
نرملا سیتارمن / آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا، میں اقتصادی جائزہ 2025-26 پیش کیا۔ اقتصادی جائزہ پیش کیے جانے کے فوراً بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی، جو اب یکم فروری 2026 کو دوبارہ شروع ہوگی، جب مرکزی بجٹ پیش کیا جائے گا۔ یہ نرملا سیتا رمن کا لگاتار نواں بجٹ ہوگا، جو ہندوستان کی تاریخ میں کسی خاتون وزیر خزانہ کی جانب سے ایک منفرد اور تاریخی کارنامہ ہے۔
Published: undefined
اقتصادی جائزے میں رواں مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اگلے مالی سال میں یہ شرح 6.8 سے 7.2 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان کی میکرو اکنامک بنیادیں مضبوط ہیں، تاہم بیرونی سرمایہ کاری کے محاذ پر ملک کو مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو پا رہے۔
اقتصادی جائزہ کے مطابق عالمی جغرافیائی سیاسی حالات اور اسٹریٹجک عوامل میں فرق کے سبب روپے کی قدر دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ شرح مبادلہ ملک کی اصل معاشی طاقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ اندرونی معاشی اشاریے مستحکم ہیں لیکن عالمی سطح پر سرمایہ کے بہاؤ میں سست روی ہندوستان پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
Published: undefined
اقتصادی جائزے میں پیش کردہ شرح نمو کا اندازہ اسی ماہ جاری کیے گئے پہلے پیشگی تخمینے کے دائرے میں ہے، جس میں 2025-26 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 7.4 فیصد بتائی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی ہندوستان کی معاشی رفتار پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسی تنظیموں نے رواں مالی سال میں ہندوستان کی شرح نمو 7.2 سے 7.4 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان بدستور دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل رہے گا۔
اقتصادی جائزہ پیش ہونے سے قبل بجٹ اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان طویل عرصے سے زیر التوا مسائل سے نکل کر دیرپا اور طویل مدتی حل کی سمت آگے بڑھ رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔
Published: undefined
پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس مجموعی طور پر 65 دنوں پر محیط ہوگا، جس میں 30 نشستیں ہوں گی۔ اجلاس 2 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔ دونوں ایوان 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوں گے اور 9 مارچ کو دوبارہ کام کا آغاز کریں گے، تاکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں اور محکموں کے مطالبات برائے گرانٹس کا جائزہ لے سکیں۔ اقتصادی جائزے کے اعداد و شمار اور اندازے آئندہ دنوں میں بجٹ پر ہونے والی بحث کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined