
تصویر اے آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کی خواہش کی خبریں جب پہلی بار سامنے آئیں تو بہت سے لوگوں نے اسے ایک عجیب و غریب مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ذریعےگرفتاری کے بعد، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو مزید جری کر دیا ہے، یہ معاملہ اب کوئی مذاق نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق، یہ ایک فوری اور سنگین خطرہ ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی سیکورٹی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے۔ یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا خریدنے کی بات نہیں؛ اس کے پیچھے چھپے مقاصد اتنے گہرے ہیں کہ وہ ناٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی اورگنائزیشن) کو توڑ سکتے ہیں، روس کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور عالمی طاقت کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتے ہیں۔ ذیل میں اس صورتحال کے اہم پہلوؤں پر نظر ڈالی گئی ہے۔
Published: undefined
اس پورے معاملے کا سب سے خطرناک پہلو ناٹو اتحاد کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ اگر امریکہ گرین لینڈ (جو کہ ڈنمارک کا علاقہ ہے) کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کرتا ہے تو یہ ناٹو کے ایک رکن ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ قدم ناٹو کے بنیادی اصول، یعنی آرٹیکل 5، کو بے معنی بنا دے گا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے اس خطرے کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکہ ناٹو کے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو سب کچھ رک جائے گا - اس میں ناٹو اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سیکورٹی بھی شامل ہے۔‘‘
Published: undefined
اٹلانٹک کونسل کی تجزیہ کار اینا ویزلینڈر اس تشخیص سے متفق ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اگر وہ تاریک ترین لمحہ آ گیا اور امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کیا تو ناٹو کے اندر آرٹیکل 5 اور اجتماعی دفاع کا اصول اپنا معنی کھو دے گا۔‘‘ اگر ایسا ہوتا ہے تو، جیسا کہ ماہر تجزیہ کار جان میرشائمر نے کہا، ناٹو اتحاد مؤثر طریقے سے تباہ ہو جائے گا اور صرف ’اپنے وجود کا ایک سایہ‘ بن کر رہ جائے گا۔
Published: undefined
گرین لینڈ پر امریکی قبضہ روس کے اسٹریٹیجک مقاصد، خاص طور پر (یوکرین میں) کے لیے ایک بہت بڑا فائدہ ثابت ہوگا۔ تجزیہ کار کیئر گائلز کے مطابق اس طرح کا قدم اس نظریے کو قانونی حیثیت دے گا کہ ’’بڑی طاقتیں جسے اپنا ’پچھواڑا‘ سمجھتی ہیں، اس میں کھلی چھوٹ حاصل کر سکتی ہیں۔‘‘ یہ وہی دلیل ہے جو روس یوکرین پر اپنے حملے کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
Published: undefined
اس طرح، امریکہ کا یہ اقدام یوکرین پر روسی حملے کے خلاف بین الاقوامی اخلاقی مؤقف کو کمزور کر دے گا اور ماسکو کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا ’سب سے بڑا تحفہ‘ ثابت ہوگا۔ جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے اس اخلاقی خطرے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ایک ایسے ’’ڈاکوؤں کے اڈے میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا، جہاں بے اصول لوگ جو چاہیں چھین لیں۔‘‘
Published: undefined
یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں جتنا لگتا ہے۔ گرین لینڈ میں ہر کوئی امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا مخالف نہیں ہے۔ گرین لینڈ کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ’نالیراق‘ کے رہنما، پیلے بروبرگ، اس معاملے میں ایک اہم آواز بن کر ابھرے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت ہونی چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں ڈنمارک ’’اپنی ثالثی سے گرین لینڈ اور امریکہ دونوں کو ناراض کر رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ امریکہ کو اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ایک اندرونی راستہ فراہم کرتا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ کی اس حکمت عملی کو مزید براہ راست طریقوں سے تقویت دی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک چونکا دینے والی مالیاتی چال پر غور کر رہی ہے: گرین لینڈ کے باشندوں کو امریکہ میں شامل ہونے کے لیے فی کس 10 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک کی رشوت کی پیشکش۔ یہ حربہ ماہرین کے اس خدشے کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکہ کے ابتدائی اقدامات میں ’جبر، دباؤ، بلیک میل‘ یا گرین لینڈ میں خود مختاری کی تحریک کو مضبوط کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
یورپ کے عوامی اور نجی مؤقف میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ عوامی سطح پر یورپی رہنماؤں کی ترجیح یوکرین ہے۔ لیکن پردے کے پیچھے ایک گہرا بحران پنپ رہا ہے۔ تجزیہ کار کیئر گائلز کے مطابق، یورپی رہنما صرف ’وقت حاصل کر رہے ہیں‘ اور ’امریکہ کے ساتھ حتمی علیحدگی کے لیے فوری تیاری‘ کر رہے ہیں۔
Published: undefined
یہ تیاری اب محض قیاس آرائی نہیں رہی۔ اسی ہفتہ فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے جرمنی اور پولینڈ کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈپول نے واضح طور پر کہا کہ ’’چونکہ ڈنمارک ناٹو کا حصہ ہے، اس لیے اصولی طور پر گرین لینڈ کا دفاع بھی ناٹو ہی کرے گا۔‘‘ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ اس خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں دراڑیں عوامی بیانات سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی صرف زمین خریدنے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے پیچھے گہرے اسٹریٹجک مقاصد کارفرما ہیں جو آرکٹک کے مستقبل اور عالمی طاقت کے توازن سے جڑے ہیں۔ اول، برف پگھلنے کی وجہ سے آرکٹک میں نئے تجارتی راستے کھل رہے ہیں۔ ولادیمیر پوتن کے مطابق، گزشتہ دہائی میں شمالی قطب کے پار تجارتی جہاز رانی کے حجم میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔ دوسرے، آرکٹک روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ مقابلے کا ایک نیا میدان بن رہا ہے۔ تیسرے، گرین لینڈ یورپی یونین کے لیے نایاب معدنیات کا ایک امید افزا ذریعہ ہے۔
Published: undefined
لہٰذا، امریکہ کا یہ اقدام مغربی نصف کرہ پر غلبہ حاصل کرنے اور یورپ کو اس خطے سے باہر دھکیلنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 1953 کے معاہدے کے تحت امریکہ کو پہلے ہی گرین لینڈ میں وسیع فوجی حقوق حاصل ہیں، جس میں پٹوفک میں بیلسٹک میزائلوں سے خبردار کرنے والا رڈار اسٹیشن بھی شامل ہے۔ لہٰذا، ٹرمپ کا مقصد صرف موجودگی نہیں، بلکہ مکمل خودمختاری حاصل کرنا ہے، جو کہ ایک کہیں زیادہ جارحانہ اور کلّی عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک سال قبل ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ امریکہ کو ’معاشی تحفظ‘ کے لیے گرین لینڈ اور پاناما کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
گرین لینڈ کا معاملہ محض ایک جزیرے کا سودا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی دنیا کی جھلک ہے جہاں اصولوں پر مبنی نظام کی جگہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا قانون لے رہا ہے۔ یہ بحران امریکہ اور روس کے نظریات کو ایک خطرناک حد تک قریب لے آیا ہے، جہاں دونوں بڑی طاقتیں اثر و رسوخ کے دائروں کو طاقت کے ذریعے قائم کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت کے زعم میں جنم لیتے ہوئے اس نئے عالمی نظام میں، ناٹو جیسے پرانے اتحاد، جنہوں نے دہائیوں تک امن قائم رکھا، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined