’چین کو کلین چٹ دینا بند کریں‘، ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت سے پوچھے تین سوال

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چین پالیسی پر مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے سرحدی کشیدگی، چین سے بڑھتی درآمدات اور تجارتی خسارے پر سوال اٹھائے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی، ہندوستان کے بڑھتے تجارتی خسارے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو چین کو بار بار کلین چٹ دینے کے بجائے ہندوستان کے عوام کے سامنے حقائق واضح کرنے چاہئیں۔ انہوں نے قومی سلامتی، اقتصادی سلامتی اور سفارتی جواب دہی سے متعلق تین اہم سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کھڑگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اروناچل پردیش میں چینی فوج کی سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی فوج، پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ جاری کشیدہ صورت حال کی تصدیق تشویش ناک ہے۔


انہوں نے سوال کیا کہ ڈوکلام اور گلوان کے واقعات کے بعد کیا ایک اور سنگین تصادم کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے؟ کھڑگے کے مطابق، اگست میں اروناچل پردیش کے علاقے تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واچا-دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی دونوں افواج کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے مطابق یہ مقام مبینہ دراندازی کے مقام سے تقریباً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کانگریس صدر نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور حکومت کو سرحدی صورت حال کے بارے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ اقتصادی سلامتی کے معاملے پر کھڑگے نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی قربانی کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے ہندوستان کی درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 155 فیصد بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔


انہوں نے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے اس اعتراف کا حوالہ بھی دیا کہ چین ہندوستانی برآمدات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود حکومت چینی سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے اور چین سے منسلک اہل کاروباری منصوبوں کو پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت فوائد دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی ’میک اِن انڈیا‘ مہم اب ’امپورٹ فرام چائنا‘ میں تبدیل ہو گئی ہے؟

سفارتی محاذ پر جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور باہمی رابطے ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کی شمولیت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت، ورکنگ میکانزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن (ڈبلیو ایم سی سی) کے 36 اجلاس اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) و برکس کے متعدد سربراہی اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ ان تمام ملاقاتوں اور مذاکرات سے ہندوستان کو ٹھوس نتائج کیا حاصل ہوئے؟ کیا مئی 2020 سے پہلے ہندوستان کے گشت کرنے کے حقوق مکمل طور پر بحال ہو گئے ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔