فکر و خیالات

عالمی مالیاتی فنڈ کو حکومت ہند کے دعووں پر یقین نہیں؟...عبید اللہ ناصر

گزشتہ دہائی میں حکومت نے جمہوری اداروں، میڈیا اور معاشی نظام پر گرفت مضبوط کی، اختلاف کو دبایا، معیشت کو قرض اور بیروزگاری کی طرف دھکیلا اور عوام کو مذہبی تنازعات میں الجھا کر اصل مسائل سے دور رکھا

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی 

گزشتہ دس گیارہ برسوں سے ملک میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی اور سماجی طوفان کھڑا کیا جا رہا ہے جس کا مقصد عوام کو فروعی مسائل میں الجھائے رکھ کر ملک سے آئینی جمہوریت کو ختم کر کے آر ایس ایس کے خوابوں کا ہندو راشٹر بنانا اور ملک کو معاشی طور پر کھوکھلا کر کے چند کارپوریٹ گھرانوں کے خزانوں کو بھرنا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ کمیشن رشوت اور چندہ کی شکل میں ارباب حل و عقد کو بھی مل جاتا ہے۔ حکومت نے پورے نظام پر آکٹوپس جیسی گرفت بنا لی ہے اور سوال پوچھنے والے کو دیش دروہی قرار دے کر جیلوں میں سڑا کے گھروں پر بلڈوزر چلا کر ہر سوالی زبان کو خاموش کر دیا جاتا ہے صرف حکومت کی مرضی اس کی خوشنودی والی باتیں ہی عوام تک پہنچ پاتی ہیں۔ حکومت سے سوا ل پوچھنا جمہوریت کی یڑھ کی ہڈی ہے اور اس ہڈی کو توڑ دیا گیا ہے۔ عوام کو حقیقت سے باخبر رکھنا اور حکومت سے سوال کرنا میڈیا کی اولین ذمہ داری ہے مگر اب میڈیا عوام کو ہندو مسلم پاکستان قبرستان جسے مسائل میں الجھا ئے رکھتا ہے اور حکومت کے بجائے اپوزیشن سے سوال پوچھتا ہے۔ معاشی محاذ پر حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کو بغیر کسی تحقیق اور تجزیہ کے عوام کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت عدم گونڈوی کے اس شعر کی مکمل تفسیر ہوتی ہے ’تمہاری فائلوں میں گاؤں کا موسم گلابی ہے، مگر یہ آنکڑے جھوٹے یہ دعوی کتابی ہے۔‘

حکومت کے دعووں کی قلعی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کھول دی ہے۔ جس مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی )پر حکومت اترا رہی ہے اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہونے کا دعوی کر رہی ہے اسے اس عالمی ادارہ نے سی زمرہ میں اور افراط زر کو بی زمرہ میں رکھا ہے یعنی عالمی ادارہ کو حکومت کے دعووں پر یقین نہیں ہے۔ عالمی سطح پر ملک کے لئے اس سے زیادہ شرمناک اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے دعووں پر عالمی ادارہ یقین نہ کرے۔ دراصل یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے مودی سرکار نے آتے ہی مجموعی گھریلو پیداوار کے تخمینہ کا پرانا طریقہ بدل کر نیا طریقہ رائج کیا تھا جس سے اس میں دو فیصدی کا از خود اچھال آ گیا تھا۔ نوٹ بندی جسے احمقانہ فصلے کے بعد سے آج تک ہندوستانی معیشت اس جھٹکے سے ابھر نہیں پائی ہے سونے پر سہاگہ جی ایس ٹی کا نفاذ تھا جس نے چھوٹی تجارتوں کا بھٹہ بٹھال دیا تھا۔ پھر کورونا کے دور میں ہوئی تالا بندی نے تو جیسے معیشت پر حتمی دھاوا بول دیا تھا۔ حکومت نے اندھا دھند قرض ریزرو بینک کا ہنگامی فنڈ لے کر اور عوامی زمروں کے اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر معیشت کی گاڑی کو آگے بڑھایا یہ صورت حال حکومت سے غیر پیداواری اخراجات کم کرنے کی متقاضی تھی، برخلاف اس کے حکومت نے عوام کو پانچ کلو راشن دینے، غیر ضروری بیرونی دوروں اور پبلسٹی پر بجٹ کا بڑا حصّہ خرچ کیا اور حفظان صحت تعلیم روزگار جیسے اہم فلاحی کاموں کو کارپوریٹ کے حوالے کر کے اپنی بنیادی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا۔

حکومت کا دعوی ہے کہ ہندستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے، ظاہر ہے کہ ہر ہندوستانی کو اس پر خوشی ہوگی مگر اس دعوے کے ساتھ یہ نہیں بتایا جاتا کہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود ہماری فی کس آمدنی کیا ہے ؟ ہماری قوت خرید کیاہے ؟ فروغ انسانی انڈکس(ایچ ڈی آئی ) میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور بھکمری میں ہماری عالمی رینکنگ کیا ہے ؟ ان تلخ سوالوں سے عوام کی توجہ ہٹائے رکھنے کے لئے ہی فرقہ وارانہ نفرت کی آندھی چلائی جاتی ہے۔ ہندستان پر گزشتہ گیارہ برسوں میں 250 لاکھ سے زیادہ کا قرض ہو چکا ہےیعنی 1947 سے لے کر 2014 تک جو قرض محض 55 لاکھ کروڑ روپیہ تھا وہ اب قریب تین سو لاکھ کروڑ روپیہ ہو چکا ہے اور ہمارے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصّہ اس قرض کے سود میں نکل جاتا ہے۔ 2014 میں جب ایک ڈالر قریب62 روپیہ کا تھا تو آج کے ارباب حل و عقد کیا کیا بولتے تھے یہ لوگوں کو ابھی تک یاد ہے اور آج جب ایک ڈالر 90 روپیہ کے قریب پہنچ گیا ہے تو سب ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر لیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ ظلم روزگار کے بازار میں بھٹک رہے نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا ہے، سرکاری نوکریاں جن سے نہ صرف ان کے بلکہ ان کے اہل و ایال کا مستقبل بھی محفوظ ہو جاتا تھا، اب خواب ہوتی چلی جا رہی ہیں، ساری تقرریاں ٹھیکے پر ہو رہی ہیں اور ان کی تنخواہ بس جینے بھر کی ہوتی ہے۔ معیشت کی زبان میں اسے ’انڈر ایمپلائمنٹ‘ کہا جاتا ہے اور معاشیات کے ماہرین اس کو بیروزگاری سے بھی بدتر صورت حال سمجھتے ہیں کیونکہ یہ حالت اس انسان کی تمام صلاحیتوں کو کچل کے اسے صرف ضروریات پوری کرنے کی تک و دو میں الجھائے رکھتی ہے۔ ان کی تنخواہ میں سے ایک حصّہ ٹھیکیدار یعنی ایمپلائیز سپلایر ہضم کر جاتا ہے، کسی ناگہانی صورت میں حکومت پنجہ جھاڑ لیتی ہے کہ وہ اس کا ملازم تھا ہی نہیں۔ یاد کیجئے دو سال پہلے ہوا ایک واقعہ جب ایک بس کنڈکٹر کو صرف اس لئے سسپنڈ کر دیا گیا تھا کہ س نے مبینہ طور پر نماز پڑھنے کے لیے چند منٹوں کے لئے بس رکوا دی تھی۔ جب چار پانچ مہینہ تک اسے بحال نہیں کیا گیا تو معاشی تنگی سے پریشان ہو کر اس نے خود کشی کر لی اور جب روڈ ویز محکمہ سے اس کے لئے معاوضہ مانگا گیا تو محکمہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ ہمارا ملازم نہیں بلکہ ایجنسی کا ملازم تھا۔ دوسری جانب حکومت نے ایمیزون جیسی کثیر قومی کمپنیوں کے ہاتھ میں ہندوستان کا بازار سونپ کر محلہ ٹولے کے چھوٹے دکانداروں کو بھکمری کے کگار پر پہنچا دیا ہے اورسرکاری افسر بننے کے خواہش مند نوجوانوں کو ڈلیوری بوائے بنا دیا گیا ہے۔ یہی کام جب محکمہ ڈاک کا ملازم پوسٹ مین کرتا تھا تو اس میں ایک خود اعتمادی ہوتی تھی سرکاری ملا زم ہونے کا فخر ہوتا تھا تھا اور اس کا ہی نہیں اس کے اہل و ایال کا مستقبل محفوظ ہوتا تھا مگر کمال ہوشیار اور عیاری سے ان نوجوانوں کی ایسی برین واشنگ کر دی گئی ہے کہ نہ انہیں اپنے تاریک ہوتے مستقبل کی فکر ہے اور نہ ہی ملک کی تباہ ہوتی معیشت کی، مسلمانوں سے نفرت ہی ان کا قومی فریضہ بن گیا ہے۔

وائے ناکامی ! متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Published: undefined