فکر و خیالات

دین، دھرم، مذہب اور انسان کی فطرت...ایف اے مجیب

انسان ہمیشہ اپنے وجود، خالق اور کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مختلف مذاہب اور روحانی تصورات اخلاق، انصاف، سچائی اور انسانی فطرت کے مشترک اصولوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

انسانی تہذیب کے آغاز سے لے کر آج کے جدید سائنسی دور تک ایک حقیقت مسلسل انسان کے ساتھ رہی ہے: انسان نے ہمیشہ اپنے وجود کو کسی اعلیٰ حقیقت سے وابستہ محسوس کیا۔ وہ صرف مادی ضروریات کا بندہ بن کر نہیں جیا بلکہ اس کے اندر ایک ایسی فطری پیاس ہمیشہ موجود رہی جس نے اسے اپنے خالق، اپنے مقصد اور کائنات کے نظم کے بارے میں غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی فطری احساس مختلف زبانوں، تہذیبوں اور ادوار میں ’دین‘، ’دھرم‘، ’مذہب‘، ’ریلیجن‘، ’تاؤ‘، ’لوگوس‘ اور دوسرے روحانی تصورات کی شکل میں ظاہر ہوا۔ الفاظ بدلتے گئے مگر انسان کے اندر موجود اصل طلب ایک ہی رہی، اس حقیقت کو پا لینا جو زندگی کو معنی، اخلاق اور مقصد عطا کرتی ہے۔

Published: undefined

عربی زبان میں ’دین‘ ایک نہایت وسیع اور گہرا لفظ ہے۔ اس کے اندر صرف عبادت یا چند مذہبی رسومات شامل نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات کا تصور موجود ہے۔ دین کے مفہوم میں قانون، اطاعت، انصاف، جواب دہی، اخلاق، معاشرت، معیشت اور روحانیت سب شامل ہیں۔ اسی لیے عربی میں “یوم الدین” حساب اور جزا کے دن کو کہتے ہیں۔ گویا دین انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ امتحان ہے۔

’مذہب‘ عربی مادہ ’ذَهَبَ‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’راستہ اختیار کرنا‘۔ اس اعتبار سے مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خالق تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ سنسکرت میں ’دھرم‘ کا لفظ ’دھر‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’سنبھالنا‘، ’قائم رکھنا‘ یا ’تھامنا‘۔ ہندوستانی فلسفے میں دھرم اس اصول کو کہتے ہیں جو کائنات، معاشرے اور انسان کو توازن میں رکھتا ہے۔ لاطینی زبان میں Religion کی جڑ ’Religare‘ ہے، جس کا مطلب ہے ’جوڑنا‘ یا ’باندھ دینا‘۔ یعنی انسان کو کسی اعلیٰ حقیقت سے جوڑ دینا۔ چین میں ’تاؤ‘ کا تصور کائنات کے فطری راستے اور نظم کی علامت ہے، جبکہ یونانی فلسفے میں ’لوگوس‘ عقلِ کائنات اور آفاقی نظم کے معنی میں استعمال ہوا۔

Published: undefined

اگر ان تمام اصطلاحات کو گہرائی سے دیکھا جائے تو حیرت انگیز طور پر ان کی بنیاد ایک ہی ہے۔ سب انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ کائنات محض حادثہ نہیں، انسان محض حیوان نہیں، اور زندگی محض خواہشات کا کھیل نہیں۔ ہر تہذیب نے کسی نہ کسی صورت میں ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی حقیقت کو تسلیم کیا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب اور روحانی روایتوں میں چند بنیادی قدریں مشترک ہیں۔ سچائی کو ہر جگہ فضیلت سمجھا گیا، ظلم کو برا مانا گیا، انصاف کو ضروری قرار دیا گیا، رحم و محبت کی تعلیم دی گئی، والدین کے احترام کو اہم سمجھا گیا، اور انسان کو اپنے اعمال کے لیے جواب دہ مانا گیا۔ یہ یکسانیت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی فطرت کی بنیاد ایک ہی ہے۔ اگر مذاہب محض انسانی ایجاد ہوتے تو مختلف تہذیبوں میں اتنی گہری اخلاقی مماثلت پیدا نہ ہوتی۔

Published: undefined

انسانی تاریخ کے قدیم آثار بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ابتدا میں انسان کا تصورِ خدا زیادہ سادہ اور توحیدی نوعیت کا تھا۔ افریقا، آسٹریلیا، امریکہ اور ایشیا کے قدیم قبائل کے عقائد میں ایک “اعلیٰ آسمانی خدا” کا تصور موجود ملتا ہے۔ وقت کے ساتھ انسان نے اپنی کمزوریاں، خوف، سیاسی مفادات اور ثقافتی اثرات مذہب میں شامل کرنا شروع کر دیے۔ کہیں بزرگوں کو مقدس ہستیاں بنا دیا گیا، کہیں فطری قوتوں کو دیوتا بنا لیا گیا، کہیں اقتدار اور مذہب آپس میں گڈ مڈ ہو گئے۔ یوں اصل تعلیمات میں تدریجاً بگاڑ اور تحریف پیدا ہوتی گئی۔

یہ بگاڑ صرف ایک مذہب تک محدود نہیں رہا بلکہ تقریباً ہر بڑی مذہبی روایت وقت کے ساتھ انسانی خواہشات، سیاسی طاقتوں اور طبقاتی مفادات سے متاثر ہوئی۔ مذہب جو انسان کو خدا سے جوڑنے آیا تھا، کئی جگہ اقتدار اور قومیت کا آلہ بن گیا۔ رسوم اصل مقصد پر غالب آ گئیں، فرقے وجود میں آگئے، اور انسان ظاہری علامتوں میں الجھ کر اصل روح سے دور ہوتا گیا۔

Published: undefined

اسی تاریخی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اسلام کا تصور نہایت اہم ہے۔ اسلام خود کو کسی نئے مذہب کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ اسی ازلی اور فطری دین کا تسلسل قرار دیتا ہے جو ابتدا سے انسانیت کو دیا جاتا رہا۔ اسلام کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خدا ایک ہے، انسان ایک خاندان ہے، اور پوری کائنات ایک ہی خالق کے قانون کے تحت چل رہی ہے۔ اسلام لفظی طور پر بھی ’اطاعت‘، ’سلامتی‘ اور ’خدا کے سامنے جھک جانے‘ کے معنی رکھتا ہے۔

اسلام انسان کو کسی خاص نسل، قوم یا خطے تک محدود نہیں کرتا بلکہ اسے فطرت کا دین قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کو بار بار کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آسمانوں کا نظم، زمین کی ساخت، پانی کا نظام، انسانی تخلیق، دن اور رات کی گردش—یہ سب نشانیاں اس لیے بیان کی جاتی ہیں کہ انسان سمجھ سکے کہ کائنات کے پیچھے ایک ہی حکمت اور ایک ہی خالق کارفرما ہے۔

Published: undefined

اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے خدا اور انسان کے درمیان کسی نسلی یا طبقاتی واسطے کو ضروری نہیں بنایا۔ نہ کوئی خاص نسل خدا کی منتخب قوم قرار پاتی ہے، نہ نجات کو کسی خاندان یا قوم تک محدود کیا جاتا ہے۔ تقویٰ، اخلاق اور عمل کو اصل معیار قرار دیا جاتا ہے۔ یہی چیز اسے فطرت کے زیادہ قریب بناتی ہے، کیونکہ فطرت انسانوں کے درمیان پیدائشی تفریق نہیں کرتی۔

اسلامی تصور کے مطابق ہر انسان ایک فطری شعور کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے مختلف خطوں میں پیدا ہونے والے انسانوں کے اندر خیر و شر کا بنیادی احساس مشترک ہوتا ہے۔ جدید نفسیات بھی یہ مانتی ہے کہ انسان کے اندر کچھ اخلاقی رجحانات پیدائشی ہوتے ہیں۔ اسلام اسی فطری اخلاقی شعور کو بیدار کرتا ہے، نہ کہ اسے مصنوعی طور پر مسلط کرتا ہے۔

Published: undefined

کائنات کا نظم بھی اسی وحدت کی گواہی دیتا ہے۔ پوری کائنات ایک ہی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ ایٹم کے اندر موجود نظم سے لے کر کہکشاؤں کی گردش تک ہر جگہ توازن اور حکمت نظر آتی ہے۔ اگر خالق متعدد ہوتے تو کائنات میں تصادم پیدا ہوتا، مگر یہاں ہر شے حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے۔ یہی وحدتِ قانون وحدتِ خالق کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

انسانی دل بھی اسی حقیقت کا گواہ ہے۔ دنیا کی ترقی، دولت، طاقت اور شہرت کے باوجود انسان کے اندر ایک خلا باقی رہتا ہے۔ یہی خلا اسے اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اسی لیے جب انسان تنہائی، خوف یا مصیبت میں ہوتا ہے تو اس کے دل سے بے اختیار ایک ہی پکار نکلتی ہے۔ یہ پکار کسی فلسفے کا نتیجہ نہیں بلکہ فطرت کی آواز ہے۔

Published: undefined

اصل دین وہی ہے جو انسان کو اس کی فطرت، عقل اور ضمیر سے جوڑ دے۔ ایسا دین جو انسان کو نفرت، تعصب اور تقسیم کے بجائے انصاف، رحم، سچائی اور وحدت کی طرف لے جائے۔ اسلام اسی آفاقی اور فطری دین کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا خالق ایک ہے، تمہاری اصل ایک ہے، اور تمہاری منزل بھی ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined