فکر و خیالات

آندرے بیتے: سماجیات کے خاموش معمار کا عہد اختتام پذیر...حسنین نقوی

ممتاز ہندوستانی ماہر سماجیات آندرے بیتے 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ذات، طبقہ، طاقت اور مساوات پر ان کی تحقیق نے جدید ہندوستانی سماجیات کو مضبوط بنیاد فراہم کی

<div class="paragraphs"><p>ممتاز ہندوستانی ماہر سماجیات آندرے بیتے / Getty Images</p></div>

ممتاز ہندوستانی ماہر سماجیات آندرے بیتے / Getty Images

 
The India Today Group

ہندوستان کے نامور سماجیات دان اور مصنف آندرے بیتے کا 2026 میں 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور منگل کی شب ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کے ساتھ ہندوستانی سماجیات کے ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہوا جس نے باریک بین تحقیق، صاف گوئی اور مساوات کے اخلاقی تصور کو یکجا کر کے سماجی علوم کو نئی سمت عطا کی۔

1934 میں بنگال کے چندن نگر میں پیدا ہونے والے بیتے ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں فرانسیسی نوآبادیاتی اثرات اور بنگالی فکری روایت کا امتزاج پایا جاتا تھا۔ وہ انگریزی، فرانسیسی اور بنگالی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے اور مختلف تہذیبی حلقوں کے درمیان بآسانی رابطہ قائم کرتے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی، مگر جلد ہی سماجیات کی طرف مائل ہو گئے۔ کلکتہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ آزادی کے بعد ابھرتے ہوئے ہندوستانی سماجی مباحث کے مرکزی دھارے سے جڑ گئے۔

Published: undefined

ان کی ابتدائی زندگی کے تجربات- بنگال کا قحط، فرقہ وارانہ فسادات، تقسیم ہند اور ایک کثیرالثقافتی سماج کا بکھراؤ- نے ان کے فکری زاویے کو گہرائی عطا کی۔ ان کی خودنوشت سن لائٹ آن دی گارڈن میں بچپن اور نوجوانی کی یادیں محض ذاتی واقعات نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی سماجی ساخت کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو طبقے، زبان اور نوآبادیاتی جدیدیت کے باہمی تعلق کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

دہلی اسکول آف اکنامکس میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تدریس کے دوران بیتے نے خود کو ایک ایسے استاد کے طور پر منوایا جو تحقیق سے زیادہ تعلیم کو اہمیت دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انہوں نے ہمیشہ تدریس کو تحقیق پر مقدم رکھا۔ ان کے نزدیک سماجیات کو محض ماہرین کے محدود حلقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ طلبہ اور عام قارئین کے لیے قابلِ فہم ہونا چاہیے۔ ان کی کلاسیں مکالمے اور سوال و جواب سے بھرپور ہوتیں، جہاں نظریاتی اصطلاحات کے بجائے مشاہدے اور دلیل کو فوقیت حاصل تھی۔

Published: undefined

ذات، طبقہ اور طاقت کے موضوع پر ان کی سب سے معروف تصنیف کاسٹ، کلاس اینڈ پاور: چینجنگ پیٹرنز آف اسٹریٹیفیکیشن اِن اے تنجور ولیج (1965) ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تمل ناڈو کے ایک گاؤں سری پورم کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذات کوئی جامد روایت نہیں بلکہ ایک متحرک سماجی ڈھانچہ ہے جو زمین داری، معاشی رشتوں اور سیاسی طاقت کے ساتھ مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس تحقیق نے ذات کے مطالعے کو محض رسم و رواج کے دائرے سے نکال کر معاشی اور سیاسی تجزیے سے جوڑ دیا۔

بعد کی تصانیف مثلاً انی کوالٹی اینڈ سوشل چینج اور دی بیک ورڈ کلاسز اِن کنٹیمپریری انڈیا میں انہوں نے سماجی درجہ بندی، تحفظات، سماجی نقل و حرکت اور اصلاحات کی حدود پر تفصیلی بحث کی۔ ان کی کتاب اکویلیٹی اینڈ یونیورسیلیٹی: ایسیز اِن سوشل اینڈ پولیٹیکل تھیوری (2002) میں مساوات، شہریت اور جمہوریت کے اخلاقی اصولوں پر سنجیدہ مکالمہ ملتا ہے۔ ان کے نزدیک مساوات کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ غیر منصفانہ درجہ بندیوں کا خاتمہ ہے۔

Published: undefined

اسی طرح سوسائٹی اینڈ پولیٹکس اِن انڈیا (1991) میں انہوں نے دکھایا کہ ذات، طبقہ اور برادری جیسے سماجی عناصر کس طرح ہندوستانی سیاست اور ریاستی اداروں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے سیاسی استعمال اور جامعات کی خودمختاری میں مداخلت پر بھی تنقید کی۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیمی اداروں کو نظریاتی یا سیاسی مقاصد کے تابع کرنا علمی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔

بیتے ایک سنجیدہ لبرل مفکر تھے جو فرد کی آزادی، اداروں کی ساکھ اور دلیل پر مبنی مکالمے کو بنیادی اہمیت دیتے تھے۔ ان کی تحریروں میں خطابت یا اشتعال کے بجائے متوازن استدلال ملتا ہے۔ انہوں نے ذات پات کی مراعات، بیوروکریسی کی طاقت اور دانش وروں کے سماجی کردار جیسے موضوعات پر نہایت شائستگی سے سوالات اٹھائے۔

Published: undefined

بین الاقوامی سطح پر بھی انہیں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ مانچسٹر یونیورسٹی، کیمبرج یونیورسٹی، لندن اسکول آف اکنامکس اور کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے سمیت متعدد اداروں میں مہمان پروفیسر رہے۔ انہیں برٹش اکیڈمی کا کارسپانڈنگ فیلو اور رائل اینتھروپولوجیکل انسٹی ٹیوٹ کا اعزازی فیلو منتخب کیا گیا۔ 2005 میں حکومتِ ہند نے انہیں ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن سے نوازا۔

اس قدر اعزازات کے باوجود بیتے شہرت سے دور رہے۔ ان کی شخصیت میں انکساری، باریک بینی اور علمی دیانت نمایاں تھی۔ ان کی خودنوشت اس بات کی گواہ ہے کہ وہ مشاہدے کو علم کی بنیاد سمجھتے تھے اور تدریس کو سماجی ذمہ داری۔ ایک ایسے دور میں جب دانش وری اکثر نمود و نمائش کا روپ دھار لیتی ہے، بیتے کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ خاموش محنت اور سنجیدہ فکر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

Published: undefined

آندرے بیتے کی وفات یقیناً ہندوستانی سماجیات کے لیے بڑا نقصان ہے، مگر ان کی کتابیں اور شاگرد ان کی فکری میراث کو زندہ رکھیں گے۔ ذات، طبقہ، طاقت اور مساوات پر ان کے مباحث آج بھی سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کی بحث میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کو یاد دلاتی رہیں گی کہ ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے علمی دیانت اور تنقیدی شعور ناگزیر ہیں۔

(مضمون نگار حسنین نقوی سینٹ زیویرس کالج، ممبئی کے شعبۂ تاریخ کے سابق استاد ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined