بالی ووڈ

جنوب کی عظیم گلوکارہ جانکی اماں کا انتقال، آخری رسومات ادا؛ صدر، وزیر اعظم، راہل گاندھی اور کھڑگے کا اظہارِ تعزیت

جنوب کی عظیم گلوکارہ جانکی اماں کا 88 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا، ان کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ صدر، وزیر اعظم مودی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

<div class="paragraphs"><p>ایس جانکی اماں کی آخری رسومات</p></div>

ایس جانکی اماں کی آخری رسومات

 
IANS

جنوب کی عظیم گلوکارہ جانکی اماں 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ ہفتہ کو کرناٹک کے شہر میسورو کے ایک نجی اسپتال میں چل بسیں، جبکہ اتوار کو میسورو ضلع کے کنیانہنڈی میں واقع ایک فارم ہاؤس میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ ان کی پوتی ویدیولا نے آخری رسومات انجام دیں۔ اس موقع پر اہل خانہ، قریبی رشتہ دار، فنکار برادری سے وابستہ شخصیات اور ہزاروں مداح موجود تھے۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی عوامی دیدار کے لیے مہاراجہ کالج کے میدان میں رکھا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

صدر دروپدی مرمو نے جانکی اماں کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے موسیقی کی ایک عظیم شخصیت کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانکی اماں نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے شاندار فنی سفر میں تقریباً 20 ہندوستانی زبانوں، جن میں ہندی، اردو، پنجابی، بنگلہ، اڑیہ اور تولو بھی شامل ہیں، ہزاروں نغمے گائے۔ صدر نے کہا کہ ان کی لازوال موسیقی آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی رہے گی۔ انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ اور بے شمار مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ جانکی اماں کا انتقال موسیقی اور ثقافت کی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانوں میں گائے گئے ان کے نغمے کئی نسلوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہے اور انہوں نے اپنی دلکش آواز سے ہر جذبے کو بے مثال انداز میں پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی سریلی آواز ہمیشہ موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گی۔

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ جانکی اماں کی آواز کئی نسلوں کے لیے محبت، عقیدت، خوشی اور جدائی کے جذبات کی علامت تھی۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں اپنی منفرد گائیکی کے ذریعے موسیقی کی آفاقی زبان سے ملک کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ راہل گاندھی نے ان کے اہل خانہ، دوستوں اور لاکھوں مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ جانکی اماں نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اپنی سنہری آواز سے ہندوستانی موسیقی کو لازوال نغموں سے مالا مال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے ثقافتی شعور کا اہم حصہ تھیں اور ان کا انتقال موسیقی اور فلمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

خیال رہے کہ 1938 میں پیدا ہونے والی جانکی اماں نے 1957 میں فلمی گائیکی کا آغاز کیا تھا۔ اپنے تقریباً ساٹھ سالہ فنی سفر میں انہوں نے تقریباً 20 زبانوں میں 48 ہزار سے زائد نغمے ریکارڈ کیے اور چار قومی فلم ایوارڈ سمیت 33 ریاستی فلم ایوارڈ اپنے نام کیے۔ 2013 میں حکومتِ ہند کی جانب سے پیش کیے گئے پدم بھوشن اعزاز کو انہوں نے یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ اعزاز انہیں بہت تاخیر سے دیا جا رہا ہے۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی موسیقی کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔