سی یو ای ٹی اور بورڈ کے امتحانات دینے والے طلباء کا ڈاٹا لیک! مختلف ویب سائٹس پر فروخت کی جا رہی ہیں ذاتی معلومات
رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر کچھ ویب سائٹس دعوی کر رہی ہیں کہ ان کے پاس ’سی یو ای ٹی 2026‘ اور دیگر بورڈ امتحانات میں شامل ہونے والے طلباء کا ڈاٹا بیس دستیاب ہے۔

’سی یو ای ٹی 2026‘‘ اور مختلف بورڈ امتحانات میں شامل ہونے والے طلباء کے ڈاٹا سے متعلق اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ کچھ ویب سائٹس طلباء کی ذاتی معلومات فروخت کر رہی ہیں۔ اس خبر کے بعد طلباء اور والدین میں ڈاٹا سیکورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے اپنے سسٹم کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر کچھ ویب سائٹس دعوی کر رہی ہیں کہ ان کے پاس ’سی یو ای ٹی 2026‘ اور دیگر بورڈ امتحانات میں شامل ہونے والے طلباء کا ڈاٹا بیس دستیاب ہے۔ ان ویب سائٹس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں، کالجوں اور ایڈمیشن سے وابستہ اداروں کو طلباء کا ڈاٹا دستیاب کراتی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈاٹا بیس کی قیمت اس کے سائز اور معلومات کے لحاظ سے 1000 سے 10000 روپے کے درمیان رکھی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مبینہ ڈاٹا بیس میں طلباء کا نام، موبائل نمبر، ای میل آئی ڈی، درخواست نمبر، تاریخ پیدائش، والدین کا نام، جنس اور زمرہ سمیت دیگر ذاتی معلومات شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ کچھ ویب سائٹس نے ممکنہ خریداروں کو یقین دلانے کے لیے ریکارڈ کی ایک محدود تعداد کو نمونے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اگر کسی طلباء کی ذاتی معلومات بغیر اجازت کسی کے پاس پہنچتی ہے یا فروخت کی جاتی ہے، تو اس کے غلط استعمال کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے ڈاٹا کا استعمال فرضی ایڈمیشن کال، اسپیم میسج، سائبر جعلسازی، یا شناخت سے متعلق جعلسازی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹا سے وابستہ معاملوں کو بے حد حساس مانا جاتا ہے۔ پورے معاملے میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ ’’امیدواروں کی معلومات کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔ امتحان اور نتائج سے وابستہ ڈاٹا صرف محفوظ سرکاری پلیٹ فارم اور رضامندی پر مبنی عمل کے ذریعے شیئر کیا گیا۔‘‘ این ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’’ اس کے سرکاری نظام محفوظ ہیں اور امیدواروں کی معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
