بالی ووڈ

دیوین ورما: اپنی بے مثال کامیڈی سے ناظرین کو ہنسانے والے اداکار

دیوین ورما ایسے منفرد اداکار تھے جنہوں نے اپنی بے مثال کامیڈی، شاندار باڈی لینگویج اور برجستہ مکالموں سے ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔ ان کی یادگار فلمیں آج بھی لوگوں کو محظوظ کرتی ہیں

<div class="paragraphs"><p>دیوین ورما / آئی اے این ایس</p></div>

دیوین ورما / آئی اے این ایس

 

کسی کو ہنسانا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنا فن کی ایک ایسی صورت ہے جس میں مہارت ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہندوستانی سنیما کے معروف اداکار اور کامیڈین دیوین ورما اس فن میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی منفرد اداکاری، برجستہ مکالموں اور دل چسپ باڈی لینگویج سے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ ان کی کامیڈی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ غیر ضروری اداکاری یا فحش مکالموں کے بجائے اپنے انداز اور کردار کی فطری کیفیت سے لوگوں کو ہنساتے تھے۔

دیوین ورما کی پیدائش 23 اکتوبر 1937 کو ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام دیویندو ورما تھا۔ ان کے والد بلدیو سنگھ ورما اور والدہ سرلا دیوی تھیں۔ ان کی پرورش پونے میں ہوئی، جہاں انہوں نے نوروجی واڈیا کالج فار آرٹس اینڈ سائنس سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سیاست اور سماجیات کے مضامین میں گریجویشن کیا۔ کالج کے زمانے میں ہی انہوں نے اپنا نام دیویندو سے بدل کر دیوین ورما رکھ لیا تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد دیوین ورما نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہیں 1961 میں یش چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’دھرم پترا‘ سے ہندوستانی سنیما میں پہچان بنانے کا موقع ملا۔ اگرچہ اس فلم میں ان کا کردار مختصر تھا، لیکن انہوں نے جلد ہی اپنی اداکاری کی صلاحیتوں سے فلم سازوں کی توجہ حاصل کرلی۔

1964 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سہاگن‘ اور دیگر فلموں میں ان کی اداکاری نے انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ انہوں نے ’دیور‘ جیسی فلم میں منفی کردار ادا کیا، جب کہ ’محبت زندگی ہے‘ میں مزاحیہ کردار کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان مختلف کرداروں نے ثابت کیا کہ وہ صرف کامیڈی تک محدود نہیں تھے بلکہ سنجیدہ اور منفی کردار بھی بخوبی ادا کرسکتے تھے۔

تاہم، دیوین ورما کی اصل شناخت کامیڈی بنی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے کردار میں اس طرح ڈھل جاتے تھے کہ ان کی اداکاری بناوٹی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات، مکالمے ادا کرنے کا انداز اور جسمانی حرکات مزاحیہ صورت حال کو مزید دل چسپ بنا دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ معمولی سے معمولی کردار کو بھی یادگار بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

دیوین ورما نے صرف اداکاری ہی نہیں کی بلکہ فلم سازی کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیں اور ہدایت کاری کے ذریعے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ فلمی دنیا میں ان کی دلچسپی محض پردے پر اداکاری کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ کہانی، کردار اور فلم کی مجموعی پیش کش میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

ان کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں ’چوری میرا کام‘ (1975)، ’چور کے گھر چور‘ (1978)، ’گول مال‘ (1979)، ’انگور‘ (1982) اور ’رنگ برنگی‘ (1983) شامل ہیں۔ ان فلموں میں ان کی اداکاری نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ خاص طور پر گلزار کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’انگور‘ میں ان کی مزاحیہ اداکاری کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ فلم ولیم شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’دی کامیڈی آف ایررز‘ سے ماخوذ تھی اور ہندوستانی سنیما کی بہترین مزاحیہ فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

باسو چٹرجی، رشی کیش مکھرجی اور گلزار جیسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے سے دیوین ورما کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع ملے۔ ان ہدایت کاروں کی فلموں میں ان کی اداکاری نے کامیڈی کو ایک الگ انداز دیا، جس میں برجستگی، سادگی اور فطری مزاح نمایاں تھا۔ انہیں ’چوری میرا کام‘، ’چور کے گھر چور‘ اور ’انگور‘ کے لیے فلم فیئر بہترین مزاحیہ اداکار کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

ہندوستانی فلموں کے علاوہ دیوین ورما نے مراٹھی اور بھوجپوری فلموں میں بھی کام کیا۔ ان کی اداکاری کی خوبی یہ تھی کہ وہ مختلف زبانوں اور کرداروں کے مطابق اپنے انداز کو ڈھال لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیڈی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے غیر ضروری شور شرابے یا فحش مکالموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات چہرے کے تاثرات اور ایک سادہ سا مکالمہ بھی ناظرین کو ہنسانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

دیوین ورما نے ایسے دور میں اپنی شناخت بنائی جب تفریح کے ذرائع آج کی طرح متنوع نہیں تھے۔ ان کی فلمیں خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل تفریح فراہم کرتی تھیں۔ ان کے کئی کردار وقت گزرنے کے باوجود ناظرین کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ آج بھی ان کی پرانی فلمیں دیکھنے والے ان کی اداکاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کے منفرد مزاح کو سراہتے ہیں۔

دیوین ورما کو آخری بار 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کلکتہ میل‘ میں دیکھا گیا، جس میں انہوں نے رانی مکھرجی کے دادا کا کردار ادا کیا تھا۔ طویل فلمی سفر کے بعد 2 دسمبر 2014 کو پونے میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ 77 برس کے تھے۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ اور گردوں کی خرابی بتائی گئی تھی۔

دیوین ورما آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی اداکاری اور مزاحیہ کردار ہندوستانی سنیما کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کیا کہ کامیڈی محض لوگوں کو ہنسانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فن ہے جو ناظرین کو روزمرہ کی پریشانیوں سے کچھ دیر کے لیے دور کرکے خوشی فراہم کرتا ہے۔ یہی ان کی اداکاری کا کمال اور ان کی دیرپا مقبولیت کا راز ہے۔

(ان پٹ یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔