فکر و خیالات

ایران جنگ میں امریکہ اور ٹرمپ کو کرارا جھٹکا...آشیش رے

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کو توانائی بحران، عالمی دباؤ اور داخلی سیاسی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ عالمی سفارت کاری اور تیل کی سیاست میں نئی صف بندیاں بنتی دکھائی دے رہی ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

دنیا بھر کی راجدھانیوں میں اس وقت ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان طویل جنگ کے امکانات پر تشویش کا ماحول ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل کھنچتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فارس کی خلیج کے سنی عرب ممالک بھی اس کے منفی نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

ان میں سے زیادہ تر ممالک نے بظاہر غیر جانب داری کا اعلان کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں پر اعتراض کیا ہے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ کئی عرب ممالک کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ کچھ ممالک پس پردہ امریکی کارروائیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، اگرچہ وہ کھلے عام اس کی تائید سے گریز کر رہے ہیں۔

Published: undefined

یہ مضمون لکھتے وقت جنگ کے خاتمے کے واضح آثار نظر نہیں آتے، لیکن یہ امکان ضرور موجود ہے کہ مارچ کے اختتام سے پہلے یا اس کے آس پاس اچانک جنگ رک جائے۔ اس کی بنیادی وجہ عالمی توانائی کا بحران ہے جس نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی بڑھتی قیمتیں بالآخر امریکی عوامی رائے کو متاثر کریں گی، جس کا دباؤ براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کی چین یاترا 31 مارچ سے متوقع ہے۔ ایسے حالات میں کسی بڑے سربراہی اجلاس کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ موجودہ جنگی صورتحال میں واشنگٹن اور بیجنگ ایک دوسرے کے بالکل مخالف کیمپوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ کچے تیل کی قیمتیں پہلے ہی چار سال قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے غیر معمولی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی فراہمی بحال نہیں ہوتی تو دنیا کو اب تک کے سب سے بڑے تیل بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

گیس کی قیمتیں بھی چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، کیونکہ دنیا کے چھٹے بڑے گیس پیدا کرنے والے ملک قطر نے غیر متوقع حالات کے سبب سپلائی روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ہنگامی ذخائر سے بھی محدود مدت کے لیے ہی سپلائی ممکن ہے۔ اس وقت دنیا کی روزانہ تیل کی مانگ تقریباً 104 ملین بیرل تک پہنچ چکی ہے۔

10 مارچ کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوجی مشن “طے شدہ وقت سے کہیں آگے” ہے اور “تقریباً مکمل طور پر کامیاب” ہو چکا ہے۔ ایک عوامی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی ابتدائی مدت سے بہت آگے بڑھ چکا ہے اور ممکنہ طور پر دو یا تین بار دشمن قیادت کو شکست دے چکا ہے۔ ان بیانات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے باعزت طریقے سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔

Published: undefined

ٹرمپ نے ابتدا میں ایران سے بلا شرط خود سپردگی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے اب وہ ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے خاتمے اور ایران کے دفاعی نظام پر حملوں کو بنیاد بنا کر “مشن مکمل” ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ 21 جون 2025 کو، جب امریکہ نے فوردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کی مرکزی جوہری افزودگی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔

لیکن خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے 9 مارچ کو کہا کہ ایجنسی کے آخری معائنے تک اصفہان میں تقریباً 200 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ذخیرہ زیر زمین سرنگوں میں محفوظ ہے جو حملوں میں تباہ نہیں ہو سکیں۔ اگر اس یورینیم کو مزید افزودہ کیا جائے تو اس سے کم از کم دس جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

یہ درست ہے کہ جنگ نے ایران کے میزائل ذخیرے کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ یوکرین جنگ کے دوران حاصل ہونے والی روسی ڈرون ٹیکنالوجی بھی ایران کو دستیاب ہو چکی ہے، جس سے اس کی فوجی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی کو بھی مکمل حملے کی تیاری کے بجائے زیادہ تر فوجی سفارت کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

26 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے حکام کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ مزید گفتگو کے لیے دونوں ممالک کے ماہرین اگلے ہفتے ویانا میں ملاقات کریں گے۔

Published: undefined

اسرائیل کے سخت گیر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی طرح کی مفاہمت خوش آئند خبر نہیں ہو سکتی۔ نیتن یاہو خود اپنے ملک میں بدعنوانی کے الزامات اور غزہ جنگ میں مبینہ جنگی جرائم کے باعث عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے باوجود وہ اقتدار پر قابض ہیں۔

ٹرمپ دراصل تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا چاہتے تھے جس کا سیاسی فائدہ انہیں مل سکے۔ لیکن جاری مذاکرات کو انہوں نے خود سبوتاژ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی کا پورا کریڈٹ اسرائیل کو ملے۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ ایران کے نئے رہنما کا فیصلہ بھی وہی کریں گے۔

Published: undefined

اس کے باوجود ٹرمپ اس حقیقت سے مایوس نظر آتے ہیں کہ ایران نے حملوں کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے۔ نہ ہی اسلامی حکومت ان کے دباؤ کے آگے جھکی ہے۔ گزشتہ سال سے امریکہ نے ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل خرچ کیے۔ توقع تھی کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جنوری میں سی آئی اے کی حمایت سے ہونے والی بغاوت جزوی طور پر ہی سہی، ناکام رہی اور اس کے بعد حکومت کی سخت کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے۔

ایران ایک منقسم معاشرہ ضرور ہے۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ حکمران ملاؤں کو اقتدار سے ہٹانے کے حق میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ابتدائی ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے والد پر ہونے والے حملے میں ان کی والدہ، بیوی اور ایک بیٹا بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے فوری طور پر ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔

Published: undefined

ادھر امریکہ کے اندر صورتحال مختلف رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور عام امریکی شہری خوراک سمیت بنیادی اشیاء کی مہنگائی کا بوجھ محسوس کرنے لگا ہے۔ ٹرمپ کو نومبر میں درمیانی مدت کے انتخابات کا سامنا کرنا ہے۔ موجودہ سروے بتاتے ہیں کہ تقریباً 60 فیصد امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہیں۔ اگر جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشیں وطن واپس پہنچتی رہیں تو اس مخالفت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے باعث روسی تیل کی خرید پر لگائی گئی امریکی پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ایک متنازع اعلان یہ بھی تھا کہ ہندوستان کو روسی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اپنی ٹیلیفونک گفتگو کو بھی مثبت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پوتن نے یورپ کو دوبارہ تیل اور گیس فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اگر یورپ روس کے ساتھ تجارت بحال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو یہ کریملن کے لیے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔

Published: undefined

جہاں تک ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، تو موجودہ حکومت کی کچھ حکمت عملیوں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ایران پر اسرائیلی حملے سے محض چوبیس گھنٹے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی تل ابیب میں موجودگی کو کئی مبصرین نے سفارتی طور پر خطرناک قدم قرار دیا ہے۔ مودی کی کھلی اسرائیل نوازی اور خامنہ ای کے قتل پر ان کی خاموشی نے ترقی پذیر ممالک کی نظر میں ہندوستان کی غیر جانبدار شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے برعکس 1992 میں وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے ایک متوازن پالیسی اپنائی تھی۔ اس کے بعد ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا جس پر اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اعتماد کر سکتے تھے۔

Published: undefined

لیکن موجودہ دور میں نیتن یاہو کی جانب واضح جھکاؤ نے عالمی جنوب میں ہندوستان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل سے متعلق قراردادوں پر ووٹنگ کے دوران بھی ہندوستان اکثر ایسی پوزیشن میں نظر آیا ہے جسے کئی مبصرین متنازع قرار دیتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس سال کے آخر میں ہندوستان میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں مغربی ایشیا کے مسئلے پر ہندوستان کو خود کو اقلیت میں پانے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined