صنعت و حرفت

سونا 158000 روپے فی 10 گرام کے قریب، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح

عالمی تجارتی کشیدگی اور کمزور ڈالر کے باعث سونا 158000 روپے فی 10 گرام کے قریب پہنچ گیا، جبکہ چاندی نے بھی نیا ریکارڈ بنایا۔ محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

نئی دہلی: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، کمزور امریکی ڈالر اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کے ماحول کے درمیان سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ بدھ کے روز سونا تقریباً پانچ فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا، جبکہ چاندی نے بھی اپنی تاریخ کی بلند ترین قیمت کو چھو لیا۔

Published: undefined

ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر بدھ کے کاروباری سیشن میں فروری ڈیلیوری والا سونا 1,58,339 روپے فی 10 گرام تک جا پہنچا، جو اب تک کی سب سے بلند سطح ہے۔ اسی طرح مارچ ڈیلیوری والی چاندی 3,35,000 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔ خبر لکھے جانے تک صبح تقریباً 11:50 بجے ایم سی ایکس پر فروری ڈیلیوری کا سونا 7,363 روپے یعنی 4.89 فیصد اضافے کے ساتھ 1,57,928 روپے فی 10 گرام پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ چاندی 10,499 روپے یعنی 3.24 فیصد کی تیزی کے ساتھ 3,34,171 روپے فی کلوگرام پر پہنچ گئی۔

Published: undefined

بین الاقوامی منڈیوں میں بھی قیمتی دھاتوں نے نئی تاریخ رقم کی۔ کامیکس پر امریکی سونا 4,849 ڈالر فی ٹرائے اونس تک جا پہنچا، جبکہ چاندی کی قیمتیں 92.5 سے 95.7 ڈالر فی اونس کے دائرے میں رہیں۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی تنازع ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ فروری سے یورپ کے آٹھ ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جسے جون تک بڑھا کر 25 فیصد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ردعمل میں یورپی ممالک بھی جوابی اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جس سے عالمی بازاروں میں بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

Published: undefined

کموڈیٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ درمیانی اور طویل مدت میں چاندی کے امکانات خاصے مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ سپلائی میں کمی اور صنعتی شعبوں میں بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب 2026 تک چاندی کی قیمت 110 سے 120 ڈالر فی اونس تک جا سکتی ہے۔ ایم سی ایکس پر چاندی کے لیے 3,30,000 سے 3,32,000 روپے فی کلوگرام کا دائرہ اہم مانا جا رہا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں قیمت 3,35,000 سے 3,50,000 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی شیئر بازاروں میں اتار چڑھاؤ، امریکی اور جاپانی بانڈ ییلڈ میں اضافہ، روپے کی کمزوری، مرکزی بینکوں کی جانب سے خرید، جغرافیائی کشیدگی اور مہنگائی سے بچاؤ کی حکمت عملی نے سونے اور چاندی کو مضبوط سہارا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی، برقی گاڑیوں، مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانکس شعبے میں بڑھتی ہوئی مانگ بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو مسلسل اوپر رکھے ہوئے ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined