فکر و خیالات

عظیم اللہ خان: پہلی ملک گیر تحریک آزادی 1857 کا سفیر

عظیم اللہ نے ان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، جو انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں مدد کے لیے تیار تھے

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

Getty Images

 
DEA PICTURE LIBRARY

عظیم اللہ خان کا شما ر پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857 کے ان منصوبہ سازوں میں ہوتا ہے۔جنہوں نے نوابین،حکمرانوں اور سربراہان ریاست کے ساتھ مل کر فرنگیوں کے خلاف جامع حکمت عملی کو قطعیت دی۔ عظیم اللہ نے ایک لائحہ عمل کے پیش نظر پیشوا نانا راؤ کے سا تھ مل کرشمالی ہندوستان کادورہ کیا۔خصوصاً چھاؤنیوں میں خیمہ زن ہوکر دیسی سپاہیوں کوکمپنی بہادر کے خلاف برانگیختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔علاوہ ازیں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سنہ 1856 میں ہندی اور اردو میں ’پیام آزادی‘ کے نام سے بھی ایک اخبار شروع کیا۔

Published: undefined

عظیم اللہ خان کی پیدائش 17 ستمبر 1830 کو کانپور کے پٹکا پورمحلے کے ایک غریب خاندان میں ہوئی، ان کے والد نجیب اللہ راج مستری کا کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کے گھر کام کر رہے تھے جس نے انہیں اپنا اصطبل صاف کرنے کے لیے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا تو اس نے نجیب اللہ کو ایسی بے رحمی سے پیٹا کہ وہ پھر نہ اٹھ سکے۔ اس واقعہ نے بچپن سے ہی عظیم اللہ خان کو انگریزوں سے نالاں کر دیا تھا مگر اپنی بیوہ ماں کریمن کی بیماری کے مدنظر سات سالہ عظیم اللہ کو ایک انگریز افسر ہلرسڈین خاندان میں نوکری کرنی پڑی، جو ایک شریف النفس انسان تھا۔ جس نے ان کے تعلیمی ذوق کو دیکھ کر اپنے بچوں کے ٹیوٹر ماریس سے انگریزی اور فرانسیسی زبان پڑھنے کی اجازت دے دی۔

Published: undefined

عظیم اللہ نے قلیل مدت میں ہی دونوں زبانوں پر عبور حاصل کر لیا۔ ہلرسڈین کی نظر عنایت سے ہی کانپورکے مشن فری اسکول میں داخل ہوئے ا وروہیں معلم بن گئے۔ کچھ عرصے کے لیے بریگیڈئر اسکاٹ کے منشی کی خدمت انجام دی۔ ان دنوں نانا صاحب اپنی پینشن کے بند ہونے پر بڑے فکر مند تھے۔ لیکن انہیں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ انگلینڈ جاکر انگریزوں کے سامنے ان کی بات پورے وثوق سے رکھ سکے۔ اسی اثنا میں عظیم اللہ کی ذہانت کا شہرہ نانا صاحب کے کانوں تک پہنچا تو انہوں نے فورا ً اپنا قاصد بھیج کر انہیں بلایا اور ا پنا مشیربنا نے کی پیش کش رکھی۔ جس کے بعد عظیم اللہ نے فری اسکول کی نوکری چھوڑ دی او ر پیشواراؤ کے دربار سے منسلک ہوگئے۔

Published: undefined

سنہ 1853 میں نانا صاحب نے عظیم اللہ کی سربراہی میں ایک وفد کو انگلستان بھیجا۔ عظیم اللہ نے نانا صاحب کی آٹھ لاکھ پینشن کی بحالی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، لیکن انگریز حکام نے ان کی دلیلوں کو سرے سے خارج کردیا۔ تاہم عظیم اللہ کو لندن میں تین سال قیام کے دوران انگریزوں کی سیاست کو قریب سے دیکھنے کا موقع میسر ہوا۔ دوران واپسی انہوں نے کئی ممالک کا دورہ کیا۔جب عظیم اللہ مالٹا پہنچے تو معلوم ہوا کہ روسی افواج نے مالٹا میں اینگلو فرانسیسی فوجوں کو شکست دے دی ہے لہٰذا وہ روس کی فوجی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے قسطنطنیہ گئے۔ بعد ازاں انہوں نے پیرس اور کریمیا کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ ممالک کے حکمرانوں کی سیاست اور جنگی حکمت عملی کا مشاہدہ کیا۔جس سے عظیم اللہ کافی متاثر ہوئے اور مادر ہند کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب ملی۔

Published: undefined

عظیم اللہ نے ان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، جو انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں مدد کے لیے تیار تھے۔ وطن واپسی کے بعدانہوں نے نانا صاحب کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ چنانچہ نانا صاحب بھی مسلح انقلاب کے لیے تیار ہوگئے۔عظیم اللہ نے حکمرانوں کو ایک پرچم تلے کھڑے ہو نے کی تلقین کرنے کے لیے خطوط لکھے لیکن قبل ازوقت 10 مئی 1857 کو چنگاری بھڑکنے سے الٹی ہو گئیں سب تدبیریں! آخرکار 4 جون 1857 کی شب میں دیسی سپاہیوں نے کانپور میں بغاوت کا علم بلند کر دیا۔ انقلابی عوام نے مولانا سلامت اللہ کی رہنمائی میں سبز پرچم کشائی کی۔ بعد ازیں باغی سپاہ کی تین پیدل رجمنٹ نے دلّی کی راہ پکڑی لیکن عظیم اللہ کے سمجھانے پر واپس آ گئے۔ علاوہ ازیں انہوں نے نانا کو دلّی سے بعض رکھا کیونکہ نانا کانپور میں دلّی سے بہتر ڈھنگ سے فرنگیوں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔

Published: undefined

بتاریخ 5 جولائی ناناکو بٹھور میں مغل بادشاہ کے نام سے 100 توپوں کی سلامی دی گئی۔ نانا صاحب نے حکومتی امور کے لیے ایک کونسل تشکیل دی جس میں بالا راؤ، تانتیا ٹوپے اور عظیم اللہ وغیرہ شامل تھے۔ بہرکیف مختلف نشیب و فراز کے بعد آستین کے سانپوں اور جدید ہتھیاروں کے سبب 17 جولائی 1857 کو جنرل ہیو لاک کے زیر کمان دستوں نے کانپور پر دوبارہ غلبہ حاصل کرلیا۔ نانا صاحب اور عظیم اللہ خاں لکھنؤ پہنچے۔سقوط اودھ کے بعد عظیم اللہ نے نانا صاحب، حضرت محل اور دیگر انقلابیوں کے ساتھ نیپال کی ترائی کا رخ کیا۔ جہاں عظیم اللہ خان 18 مارچ 1859 کو موت کی ابدی نیند سو گئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined