بالی ووڈ

نانا پاٹیکر: پردے کا ہیرو، کھیت اور پانی کا ساتھی...ناگیندر

نانا پاٹیکر صرف ایک غیر معمولی اداکار نہیں تھے، بلکہ کسانوں، پانی اور دیہی زندگی کے مسائل سے گہرا تعلق رکھنے والی ایک بے باک عوامی شخصیت بھی تھے۔ ان کی میراث پردے سے کہیں آگے تک پھیلی ہے

<div class="paragraphs"><p>نانا پاٹیکر / آئی اے این ایس</p></div>

نانا پاٹیکر / آئی اے این ایس

 
IANS

نانا پاٹیکر کے 8 اکتوبر 2026 کو 75 برس کی عمر میں اچانک انتقال کے ساتھ ہندوستانی سنیما نے صرف ایک منفرد اداکار ہی نہیں بلکہ ایک منفرد عوامی شخصیت بھی کھو دی۔ نانا پاٹیکر کا ایک حالیہ ویڈیو یاد آتا ہے، جس میں وہ ایک اسکول میں بچوں کے درمیان موجود ہیں۔ بچوں نے ان سے فلم ’کرانتی ویر‘ کا مشہور مکالمہ سنانے کی فرمائش کی۔ نانا پہلے بچوں کے سامنے فلمی مکالمہ سنانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن پھر نہ صرف وہ مکالمہ سناتے ہیں بلکہ اس کے اختتام پر ہاتھ پر چیرا لگانے کا وہ مخصوص ایکشن بھی اس انداز میں کرتے ہیں کہ وہاں موجود سب لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔

وہ مکالمہ تھا، ’’یہ مسلمان کا خون، یہ ہندو کا خون، بتاؤ اس میں کون سا ہندو کا اور کون سا مسلمان کا؟… بھگوان نے سب سے خوبصورت چیز انسان بنائی تھی، لیکن نیچے دیکھنے پر سب کیڑے بن گئے ہیں… تمہاری یہ خاموشی کل تمہارے بچوں کے لیے رونا بن جائے گی۔‘‘ دراصل نانا جب بچوں کے درمیان یہ مکالمہ سنا رہے تھے تو ان کے ذہن میں ملک کے موجودہ حالات بھی گونج رہے تھے۔ نانا کے خیالات سے کئی مرتبہ اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی یہی خصوصیت تھی کہ ایسے مواقع پر وہ اپنے دل کی بات کہنے کے ساتھ کوئی نہ کوئی پیغام بھی دے جاتے تھے۔ کسانوں کے مسائل پر ان کی گفتگو بھی اسی حوالے سے یاد کی جاتی ہے۔

نانا پاٹیکر کو یاد کرنا محض ایک اداکار کو یاد کرنا نہیں ہے۔ ہندوستانی سنیما میں بہت سے فنکار آئے، مقبول ہوئے، اعزازات حاصل کیے اور بعض نے اپنی اداکاری کی ایسی چھاپ چھوڑی جسے وقت بھی مٹا نہیں سکا۔ لیکن نانا کی کہانی ان سب سے کچھ مختلف تھی۔ انہوں نے اداکاری کو اپنی شناخت بنایا، مگر بالآخر ان کی شناخت اداکاری سے کہیں آگے نکل گئی۔ وہ ایسے شخص بن گئے جو کسانوں کی خودکشی پر بے چین ہوتا تھا، پانی کے بحران کو اپنا مسئلہ سمجھتا تھا اور خشک سالی سے متاثرہ گاؤں میں جا کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہوتا تھا۔

نانا پاٹیکر، یعنی وشواناتھ پاٹیکر، کا فلمی سفر 1978 میں ’گمن‘ سے شروع ہوا۔ ابتدائی برسوں میں انہوں نے مراٹھی اور ہندی فلموں کے ساتھ ساتھ تھیٹر میں بھی اپنی شناخت بنائی۔ ’انکش‘، ’پرتی گھات‘، ’پرندہ‘، ’انگار‘، ’ترنگا‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی‘، ’اب تک چھپن‘، ’اپہرن‘ اور ’راج نیتی‘ جیسی فلموں نے ان کی اداکاری کے مختلف رنگ ظاہر کئے۔ نانا خطرناک ولن بھی بنے، یادگار ہیرو بھی، سنجیدہ کردار بھی اور مزاحیہ اداکار بھی۔ ’ویلکم‘ کا ادے شیٹی اسی اداکار کا بالکل مختلف روپ تھا جس نے ’کرانتی ویر‘ میں نظام سے لڑتے ہوئے ایک جفاکش اور بے چین انسان کو اتنی ہی سچائی کے ساتھ پیش کیا تھا۔

ان کی اداکاری کی سب سے بڑی خصوصیت شاید یہ تھی کہ اس میں اداکاری کم اور زندگی زیادہ دکھائی دیتی تھی۔ آواز، چہرہ، مکالمہ ادا کرنے کا انداز، ہر چیز میں ایک ایسی بے چینی محسوس ہوتی تھی جسے کیمرہ بخوبی گرفت میں لے لیتا تھا۔ ’پرندہ‘ کے لیے انہیں قومی فلم ایوارڈ ملا، ’کرانتی ویر‘ کے لیے بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ ملا اور ’اگنی ساکشی‘ کے لیے بھی انہیں قومی سطح پر اعزاز سے نوازا گیا۔ وہ ان نایاب اداکاروں میں شامل رہے جنہوں نے قومی سطح پر اداکاری کی مختلف کیٹیگریز میں اپنی جگہ بنائی۔

لیکن نانا کو صرف ہندی سنیما کے اداکار کے طور پر دیکھنا ان کی خدمات کو محدود کرنا ہوگا۔ ان کی جڑیں مراٹھی تھیٹر اور مراٹھی سنیما میں تھیں۔ مراٹھی ان کے لیے صرف ایک زبان نہیں بلکہ اداکاری کی ایک مضبوط زمین تھی۔ ’ڈاکٹر پرکاش بابا آمٹے: دی ریئل ہیرو‘ میں انہوں نے سماجی کارکن پرکاش آمٹے کی زندگی کو جس انداز میں پیش کیا، وہ ان کی اداکاری اور ان کے اپنے سماجی سروکاروں کے درمیان ایک دلچسپ ربط بن گیا۔ اس کردار کے لیے انہیں فلم فیئر مراٹھی کا بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔

کُسماگراج کے معروف ڈرامے پر مبنی فلم ’نٹ سمراٹ‘ میں ایک عظیم تھیٹر فنکار کی زندگی کی المناک داستان کے ذریعے عمر، تنہائی، خاندان اور فنکار کی شناخت جیسے موضوعات جس طرح ابھر کر سامنے آئے، وہ نانا ہی کے بس کی بات تھی۔ 2016 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں نانا پاٹیکر کی اداکاری کو مراٹھی سنیما کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا اعزاز بھی ملا۔

شاید یہیں سے نانا کے سفر کے دوسرے پہلو کو سمجھنے کی کلید ملتی ہے۔ وہ پردے پر عام آدمی کی بے چینی کو جس شدت سے پیش کرتے تھے، حقیقی زندگی میں بھی اس بے چینی سے خود کو الگ نہیں رکھ سکے۔

مہاراشٹر کے گاؤں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات نے انہیں اندر تک متاثر کیا۔ 2015 میں انہوں نے اداکار مکرند اناسپُرے کے ساتھ مل کر ’نام فاؤنڈیشن‘ قائم کی۔ اس کا آغاز کسانوں کی خودکشی سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد فراہم کرنے سے ہوا، لیکن بہت جلد انہیں احساس ہوا کہ محض چیک تقسیم کرنے سے کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے پانی، زراعت، گاؤں اور روزگار کے بنیادی مسائل پر کام کرنا ہوگا۔

اسی احساس کے تحت نانا نے ابتدا میں اپنی ذاتی آمدنی سے بھی اس کام میں مدد کی، جس کے ذریعے ودربھ اور مراٹھواڑہ میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو مالی تعاون فراہم کیا گیا۔ بعد میں ’نام فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے یہ کام ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا گیا۔ نانا نے ایک موقع پر کہا تھا کہ انہیں دیر سے سمجھ آیا کہ کسان کی مدد صرف مالی امداد دینے سے نہیں ہو سکتی۔ اگر پانی نہیں ہے تو کسان کو پیسہ دے کر کچھ عرصے کے لیے بحران کو ٹالا تو جا سکتا ہے، لیکن اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لیے ان کے سماجی کام کا محور رفتہ رفتہ ’کسان کو بچانے‘ سے ’کسان کو خود کفیل بنانے‘ کی طرف منتقل ہو گیا۔ وہ کسی انسان کو ’بیچارہ‘ بنا کر مدد کرنے کے تصور کے خلاف تھے۔

نانا کو قریب سے جاننے والے ان کی سماجی سرگرمی کے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک چینل پر ایک تبصرہ سننے کو ملا، اگرچہ تبصرہ کرنے والے کا نام یاد نہیں رہا۔ کہا گیا کہ وہ دکھاوے سے دور رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی شہرت کو چندہ جمع کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر ضرور استعمال کیا، لیکن خود کو کسی ’مسیحا‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ ان کی طبیعت ہی ایسی تھی—سیدھی، کبھی کبھی تلخ اور بناوٹی انکسار سے دور۔

شاید یہی وجہ تھی کہ کسان اور پانی کے مسائل کے ساتھ ان کا تعلق کسی مشہور شخصیت کی سماجی مہم جیسا محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اس میں ایک ذاتی بے چینی دکھائی دیتی تھی۔ مہاراشٹر میں خشک سالی اور کسانوں کی خودکشی کے درمیان ان کی سرگرمی بھی اسی بے چینی سے نکلی تھی۔

ان کی عوامی شبیہ میں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود تھا۔ پردے پر وہ اکثر غصے، تشدد، اقتدار کی مخالفت اور بغاوت کی آواز بنتے تھے، جب کہ نجی زندگی میں گاؤں، کھیتی، پانی اور سادہ زندگی کی طرف لوٹتے دکھائی دیتے تھے۔ فلمی چمک دمک سے دور ان کی دیہی زندگی اور زراعت سے وابستگی بھی اسی شخصیت کا حصہ تھی۔ ان کے بارے میں حالیہ یادوں میں بھی انہیں ایک ایسے اداکار کے طور پر بیان کیا جاتا رہا ہے جو اپنی جڑوں اور کھیتی سے جڑے رہے۔

نانا پاٹیکر کی میراث صرف ’کرانتی ویر‘ یا ’نٹ سمراٹ‘ تک محدود نہیں ہے۔ ان کی میراث ان گاؤں میں بھی ہے جہاں کسی خشک کنویں میں دوبارہ پانی آیا، ان کسان خاندانوں میں بھی ہے جنہیں مشکل وقت میں سہارا ملا اور ان بچوں میں بھی ہے جن کی تعلیم جاری رہ سکی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔