
ایم کے آر انٹرنیشنل کے بانی عبدالمعبود
کیا آپ کو شہزادہ حسین یاد ہے؟ وہی شہزادہ حسین، جس کا ذکر ’الف لیلیٰ‘ یعنی ہزار داستانوں میں سے ایک داستان ’تین شہزادے اور شہزادی نورالنہار‘ (پری بانو اور شہزادہ احمد کا قصہ) میں ہے۔ شہزادہ حسین نے ایک ایسا جادوئی قالین خریدا تھا جس پر بیٹھ کر انسان جہاں خواہش ہو، پلک جھپکتے پہنچ سکتا تھا۔ جادوئی قالین کا یہ قصہ تو محض تخیل پر مبنی ہے، لیکن قالین سے انسیت کی ایک حقیقی داستان آج ہم آپ کے سامنے لے کر آئے ہیں۔
بات 90 کی دہائی کے نصف اول کی ہے، جب ایک بچہ اپنے اور چچیرے بھائی بہنوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے قالین تیار کیا کرتا تھا۔ اس عمل میں بچے کو بے انتہا لطف کا احساس ہوتا تھا۔ اس کھیل نے کب ایک خواب کی شکل اختیار کر لی، پتہ ہی نہیں چلا۔ خواب تھا خوبصورت و دیدہ زیب قالین تیار کرنا اور بیرون ممالک بھیج کر اپنے آبائی وطن ’بھدوہی‘ کا نام روشن کرنا۔ آج وہ بچہ ایک تجربہ کار اور ماہر قالین ساز بن چکا ہے، نام ہے عبدالمعبود۔ انھوں نے ’ایم کے آر انٹرنیشنل‘ نام سے 22-2021 میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی، جو کم عرصہ میں ہی کامیابی کی داستان رقم کر چکی ہے۔ کمپنی کی خاص بات یہ ہے کہ ابتدا سے اب تک اسے کبھی زوال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، بلکہ کمپنی ترقی کی منزلیں تیزی کے ساتھ طے کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ترقی کے پیچھے کا راز عبدالمعبود کا تقریباً ڈھائی دہائی پر مشتمل تجربہ ہے۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بھدوہی دنیا بھر میں ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے مشہور ہے۔ اس شہر کو ’کارپیٹ سٹی آف انڈیا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی عبدالمعبود نے بچپن سے ہی ہاتھوں سے خوبصورت قالینوں کو بنتے ہوئے دیکھا، اور پھر کھیلنے کے لیے بھائی بہنوں کے ساتھ قالین تیار کرتے کرتے مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھیں بچپن سے ہی بیرونِ ممالک گھومنے کا بہت شوق رہا ہے۔ پھر جب قالین سازی میں دلچسپی پیدا ہوئی تو ’شوق‘ اور ’دلچسپی‘ کے امتزاج نے ایک ایسا راستہ دکھایا، جس پر چل کر وہ اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے تھے۔
1997 میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے فوراً بعد عبدالمعبود نے اپنے خواب کو پورا کرنے کی طرف پہلا قدم بڑھا دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے 1998 میں ایک کمپنی سے منسلک ہو کر قالین سازی کا ہنر سیکھنا شروع کیا۔ ماہر قالین سازوں کی صحبت اور محنت نے کم وقت میں ہی ہنرمند بنا دیا، لیکن اپنی کمپنی شروع کرنے کے لیے کارپیٹ انڈسٹری کے ہر شعبہ سے واقف ہونا لازمی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 تک مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے تجربات حاصل کیے اور خام مال درآمد کرنے سے لے کر تیار مال مارکیٹ میں پہنچانے تک ہر مرحلہ کی باریکی کو سمجھا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کا ارادہ شروع سے ہی قالینیں بیرون ممالک برآمد کرنا تھا، اس لیے کچھ ایسے رابطے بھی قائم کیے گئے جس سے کمپنی شروع کرنے کے بعد مشکلات پیش نہ آئیں۔ عبدالمعبود کی یہی دور اندیشی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 5 سالوں میں کمپنی کو کسی بھی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ شروع میں ایک اچھی ٹیم بنانے کے دوران انھیں کچھ مسائل کا ضرور سامنا کرنا پڑا، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں آسان ہوتی چلی گئیں۔
عبدالمعبود نے ’ایم کے آر انٹرنیشنل‘ 4 ملازمین کے ساتھ شروع کیا تھا۔ 2 سالوں میں ملازمین کی یہ تعداد بڑھ کر ایک درجن ہو گئی اور 5 سالوں کے بعد 200 کے پار پہنچ چکی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عبدالمعبود نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے کس قدر محنت اور منصوبہ بندی کی ہوگی۔ اگر کبھی مشکل وقت آیا اور وہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوئے، تو اہل خانہ نے ہمت و حوصلہ دیا۔ خاص طور سے ان کی بیگم سمیہ نے گھر کی پوری ذمہ داری سنبھالی اور اپنے 3 بچوں کی بہترین پرورش پر پوری توجہ مرکوز کی۔ یعنی کہیں نہ کہیں ’ایم کے آر انٹرنیشنل‘ کی کامیابی میں مسز عبدالمعبود کا تعاون بھی شامل ہے۔
بہرحال، اب تو یہ کمپنی قالین سازی کے ساتھ ساتھ معیاری ٹیکسٹائل کے لیے بھی مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہاں قالین کی کئی قسمیں موجود ہیں، جن میں پرنٹیڈ، چوٹیدار (بریڈیڈ)، ٹیبل ٹفٹیڈ (گچھے دار)، ہاتھوں سے بُنا ہوا، ہاتھوں سے ٹفٹ کیا ہوا (ہینڈ ٹفٹیڈ) اور ہاتھوں سے گرہ دار انداز میں (ہینڈ ناٹیڈ) تیار قالینیں شامل ہیں۔ اسی طرح ٹیکسٹائل میں تکیہ، بیلٹ، ایپرن، سیٹ، ہینڈ بیگس وغیرہ دستیاب ہیں جو دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔ عبدالمعبود کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک میں کمپنی نے کم وقت میں اپنی شناخت قائم کر لی کیونکہ ہماری کوشش پرانے ہنر اور روایتی دستکاری کو جدید ڈیزائن سے ہم آغوش کر ایک نئی جاذبیت عطا کرنے کی رہی ہے۔ خاص طور سے مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے لیے خاص ڈیزائن والے قالین اور دیگر پروڈکٹ تیار کرنا چیلنج سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے لیے تحقیق کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ذہانت کی بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اچھی بات یہ ہے کہ ہماری ایک اچھی ٹیم تیار ہو گئی ہے، اور کمپنی کی جو کامیابی آپ دیکھ رہے ہیں، وہ اسی اچھی ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘‘
اس وقت عبدالمعبود کی کمپنی ’ایم کے آر انٹرنیشنل‘ جرمنی، اٹلی، فرانس، امریکہ، جاپان سمیت درجن بھر ممالک میں اپنا کاروبار مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ اب ارادہ خلیجی ممالک میں قدم رکھنے کی ہے، جو ایک مشکل مرحلہ ہے۔ عموماً قالین کے حقیقی بازار ٹھنڈے ممالک ہوتے ہیں، اس لیے گرم ممالک کو توجہ میں رکھ کر عبدالمعبود کچھ مختلف پروڈکٹ تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں وال ہینگنگ، پردہ اور پائیدان جیسے پروڈکٹ متعارف کرانا بہتر ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال تحقیق کا مرحلہ چل رہا ہے۔ ایک بار تحقیق کا عمل مکمل ہو جائے، پھر نئے ممالک کا رخ کرنے میں آسانی ہوگی۔ وہ امید کر رہے ہیں کہ آئندہ 2 سالوں میں اپنا یہ خواب بھی پورا کر سکیں گے۔ یہ بہت مشکل بھی نہیں، کیونکہ اب ان کے بڑے صاحبزادے 21 سالہ احمد عبدالمعبود بھی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں۔ یعنی ’تجربہ‘ اور ’جدید تکنیک‘ کا سنگم ہو چکا ہے۔ یہ سنگم ہوا میں پرواز بھرنے والا ’جادوئی قالین‘ بھلے نہ بنائے، لیکن بیرون ملکی باشندوں کو ’مسحور کرنے دینے والا قالین‘ بنانے کی اہلیت ضرورت رکھتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔