24 سال ہوئی تو ذریعۂ معاش کی فکر میں مبتلا ہوئے۔ 2013 میں رئیل اسٹیٹ کی ایک کمپنی سے منسلک ہو کر ایک نئے شعبہ کو جاننا اور سمجھنا شروع کیا۔ پھر نئے نئے آئیڈیاز ذہن میں آنے لگے اور 3 مہینوں میں ہی ان کے آئیڈیاز سے کمپنی کو اس قدر فائدہ ہوا کہ 2 لاکھ 62 ہزار کا چیک انھیں پیش کیا گیا۔ سلمان اختر بتاتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی کا یادگار لمحہ تھا اور اُس چیک کو ابھی تک انھوں نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اس حوصلہ افزائی کے فوراً ہی بعد سلمان نے رئیل اسٹیٹ کی اپنی کمپنی کھول لی، جو پرواز بھرنے ہی والی تھی کہ نومبر 2016 میں نوٹ بندی ہو گئی اور سارے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔ اس سے بھی بڑا دھچکا یہ لگا کہ والدہ میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور پوری فیملی پر جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ سلمان اختر، ان کے دونوں بڑے بھائی اور والد محمد اختر (جو چند سال پہلے ریٹائر ہو کر جدہ سے الٰہ آباد آ چکے تھے) ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال دوڑتے رہے اور طبی جانچ کا طویل سلسلہ چلتا رہا۔ صالحہ انجم کا علاج راجدھانی دہلی کے ایک مشہور کینسر اسپتال میں بھی کرایا گیا، لیکن زندگی کو وسعت نہیں مل سکی۔
صالحہ انجم کے انتقال نے پوری فیملی کی ہمت توڑ دی۔ سلمان اختر کا تو کہنا ہے کہ وہ ایک طرح سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے۔ ان کے سر سے صرف ماں کا سایہ نہیں اٹھا تھا، وہ ایک ایسے دست شفقت سے محروم ہو گئے تھے جس کی موجودگی میں بے فکری کا احساس ہوتا تھا۔ دھیرے دھیرے وقت گزرنے کے ساتھ یہ غم کچھ کم ہوا اور 2018 میں سلمان اختر نے ایک بار پھر اپنے پیر پر کھڑا ہونے کا ارادہ کیا۔ لیکن انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس کاروبار میں قسمت آزمائی کی جائے۔ رئیل اسٹیٹ سے وہ متنفر ہو چکے تھے، اس لیے کچھ ایسا کام کرنا چاہتے تھے جو الٰہ آباد میں اپنی ایک الگ پہچان بنا سکے۔ اچانک ایک روز خیال آیا کہ کیوں نہ کوریئر کمپنی کی بنیاد ڈالی جائے، کیونکہ کوئی بھی ضروری کاغذ یا سامان دوسری جگہ بھیجنے کے لیے کافی دور جانا پڑتا تھا۔ یہ خیال آتے ہی کمپیوٹر پر آن لائن سرچنگ کے ذریعہ کچھ اہم معلومات حاصل کیں اور ضروری قدم بھی اٹھائے گئے۔ کوریئر مارکیٹ کے بارے میں تحقیق کے دوران ’ڈی ٹی ڈی سی‘ کا فرنچائزی لینے کا راستہ ہموار ہوا، اور پھر یہیں سے وہ روشنی نظر آئی جو زندگی کو کامیابی کے راستے پر لے جا سکتی تھی۔
سلمان اختر نے 2019 میں جب ’گلوبل لاجسٹکس‘ کی بنیاد ڈالی، تو ابتدا میں اپنی خدمات صرف الٰہ آباد تک ہی محدود رکھیں۔ پھر اچانک کورونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا۔ یعنی ایک بار پھر بزنس کو اچھی شروعات ملنے کے بعد زبردست دھچکا لگا، لیکن اس مرتبہ سلمان نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ کسی بھی طرح اپنے ملازم کو وقت پر تنخواہ دیتے رہے اور دکان کا کرایہ بھی ادا کیا۔ اس برے وقت میں انھیں دونوں بڑے بھائیوں کا بھرپور جذباتی و مالی تعاون حاصل ہوا۔ پھر جب ہندوستان کے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن ختم ہوا تو سلمان نے ملک گیر سطح پر کوریئر سروس شروع کرنے کا عزم کیا۔ اُس دور میں ان کی طاقت بنے محمد فہد بنے، جو کمپنی کی بنیاد کے وقت سے ہی رفیق کار تھے اور آج بھی وہ کمپنی کا انتظام و انصرام دیکھ رہے ہیں۔ محمد فہد نے منیجر کی ذمہ داری بہترین انداز میں انجام دیا اور دھیرے دھیرے ’گلوبل لاجسٹکس‘ نے کوریئر کے شعبہ میں اپنی ایک الگ پہچان بنا لی۔
سلمان اختر کے قدم یہیں پر نہیں رکے، بلکہ اب وہ ہندوستان سے باہر سامان ایکسپورٹ کرنے کے بارے میں سوچنے لگے۔ اس کا خیال انھیں تب آیا جب سنگاپور میں ملازمت کرنے والے بھائی سمیر اختر نے بتایا کہ ہندوستان کے کئی لوگ سنگاپور میں رہتے ہیں جو ہندوستان سے اکثر سامان منگوانا چاہتے ہیں۔ اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے سلمان نے ہندوستان سے بیرون ملک سامان برآمد کرنے کے اصول و ضوابط کو جاننا شروع کیا۔ تھوڑی سی تگ و دو کے بعد بیرون ملک ایکسپورٹ کا لائسنس حاصل ہو گیا اور 22-2021 میں کمپنی نے ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ ’گلوبل لاجسٹکس‘ نے کبھی ہوا کے راستے اور کبھی سمندر کے راستے ہندوستان سے چھوٹے بڑے پیکیٹس پہلے سنگاپور، اور پھر دیگر ممالک میں بھیجنا شروع کیا۔ اس سے ہمت بڑھی تو کچھ ماہ بعد سامان درآمد کرنے، یعنی امپورٹ کا لائسنس بھی حاصل کر لیا۔ اس طرح 2022 میں ہی بیرون ممالک سے سامان ہندوستان منگانے کا راستہ بھی نکل گیا۔ اس کامیابی سے حوصلہ پا کر 2024 میں ’تھرڈ کنٹری ایکسپورٹ‘ کا لائسنس حاصل کیا، جس نے ایک بیرون ملک سے دوسرے بیرون ملک سامان بھیجنے کا راستہ کھول دیا۔ اب ’گلوبل لاجسٹکس‘ 26 سے 27 ٹن تک کا مال سمندر کے راستے ایک ملک سے دوسرے ملک بہ آسانی بھیجتا ہے۔
ان کامیابیوں کے درمیان سلمان اختر کی زندگی میں ایک بہت خاص موقع بھی آیا، جب 2022 میں ان کی شادی شہرین شکیل سے ہوئی۔ انھوں نے گھر کی ذمہ داریاں کچھ اس خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھالیں کہ سلمان گھریلو امور سے بے فکر ہو کر پوری طرح اپنے بزنس پر توجہ دینے لگے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سنہ 2022 سے سلمان اختر کی کمپنی دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی۔ آج سلمان اختر کا الٰہ آباد میں 2 دفتر اور ملک کی راجدھانی دہلی میں ایک دفتر موجود ہے۔ ان تینوں دفاتر میں مجموعی طور پر تقریباً 2 درجن ملازمین کام کر رہے ہیں، اور درجنوں ملازمین عارضی طور پر بھی کمپنی سے جڑے ہوئے ہیں۔
یقیناً سلمان اختر کی زندگی مشکلات اور جدوجہد سے عبارت ہے، لیکن ایک بڑے اور اہم چیلنج کا ذکر اس کہانی میں اب تک نہیں کیا گیا۔ وہ چیلنج ہے سلمان کی زبان میں لکنت کا ہونا۔ جی ہاں، سلمان بات کرتے ہوئے تھوڑا ہکلاتے ہیں۔ اس معاملے میں کئی دوست و احباب نے حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ کچھ ایسا کام کریں جس میں زیادہ بات چیت کی ضرورت نہ پڑے۔ کبھی کبھی سلمان سوچ میں پڑ جاتے کہ کیا انھوں نے غلط راستے کا انتخاب کیا ہے! لیکن پھر ان کے اندر سے کوئی آواز آتی جو آگے بڑھنے کی ہمت دیتی۔ ابتدا میں سلمان کو کچھ مسائل ضرور ہوئے، لیکن سچ یہی ہے کہ لکنت کبھی بھی ان کے لیے کمزوری نہیں بنی۔ چند ایک مواقع کو چھوڑ دیا جائے تو بڑے بڑے معاہدے انھوں نے بذات خود پایۂ تکمیل تک پہنچائے ہیں۔ گویا کہ انھوں نے نہ صرف ’زمانے کی باتوں‘ کو غلط ثابت کیا، بلکہ اپنی ’کمزوری پر فتح‘ بھی حاصل کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔