بالی ووڈ

رشی کپور کے انتقال کے بعد اہل خانہ کا بیان آیا سامنے

رشی کپور کے اہل خانہ کا جو بیان سامنے آیا ہے اس میں انھوں نے کہا کہ ”ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ آخر تک سبھی کی تفریح کرتے رہے تھے۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

رشی کپور ایک زندہ دل انسان تھے اور انھوں نے فلموں میں جو جوشیلے کردار ادا کر کے لوگوں کی تفریح کی ہے، اصل زندگی میں بھی کمتر نظر نہیں آئے۔ اس وقت پورا ملک رشی کپور کے انتقال کی خبر سے صدمے میں ہے۔ 67 سالہ رشی کپور کے گھر والوں نے انتقال کے بعد بتایا کہ انھوں نے بڑی ہی بہادری کے ساتھ تقریباً دو سال کینسر کا مقابلہ کیا اور جب اس دنیا کو الوداع کیا تو بھی وہ کسی طرح کمزور نظر نہیں آ رہے تھے۔ رشی کپور کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بھی آخر وقت تک وہ سبھی کی تفریح کرتے رہے۔

Published: undefined

میڈیا ذرائع میں رشی کپور کے اہل خانہ کا جو بیان سامنے آیا ہے اس میں انھوں نے کہا ہے کہ "ہم سب کے پیارے رشی کپور دو سالوں تک لیوکیمیا سے لڑنے کے بعد آج صبح 8.45 بجے اسپتال میں ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ آخر تک سبھی کی تفریح کرتے رہے تھے۔ وہ کینسر سے چل رہی لڑائی کے دو سالوں میں ہمیشہ پرعزم اور زندہ دل رہے تھے۔ فیملی، دوست، کھانا اور فلمیں ہمیشہ ان کی توجہ کا مرکز رہی تھیں اور جو بھی ان سے ملتا تھا یہ دیکھ کر حیران رہتا تھا کہ آخر وہ کس طرح اس بیماری کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔"

Published: undefined

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ "وہ (رشی کپور) پوری دنیا سے اپنے شیدائیوں کی جانب سے بھیجے گئے پیار میں شرابور تھے۔ ان کے اِن آخری دنوں میں ہمیں ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہ وہ چاہتے ہیں ہم انھیں ہمیشہ ہنستے ہوئے اور مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھیں، نہ کہ آنسوؤں کے ساتھ۔ ہم ان کے انتقال سے رنجیدہ ہیں، ساتھ ہی ہم سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا اس وقت ایک بھیانک بحران سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں کئی طرح کی پابندیاں ہیں۔ ہم ان کے سبھی شیدائیوں اور چاہنے والوں سے بس یہی گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس وقت بھی ضابطوں پر عمل کریں اور جو پابندیاں لگی ہوئی ہیں، انھیں سمجھیں۔ وہ (رشی کپور) بھی ایسا ہی چاہتے ہوں گے۔"

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined