
تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی موسیقی کی دنیا میں چند آوازیں ایسی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی، تاثیر اور وقار برقرار رکھتی ہیں۔ معروف پلے بیک گلوکار سریش واڈکر بھی انہی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی موسیقی کی مضبوط بنیاد، راگوں کی گہرائی اور سروں کی نزاکت کو فلمی موسیقی کے ساتھ اس خوبصورتی سے ہم آہنگ کیا کہ ان کی آواز کئی نسلوں کے لیے یادگار بن گئی۔
سریش ایشور واڈکر 7 اگست 1955 کو مہاراشٹر کے کولہاپور میں ایک متوسط مراٹھی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایشور واڈکر ممبئی کے لال باغ، پریل کی ایک کپڑے کی مل میں ملازم تھے جبکہ والدہ مزدوروں کے لیے کھانا تیار کرتی تھیں۔ بعد میں خاندان گیرگاؤں منتقل ہو گیا، جہاں ان کی پرورش ہوئی۔
بچپن میں سریش واڈکر کا زیادہ شوق موسیقی کے بجائے کشتی سے تھا۔ وہ اسکول اور کالج کی سطح پر کشتی کے مقابلوں میں حصہ لیتے اور ایک کامیاب پہلوان بننے کا خواب دیکھتے تھے، لیکن قسمت نے ان کے لیے موسیقی کی دنیا کا انتخاب کر رکھا تھا۔ گھر میں بھجنوں کا ماحول تھا اور ان کے والد بھی شوق سے گایا کرتے تھے۔ یہی ماحول ان کے اندر موسیقی سے رغبت پیدا کرنے کا سبب بنا۔ پانچ چھ برس کی عمر میں والد نے ان کی آواز میں موجود صلاحیت کو پہچان لیا اور موسیقی کی باقاعدہ تعلیم کا انتظام کیا۔
صرف آٹھ برس کی عمر میں روایتی موسیقی کے استاد آچاریہ جیا لال وسنت نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں شاگرد بنایا۔ گروکل روایت کے تحت انہوں نے سریش واڈکر کو کلاسیکی موسیقی کی باریکیاں سکھائیں۔ بعد میں 1968 میں انہوں نے پریاگ سنگیت سمیتی، الہ آباد سے ’پربھاکر‘ کی سند حاصل کی اور ممبئی کے آریہ ودیا مندر میں موسیقی کے استاد کے طور پر خدمات انجام دینا شروع کیں۔
ان کی زندگی کا اہم موڑ 1976 میں آیا جب انہوں نے معروف ’سُر سنگار‘ موسیقی مقابلے میں حصہ لیا اور بہترین مرد پلے بیک گلوکار کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی کامیابی نے فلمی دنیا کے دروازے ان پر کھول دیے۔ موسیقار رویندر جین نے انہیں بالی ووڈ میں پہلا بڑا موقع دیا اور ان کی منفرد آواز نے جلد ہی موسیقی کے حلقوں کی توجہ حاصل کر لی۔
سریش واڈکر کی صلاحیت کو سب سے پہلے بھارت رتن لتا منگیشکر نے بھرپور انداز میں سراہا۔ انہی کی سفارش پر فلم ساز راج کپور نے انہیں اپنی فلم ’پریم روگ‘ میں گانے کا موقع دیا۔ اس فلم کا نغمہ ’میری قسمت میں تو نہیں شاید‘ ان کے فلمی سفر کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد یادگار گیت گائے اور بالی ووڈ کے صفِ اول کے گلوکاروں میں اپنی جگہ مستحکم کر لی۔
سریش واڈکر کی گائیکی کی سب سے بڑی خصوصیت کلاسیکی موسیقی پر مضبوط گرفت، راگوں کی گہرائی، سروں کی نزاکت اور جذبات کی بھرپور ترجمانی ہے۔ یہی خوبیاں انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انہوں نے ہندی کے علاوہ مراٹھی، کونکنی، اوڈیا اور بھوجپوری زبانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔
فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھکتی موسیقی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ہنومان چالیسا، شیو تانڈو ستوتر، وِٹھل بھجن، سائی بابا کی آرتی اور گنیش وندنا سمیت ان کے گائے ہوئے بے شمار مذہبی نغمے آج بھی ملک بھر کے مندروں، مذہبی تقریبات اور گھروں میں عقیدت سے سنے جاتے ہیں۔ اپنی گائیکی کے ساتھ ساتھ سریش واڈکر نے موسیقی کی تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کئی نوجوان گلوکاروں کی تربیت کی اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی روایت کو نئی نسل تک پہنچانے میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ 1976 میں ’سُر سنگار‘ مقابلے کا مدن موہن ایوارڈ، 2004 میں مدھیہ پردیش حکومت کا ’لتا منگیشکر پرسکار‘، 2007 میں ’مہاراشٹر پرائڈ ایوارڈ‘، 2017 میں سداشیو امراپورکر ایوارڈ، 2018 میں ’سنگیت ناٹیہ اکادمی ایوارڈ‘ اور 2020 میں حکومتِ ہند کا باوقار شہری اعزاز ’پدم شری‘ ان کی فنی عظمت کا اعتراف ہیں۔
ستر برس کی عمر میں بھی سریش واڈکر ہندوستانی موسیقی کی ایک معتبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی گائیکی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ مضبوط کلاسیکی بنیاد، مسلسل ریاض اور فن سے بے لوث وابستگی کسی بھی فنکار کو لازوال بنا دیتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔