ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

ایک کاروبار میں بچپن کے دوست سے دھوکہ ملنے کے باوجود صابر نے لوگوں پر بھروسہ کرنا بند نہیں کیا۔ مصالحہ کاروبار ہو، رئیل اسٹیٹ ہو یا پھر فلنٹ ڈی اورینٹ، سبھی میں کسی نہ کسی دوست کی شراکت داری ضرور رہی۔

<div class="paragraphs"><p>’فلنٹ دی اورینٹ‘ کے ڈائریکٹر صابر علی</p></div>
i
user

تنویر احمد

google_preferred_badge

مغربی بنگال کے سرحدی علاقہ میں ایک ریڈیو میکینک رہتے تھے۔ انھوں نے کافی وقت تک دِہاڑی مزدوری بھی کی تاکہ اپنی فیملی (بیوی، ایک بیٹا، ایک بیٹی) کی بہتر پرورش کر سکیں۔ زندگی بہت محال تھی، لیکن سخت مشقت کے ساتھ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے بھی غربت والی زندگی گزاریں۔ محنت رنگ لائی اور بیٹے نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سرکاری ملازمت حاصل کر لی۔ لڑکا اتنا ہونہار تھا کہ اچھی خاصی سرکاری ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کر لیا، جو منافع بخش ثابت ہوا۔ اچانک اس کے ایک بچپن کے دوست نے ایسا دھوکہ دیا کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ لیکن اس نوجوان نے شکست نہیں مانی اور ایک نیا بزنس شروع کر دیا۔ کامیابی کی طرف قدم بڑھا ہی رہا تھا کہ کچھ ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس نے نئے کاروبار کو بھی ٹھپ کر دیا۔ اس کے باوجود میکینک کے اس ہونہار بیٹے نے ہمت نہیں ہاری۔ ناکامیوں سے جنگ لڑتا ہوا اس نے آخر کار کامیابی حاصل کر ہی لی۔ آج وہ ایک ایسی آئی ٹی کمپنی کا مالک ہے جو تیزی کے ساتھ کامیابی کے زینے چڑھ رہی ہے۔

ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

’فلنٹ دی اورینٹ‘ میں کام کرتے ہوئے ملازمین

اوپر میں جو کچھ بیان کیا گیا، وہ آپ کو کسی فلمی کہانی جیسا معلوم ہو رہا ہوگا۔ یہاں کہانی فلمی ضرور ہے، لیکن کسی فلم کی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے بیٹے کی حقیقی داستان ہے جس نے کم عمر میں ہی کئی سارے نشیب و فراز دیکھ لیے۔ اس نوجوان کا نام ہے صابر علی ملا (Sabir Ali Mollah) اور میکینک والد کا نام ہے مہرل ملا۔ صابر کی عمر فی الوقت 39 سال ہے، جو کولکاتا واقع ’فلنٹ ڈی اورینٹ مارکیٹنگ اینڈ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ کمپنی کاروباری اداروں کے لیے سافٹ ویئر، آٹومیشن اور مارکیٹنگ سسٹمز کی تیاری و نفاذ میں مہارت رکھتی ہے۔ کمپنی اُن لوگوں کے ساتھ کام کرتی ہے جو معمولی نتائج پر اکتفا کرنے کے بجائے ترقی، جدت اور پائیدار کامیابی کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔


جب میں نے صابر علی ملا سے ان کی جدوجہد کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کچھ ایسی باتیں بتائیں جو جذبات کے بھنور میں بھی دھکیلتی ہیں اور جوش و جنون کی مثال بھی قائم کرتی ہیں۔ بات شروع ہوتی ہے ان کے گاؤں ’پدما بِلا‘ سے جو حکیم پور بارڈر کے قریب ہے اور وہاں پہنچنے کے لیے سرحد پر لگے باڑ کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے سرحدی علاقوں کی طرح پدما بِلا گاؤں میں بھی کئی طرح کے مسائل موجود ہیں اور بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ صابر کہتے ہیں کہ ’’میرا گھر سرحد پر ہندوستان کا آخری گھر ہے۔ وہاں پر کسی کے لیے پہنچنا بہت مشکل ہے، اور اس سے زیادہ مشکل ہے وہاں کے لوگوں کا گاؤں سے نکل کر زندگی کی نئی راہ تلاش کرنا۔‘‘

ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

’فلنٹ دی اورینٹ‘ میں کام کرتے ہوئے ملازمین

صابر علی نے بچپن سے ہی اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کی۔ 2009 میں انھوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بی ٹیک کیا، اور پھر اپنی تعلیمی لیاقت کا لوہا اُس وقت منوا لیا جب 2010 میں مغربی بنگال الیکٹرسٹی ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ انجینئر کی ملازمت حاصل کی۔ اُس وقت پوری فیملی میں جشن کا ماحول تھا، کیونکہ صابر نے اپنے والد مہرل کا خواب پورا کر دیا تھا۔ لیکن ایک خواب صابر نے بھی دیکھا تھا، جس کی تکمیل ابھی باقی تھی۔ وہ کچھ ایسا کرنا چاہتے تھے جس سے سماج کی خدمت ہو سکے۔ کوئی ایسا کاروبار جو منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سماج کی خوشحالی کا سبب بنے۔ حالانکہ پیش قدمی مشکل تھی، کیونکہ کسی بھی کاروبار کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2011 میں صابر کی شادی سلمیٰ پروین سے ہوئی، جس کے بعد وہ ایک الگ طرح کی ذمہ داری میں مبتلا ہو گئے۔


وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا، ساتھ ہی بجلی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہوئے صابر کے ذہن میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا خیال بھی کئی بار آیا۔ پھر 2018 میں سرکاری ملازمت کرتے ہوئے ہی اپنا کاروبار کرنے کا مضبوط ارادہ کر لیا۔ صابر کہتے ہیں کہ ’’خوردنی اشیاء میں ملاوٹ بہت عام ہے، اس لیے فیصلہ کیا کہ سرسوں کا تیل بنانے سے شروعات کی جائے۔ سلمیٰ کے خالو اسی کاروبار سے منسلک تھے، اس لیے انھوں نے ضروری جانکاریوں کے ساتھ تیل بنانے والی مشین بھی دے دی۔ ایک طرف کمپنی رجسٹر کر کاروبار شروع ہو گیا، اور دوسری طرف سرکاری ملازمت بھی چلتی رہی۔‘‘ اس کمپنی کو شروع کرنے کے لیے صابر نے 65 لاکھ روپے کا سرمایہ لگایا۔ وہ سوسائٹی کو ملاوٹ سے پاک تیل دے رہے تھے اور اس کے مثبت نتائج بھی جلد ہی نظر آنے لگے۔ ایک وقت ایسا آیا جب سپلائی کے مقابلے طلب بہت زیادہ بڑھ گئی۔ صابر بتاتے ہیں کہ کاروبار کا تجربہ نہیں تھا اس لیے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مشکلوں سے لڑتے ہوئے وہ کاروبار کو وسعت بھی دینا چاہتے تھے۔ ایسے میں مدد کے لیے بچپن کے ایک دوست نے ہاتھ بڑھایا، جو ایک بڑی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کمپنی سے تقریباً 3.2 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ملی، لیکن حالات بہتر ہونے کی جگہ بدتر ہونے لگے۔ ماہانہ 65 لاکھ روپے کا ریونیو ہو رہا تھا، پھر بھی کمپنی کو خسارہ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

’فلنٹ دی اورینٹ‘ میں کام کرتے ہوئے ملازمین

اس وقت صابر علی نے ایک سخت قدم اٹھایا۔ اپریل 2019 کا وقت تھا، جب انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔ اس وقت تک وہ ڈویژنل انجینئر بن چکے تھے اور تنخواہ تقریباً 75 ہزار روپے ماہانہ تھی۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ سسرالی رشتہ داروں نے بھی ملازمت ترک کرنے کو غلط فیصلہ بتایا اور صابر سے قدم پیچھے کھینچنے کی گزارش کی۔ لیکن صابر کا کہنا تھا کہ اپنے کاروبار کو منافع بخش بنانے اور وسعت دینے کے لیے پورا وقت کاروبار کو دینا ضروری ہے۔ ایسے وقت میں بیوی سلمیٰ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ جب صابر پوری طرح اپنے کاروبار پر توجہ دینے لگے اور ہر کام کی نگرانی کرنے لگے تو مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ پہلے ہی مہینے میں تقریباً 30 لاکھ کا خسارہ کم ہو گیا۔ حالات بہتر ہوتے نظر آئے اور کمپنی کو مزید سرمایہ کاری کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ لیکن یہ بات ’بچپن کے دوست‘ کو ہضم نہیں ہوئی، اور پھر ایسا دھوکہ ہوا جس نے صابر کی زندگی میں قیامت برپا کر دیا۔ صابر کہتے ہیں کہ ’’میرے دوست کو جب اس کاروبار میں اپنا فائدہ کم نظر آنے لگا تو اس نے قریبی ڈسٹریبیوٹرس کو فون کر مال نہ خریدنے کا دباؤ بنانا شروع کر دیا۔ اس سے 70 لاکھ کی ماہانہ فروخت گھٹ کر 30 لاکھ پر آ گئی۔ جب مجھے حقیقت کا پتہ چلا تو بہت تکلیف ہوئی، کیونکہ اس طرح کاروبار کو سنبھالنا ممکن نہیں تھا۔‘‘


جب مشکلیں بڑھنے لگیں تو صابر علی نے اکتوبر 2019 میں پھر ایک سخت فیصلہ لیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے اپنے دوست کے ساتھ کوئی کاغذی کارروائی نہیں کی تھی، اس لیے کشمکش والی حالت تھی۔ پھر میں نے دوست سے کہا کہ اپنے پیسے لے کر کمپنی میرے حوالے کر دو۔ اس نے رقم واپسی کے لیے محض 2 ماہ کا وقت دیا۔ اتنے کم وقت میں 3.2 کروڑ روپے کی ادائیگی ممکن نہیں تھی۔ پھر میں نے کمپنی دوست کے حوالہ کر دیا اور 65 لاکھ روپے کی اپنی سرمایہ کاری والی رقم اس سے طلب کر لی۔‘‘ یعنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر صابر جس کمپنی کو تیزی کے ساتھ اونچائی عطا کرنا چاہتے تھے، وہ کمپنی ہی ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

’فلنٹ دی اورینٹ‘ میں کام کرتے ہوئے ملازمین

یہ واقعہ کسی کی بھی ہمت توڑ سکتا تھا، لیکن صابر نے نیا کاروبار شروع کرنے کی ضد ٹھان لی۔ بیوی سلمیٰ نے آئی ٹی سیکٹر میں کچھ کرنے کا مشورہ دیا، لیکن صابر پر جیسے خود کو ثابت کرنے کا جنون سوار تھا۔ وہ نیا کاروبار شروع کر زمانے کو دکھانا چاہتے تھے کہ ان کے اندر گر کر کھڑے ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ کچھ مہینوں کے غور و خوض نے انھیں مصالحہ کاروبار کی طرف راغب کیا۔ 2020 میں ’کوک سکھ‘ نام سے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بھی شروع ہو گئی اور پچھلے کاروبار کا تجربہ بہت کام آیا۔ اس کمپنی کو ’پنکھ‘ لگے ہی تھے اور پرواز بھرنے ہی والی تھی کہ ایسی تکنیکی خامی سامنے آ گئی، جس نے صابر کو پھر سے زمین پر لا پٹکا۔ دراصل کم سرمایہ کاری کے سبب پیکیجنگ کی سستی مشین خریدی گئی تھی، جس نے معاملہ خراب کر دیا۔ مصالحوں کے ایسے ہزاروں پیکیٹ مارکیٹ میں پہنچ گئے جس کے اندر ہوا داخل ہو چکی تھی۔ یعنی مصالحے خراب ہو گئے اور ڈسٹریبیوٹرس نے خوب کھری کھوٹی سنائی۔ تقریباً 10 لاکھ روپے کا مصالحہ برباد ہو گیا۔ پیسوں کی کمی کے سبب پھر سے کھڑا ہونا مشکل تھا ہی، مارکیٹ میں بدنامی کے سبب اس کاروبار کو بھی بند کرنا پڑا۔


2021 کے آخر میں ایک دوست نے رئیل اسٹیٹ بزنس کی باریکیوں کو سمجھایا اور اس شعبہ میں قسمت آزمائی کا مشورہ دیا۔ صابر نے بہت غور کرنے کے بعد پایا کہ مغربی بنگال کے کئی علاقوں میں مسلم طبقہ کو گھر خریدنے میں مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کو گھر خریدنے یا کرایہ کے لیے گھر تلاش کرنے میں بہت پریشانی ہوتی ہے۔ لوگ مسلم نام سن کر ہی منع کر دیتے ہیں۔ اس لیے ایک دوست کے ساتھ مل کر بڑا سا پلاٹ دیکھا، جہاں مسلمانوں کو فلیٹ بنا کر فروخت کیا جا سکے۔‘‘ یہ فیصلہ صابر علی کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ پہلے پروجیکٹ میں 20 لوگوں سے انھوں نے 24-24 لاکھ روپے لے کر انھیں 3 بی ایچ کے دینے کا وعدہ کیا۔ اس رقم سے 2 بیگھا زمین خرید لی جہاں تقریباً 100 فلیٹ بن گئے۔ ان میں کچھ 3 بی ایچ کے تھے اور کچھ 2 بی ایچ کے۔ 3 بی ایچ کے فلیٹس 50 لاکھ روپے تک میں فروخت ہوئے، جو کہ 20 سرمایہ کاروں کو 24-24 لاکھ روپے میں ہی پڑے۔ فلیٹ بنانے کے لیے جس ڈیولپر سے معاہدہ ہوا تھا، اس کو زیادہ فائدہ دیا گیا، لیکن صابر کے مطابق اس پروجیکٹ نے معاشی طور پر انھیں بھی مضبوط بنا دیا۔ اب اسی طرح کے 4-3 پروجیکٹ مختلف مقامات پر چل رہے ہیں۔ معاشی حالت بہتر ہونے سے صابر کی ہمت بڑھی اور آئی ٹی سیکٹر میں اپنی مہارت کو دیکھتے ہوئے 2022 میں ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ یہ قدم انھوں نے مغربی بنگال بجلی ڈپارٹمنٹ کے ایک دوست کے مشورہ پر اٹھایا، جو اب انقلابی ثابت ہو رہا ہے۔ صابر کہتے ہیں ’’25-2024 میں آے آئی (مصنوعی ذہانت) کی ایسی لہر آئی، جس نے مجھے بتا دیا کہ مستقبل کی کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے۔ پھر اے آئی کا بہتر استعمال شروع کیا، اور فلنٹ ڈی اورینٹ کم وقت میں ہی ایک مضبوط و منافع بخش کمپنی بن گئی۔‘‘

ہم ہیں کامیاب-11: ریڈیو میکینک کے بیٹے نے ناکامیوں سے جنگ لڑ کر کھڑی کر دی آئی ٹی کمپنی ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘

’فلنٹ دی اورینٹ‘ میں کام کرتے ہوئے ملازمین

اب ایک طرف صابر علی رئیل اسٹیٹ کاروبار کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں، اور دوسری طرف ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ اس کمپنی کے ذریعہ سوسائٹی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں، کیونکہ تعلیم و صحت سے جڑے کچھ ایسے پروڈکٹس تیار کیے گئے ہیں جو آنے والے وقت میں کمپنی کو نئی شناخت دے سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک کاروبار میں ’بچپن کے دوست‘ سے دھوکہ ملنے کے باوجود انھوں نے لوگوں پر بھروسہ کرنا بند نہیں کیا۔ مصالحہ کاروبار ہو، رئیل اسٹیٹ ہو یا پھر ’فلنٹ ڈی اورینٹ‘... سبھی میں کسی نہ کسی دوست کی شراکت داری ضرور رہی۔ سچائی بھی یہی ہے کہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ صابر کو ایک دوست نے دھوکہ دیا تو سفر میں کئی مخلص دوست مل بھی گئے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔