بالی ووڈ

لازوال نغمہ نگار شیلندر، جنہوں نے زندگی کے ہر رنگ کو لفظوں میں ڈھالا...یومِ پیدائش کے موقع پر

شیلندر نے 170 سے زائد فلموں کے لئے ایسے نغمے تخلیق کیے جن کی کشش، سادگی اور گہرائی آج بھی دلوں کو چھوتی ہے۔ انہوں نے راج کپور اور شنکر جے کشن کے ساتھ مل کر بالی ووڈ کو کئی لازوال نغمے دیے

<div class="paragraphs"><p>لازوال نغمہ نگار شیلندر / سوشل میڈیا</p></div>

لازوال نغمہ نگار شیلندر / سوشل میڈیا

 

بالی ووڈ کی دنیا میں کئی نغمہ نگار آئے اور گئے لیکن شیلندر کا نام آج بھی الگ اور نمایاں ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جن کے لفظوں میں کشش، دھیما پن اور لوچ چھپا ہوا تھا۔ ان کے نغمے صرف سننے کے لئے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لئے ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود ان کی تخلیقات آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنی جاتی ہیں۔

شیلندر کا اصل نام شنکر داس کیسری لال تھا۔ وہ 30 اگست 1923 کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی انہیں شاعری اور الفاظ سے خاص لگاؤ تھا۔ ممبئی آنے کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز انڈین ریلویز میں ملازمت سے کیا۔ ملازمت کے دوران بھی وہ زیادہ تر وقت شاعری اور نظمیں لکھنے میں گزارتے، جس پر ان کے افسران اکثر ناراض رہتے تھے۔ مگر ان کے اندر چھپے فنکار کو یہ عادت ہی نکھارتی گئی۔

Published: undefined

شیلندر کی شناخت پہلے مشاعروں سے بنی۔ تحریک آزادی کے دوران وہ جلسوں میں اپنی انقلابی نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ ان ہی دنوں راج کپور نے انہیں ایک مشاعرے میں سنا، جہاں شیلندر اپنی نظم ’جلتا ہے پنجاب‘ پیش کر رہے تھے۔ راج کپور ان کے انداز اور الفاظ سے بے حد متاثر ہوئے اور فلمی نغمے لکھنے کی پیشکش کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیلندر نے اس وقت یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی لیکن جلد ہی اپنی رائے بدلی اور راج کپور سے خود رابطہ کیا۔

شیلندر نے 1949 میں ریلیز ہونے والی فلم برسات کے لئے پہلا نغمہ لکھا– ’برسات میں تم سے ملے ہم سجن‘۔ اسی فلم سے موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ یہ فلم بڑی کامیاب ہوئی اور شیلندر، راج کپور اور شنکر جے کشن کی جوڑی نے آنے والے برسوں میں بالی ووڈ کو کئی لازوال نغمے دیے۔

Published: undefined

1950 اور 1960 کی دہائی شیلندر کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان کے الفاظ میں زندگی کے ہر پہلو کی جھلک ملتی ہے۔ چاہے رومانوی نغمے ہوں یا سماجی شعور بیدار کرنے والے، ہر نغمہ سامعین کے دل کو چھو جاتا تھا۔ فلمیں آوارہ، آہ، شری 420، چوری چوری، اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سنگم، تیسری قسم، اراؤنڈ دی ورلڈ، دیوانہ، سپنوں کا سوداگر اور میرا نام جوکر انہی کی تخلیقات سے جڑی ہوئی ہیں۔

ان کے الفاظ سادہ مگر اثر دار ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر غربت، محبت، خواب یا جدوجہد—ہر موضوع کو وہ آسان مگر گہرے انداز میں بیان کرتے تھے۔ یہی خوبی انہیں دوسرے نغمہ نگاروں سے ممتاز بناتی ہے۔

شیلندر صرف فلمی نغمہ نگار نہیں تھے بلکہ وہ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (اپٹا) کے بانیوں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کو عوامی مسائل کی ترجمانی کے لئے استعمال کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا کہ ان کے فلمی نغمے بھی عام لوگوں کی زندگیوں سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔

Published: undefined

شیلندر کو ان کی تخلیقات پر تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ موسیقار شنکر جے کشن کے ساتھ ان کی جوڑی نے فلمی موسیقی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ البتہ انہوں نے دیگر موسیقاروں کے ساتھ بھی کامیاب تعاون کیا اور ہمیشہ اپنے معیار کو برقرار رکھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ شیلندر نے بطور اداکار بھی اپنی صلاحیتیں آزمائیں۔ فلمیں بوٹ پالش، شری 420 اور تیسری قسم میں انہوں نے چھوٹے کردار ادا کیے۔ اسی طرح 1960 میں ریلیز ہونے والی فلم پرکھ کے مکالمے بھی انہوں نے لکھے تھے۔

شیلندر کا خواب تھا کہ وہ اپنی فلم بنائیں۔ 1966 میں انہوں نے تیسری قسم کے نام سے فلم پروڈیوس کی۔ فلم کی کہانی اور نغمے شاندار تھے مگر بدقسمتی سے یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ اس ناکامی نے شیلندر کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے اپنی جمع پونجی اس فلم پر لگائی تھی اور نتیجہ مایوس کن رہا۔

Published: undefined

اسی دباؤ اور صدمے کے باعث وہ بار بار دل کے دورے کا شکار ہوئے۔ ان کی زندگی کا آخری باب نہایت جذباتی ہے۔ 13 دسمبر 1966 کو انہوں نے راج کپور سے ملاقات کی اور وعدہ کیا کہ وہ میرا نام جوکر کے لئے نغمہ ’جینا یہاں مرنا یہاں‘ مکمل کر دیں گے مگر یہ وعدہ ادھورا رہ گیا۔ اگلے ہی دن، یعنی 14 دسمبر 1966 کو، وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اتفاق یہ تھا کہ وہی دن راج کپور کی سالگرہ کا بھی تھا۔

شیلندر کی زندگی مختصر مگر کارناموں سے بھری ہوئی تھی۔ محض دو دہائیوں میں انہوں نے تقریباً 170 فلموں کے لئے نغمے تخلیق کیے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی عام انسانوں کے دکھ، سکھ، خواب اور حقیقت کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے رہے۔

Published: undefined

آج جب ان کے نغمے بجتے ہیں تو وہ صرف ماضی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ یہ احساس بھی دیتے ہیں کہ سچا فن وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ شیلندر نے لفظوں کو ایسی زندگی بخشی کہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ترانہ بن گئے۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ بالی ووڈ کی تاریخ شیلندر کے بغیر ادھوری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined