فکر و خیالات

ہم ہیں کامیاب-15: بچپن میں ڈرائنگ بنانے کے شوق نے پیوش شریواستو کو بنا دیا فن تعمیر کا ماہر

2012 سے اب تک ’نیکسس پلس کنسلٹنٹ‘ کا سفر انتہائی یادگار رہا ہے۔ کمپنی نے ’سہارا ٹاؤن شپ‘، ’فورٹس‘، ’ڈی ایم آر سی‘، لکشمی متل گروپ، جندل گروپ جیسے اداروں کے لیے کام کیا ہے، اور یہ سفر جاری ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’نیکسس پلس‘ کے بانی پیوش شریواستو</p></div>

’نیکسس پلس‘ کے بانی پیوش شریواستو

 

  • ’’ہم اپنی عمارتوں کی تشکیل کرتے ہیں، اس کے بعد وہ ہماری تشکیل کرتی ہیں۔‘‘ – ونسٹن چرچل

  • ’’آپ دنیا کی سب سے شاندار جگہ کا خواب دیکھ سکتے ہیں، اسے تخلیق، ڈیزائن اور تعمیر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ – والٹ ڈزنی

  • ’’اچھی عمارتیں اچھے لوگوں سے بنتی ہیں، اور تمام مسائل کا حل اچھے ڈیزائن میں ہے۔‘‘ – اسٹیفن گارڈنر

اوپر میں 3 بڑی شخصیات کے اقوال دیے گئے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ گھر یا دفتر تبھی پُرسکون، جاذب نظر، تناؤ سے پاک اور خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں، جب اس کی تعمیر و تشکیل جگہ اور حالات کے ساتھ ساتھ وہاں رہنے والوں کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے ایک آرکیٹکچر، یعنی فن تعمیر کے ماہر کی۔ دراصل ایک ماہر معمار ہی جگہ، بجٹ، ضروریات اور مستقبل کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ڈیزائن تیار کر سکتا ہے جو آرامدہ، پائیدار اور مؤثر ہو۔ فلک بوس عمارتیں ہوں یا چھوٹے بنگلے، عالی شان دفتر ہوں یا اسپتال و کلینک... ان سبھی کی تعمیر کے لیے موجودہ دور میں ماہر معمار کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ انہی ماہر معماروں میں ایک نام ہے پیوش شریواستو۔ انھوں نے بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ ’نیکسس پلس کنسلٹنٹ‘ نامی کمپنی تقریباً 2 دہائی قبل قائم کی تھی۔ آج اس کمپنی نے اپنی ایک الگ پہچان بنا لی ہے، لیکن اس کامیابی کے پیچھے پیوش شریواستو کی زبردست تگ و دو موجود ہے۔

پیوش شریواستو کی پیدائش یوں تو 1971 میں ہوئی تھی، لیکن زندگی کا حقیقی سفر 1993 میں شروع ہوا جب وہ اپنی جیب میں 2000 روپے لے کر کیریئر بنانے کا خواب دل میں سنجوئے کانپور (یوپی) سے دہلی پہنچے۔ پیسوں کے علاوہ ان کے پاس کچھ تعلیمی سرٹیفکیٹس تھے اور دل میں کچھ کر گزرنے کا جنون۔ ابتدا میں وہ کالج کے کچھ دوستوں کے ساتھ شاہ پور جاٹ علاقہ میں رہے اور اپنے اندر موجود ایک معمارِ فن کی تلاش شروع کر دی۔ پنسل اور کاغذ سے ان کا یارانہ بچپن سے تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعبۂ معماری میں وہ تیزی سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ حالانکہ یہ تیزی ان کے لیے پریشانی کا باعث بھی بنی، کیونکہ 2001 میں انھوں نے جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’نیکسس پلس‘ کمپنی کی بنیاد ڈال دی جسے سنبھالنا محال ہو گیا۔ مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے 2004 میں انھوں نے ’نیکس پلس‘ کو پس پشت ڈال کر ملازمت کرنے کا ایک مشکل بھرا فیصلہ لیا۔ لیکن یہ فیصلہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے کوئی گھوڑا تیز دوڑ شروع کرنے سے پہلے دو قدم پیچھے ہٹتا ہے۔ پیوش شریواستو نے بھی اس بات کو سمجھا کہ اگر معماری کے شعبہ میں اپنی پہچان بنانی ہے تو کچھ وقت کے لیے اپنے قدم پیچھے کھینچنے ہی ہوں گے۔

پیوش شریواستو اپنے مشکل بھرے اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کمپنی چلانا ان کے لیے انتہائی دشوار ہو گیا تھا اور اس کی کئی وجوہات تھیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا گھرانہ بزنس سے جڑا ہوا نہیں تھا، اس لیے بزنس کے اصول اور اس کی حقیقی سمجھ سے واقفیت بھی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرے والد ایگریکلچر یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور والدہ ’گورنمنٹ اسکول، اناؤ‘ میں پرنسپل تھیں۔ ان کی زندگی ہمیشہ باوقار رہی، کیونکہ کبھی کسی سے پیسے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میرے ساتھ بزنس میں سب سے بڑا مسئلہ یہی پیدا ہوا کہ کلائنٹ سے پیسے مانگنے میں جھجک محسوس ہوتی تھی۔ کوئی پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد بھی پوری رقم حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتا تھا۔‘‘

پیوش مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ فیس مانگنے میں انھیں ہمیشہ شرمندگی محسوس ہوئی۔ ساتھ ہی مارکیٹنگ اور ٹیم مینجمنٹ کا تجربہ بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ اس وجہ سے معاشی عدم استحکام بڑھتا گیا اور پیسے مارکیٹ میں پھنستے چلے گئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2001 میں پیوش شریواستو کی شادی گیتانجلی سے ہو چکی تھی اور 2003 میں ان کی پہلی بیٹی سلونی پیدا ہوئی۔ یعنی یہ وہ وقت تھا جب کمپنی تو عدم استحکام کا شکار تھی ہی، گھریلو ذمہ داریاں بھی بڑھ چکی تھیں۔ اس طرح کے حالات سے نمٹنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ گھر اور دفتر کے درمیان تال میل بیٹھانا ایک الگ مسئلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پیوش شریواستو کو اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی تردد نہیں ہوتا کہ کمپنی شروع کرنے میں انھوں نے جلد بازی کر دی۔ اس کا احساس ہوتے ہی انھوں نے ملازمت کی طرف رخ کیا اور تقریباً 8 سالوں میں خود کو اس لائق بنایا کہ اپنی کمپنی از سر نو شروع کی جا سکے۔ 2012 میں ’نیکسس پلس کنلسٹنٹ‘ کو دوبارہ کھڑا کیا گیا، اور پھر اس کے بعد کمپنی نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

فن تعمیر سے اپنی دلچسپی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیوش شریواستو نے کہا کہ بچپن میں کبھی اس کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ یہ ضرور ہے کہ تصویر بنانے کا شوق تھا، جیسا کہ کئی بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔ کبھی درخت کی تصویر، کبھی آدمی کی تصویر اور کبھی گھر کی تصویر بڑے شوق سے بناتا تھا۔ اوپر والے نے ہاتھ میں کچھ ایسا ہنر بچپن سے دے دیا تھا کہ لوگوں کو میری تصویریں پسند آتی تھیں۔ اسکول میں ڈرائنگ کے اچھے نمبر بھی ملتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب تعلیمی سلسلہ آگے بڑھا تو فزکس اور بایولوجی سبجیکٹ میں اسکیچ بنانا مجھے بہت پسند آتا تھا۔ میں اکثر اپنے ساتھیوں کے اسکیچ بھی بنا دیتا تھا، جس کی تعریف ہوتی تھی اور اس سے میرا حوصلہ بھی بڑھتا تھا۔‘‘ پیوش شریواستو نے بتایا کہ انٹرمیڈیٹ میں والدین نے انھیں بایولوجی، فزکس اور ریاضی کا انتخاب کرنے کہا تاکہ انجینئر یا ڈاکٹر بن سکیں، لیکن 1988 میں جب جے ای ای (جوائنٹ انٹرنس اگزام) کا امتحان دیا تو پہلی بار میں ہی آرکیٹکچر کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ انھیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ آرکیٹکچر کے بارے میں کچھ بھی جانکاری نہ ہونے کے باوجود ’ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ اِن آرکیٹکچر‘ (جو کہ جے ای ای میں ایک ایڈیشنل سبجیکٹ تھا) میں انھیں نمایاں نمبرات حاصل ہوئے۔ اسی ریزلٹ نے ان کی زندگی کا ایک راستہ طے کر دیا۔

پیوش شریواستو کی زندگی پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ 04-2003 ان کے لیے سخت آزمائشوں والا وقت تھا، لیکن وہ اِسے ہی اپنی زندگی اور کیریئر کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’مشہور کمپنی ’اومیکس‘ کے ساتھ میں کسی نہ کسی طرح پہلے سے جڑا ہوا تھا، لیکن اس نے جب ملازمت کی پیشکش کی تو سنجیدگی کے ساتھ غور کیا۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ ایک کمپنی کی ترقی میں معاشی استحکام اور ایکسپوزر کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ کچھ سالوں کی ملازمت سے معاشی مسائل بھی دور ہو سکتے تھے اور اچھے کام سے ایکسپوزر بھی حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اومیکس کی پیشکش کو قبول کیا اور پورے دل سے اپنے کام کو نکھارنے میں مصروف ہو گیا۔‘‘ اس ملازمت کے دوران گجرات میں گاندھی نگر کے مشہور پروجیکٹ ’گفٹ‘ (GIFT) کے لیے انھوں نے بطور ’لیڈر‘ کام کیا، جو کہ چین اور ہندوستان کی کمپنیوں کا مشترکہ پروجیکٹ تھا۔ 2008 میں مکمل ہوئے اس پروجیکٹ نے انھیں عالمی سطح پر پہچان دلائی۔ انھوں نے شنگھائی اور کوریا کا دورہ کر اس پروجیکٹ کی تفصیل دنیا کے سامنے رکھی۔ کچھ دوسرے پروجیکٹس نے بھی ان کے ہنر کو ثابت کیا اور اس کے نتیجے میں بیرونی ممالک سے کچھ اہم رابطے بنے۔ دھیرے دھیرے پیوش معاشی طور پر تو مضبوط ہوئے ہی، نئے نئے تجربات کے ساتھ بزنس کی باریکیوں کو بھی سیکھا۔ باتوں باتوں میں انھوں نے بتایا کہ وہ بزنس مینجمنٹ اور ٹیم مینجمنٹ سے جڑی کتابوں کو خوب پڑھتے تھے، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس کا بھرپور فائدہ انھیں ’نیکسس پلس کنسلٹنٹ‘ کو ترقی کے زینے پر چڑھانے میں ملا ہے۔

2012 سے اب تک ’نیکسس پلس کنسلٹنٹ‘ کا سفر انتہائی یادگار رہا ہے۔ کمپنی نے ’سہارا ٹاؤن شپ‘ (کانپور، بیکانیر)، ’فورٹس‘، ’اُنتی فارچیون گروپ‘، ’سایا گروپ‘، ’ڈی ایم آر سی‘ (آئی ایل بی ایس فیز-2)، ایچ ایم ای ایل (لکشمی متل گروپ)، جندل گروپ جیسے اداروں کے لیے کام کیا ہے، اور یہ سفر جاری ہے۔ اس کامیاب سفر کے پیچھے کمپنی میں موجود خوشگوار ماحول کا بھی تعاون ہے۔ پیوش شریواستو نے کمپنی میں ایک دوستانہ فضا قائم کی ہے، جہاں سب ساتھ مل کر کرکٹ بھی کھیلتے ہیں اور سیر و سیاحت بھی کرتے ہیں۔ یہ ملازمین آپس میں صحت مند مقابلہ آرائی بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام کی تعریف سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہیں کہ پیوش شریواستو کے اندر موجود اسکیچنگ و ڈرائنگ کا جنون اب ان کی 18 سالہ چھوٹی بیٹی سمائرا میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ اسکولی تعلیم مکمل کر چکی سمائرا اس وقت ہندوستان میں چوتھی رینک رکھنے والے آرکیٹکچر اسکول ’آئی آئی ای ایس ٹی‘ (شیوپور، ہوڑہ) میں زیر تعلیم ہے۔ یعنی وہ دن دور نہیں جب باپ اور بیٹی دونوں مل کر ’نیکسس پلس کنسلٹنٹ‘ کو کامیابی کے نئے آسمان پر لے جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔