
ریاض ایئرپورٹ / Getty Images
سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہوئے حملے میں زخمی ہندوستانی شہریوں میں سے 6 اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ اس دوران سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایک نئی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ہندوستانی شہریوں سے مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے، فضائی حملے کی صورت میں گھروں کے اندر رہنے اور سلامتی سے متعلق احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جمعرات کو جاری تازہ معلومات کے مطابق، حملے میں زخمی ہونے والے ہندوستانی شہریوں میں سے دو انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں داخل ہیں، جبکہ ایک شہری کو ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ (ایچ ڈی یو) میں رکھا گیا ہے۔ تین دیگر زخمیوں کا علاج اسپتال کے عام وارڈ میں جاری ہے۔ ایک زخمی کو جمعرات کے روز اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔
سفارت خانے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں محتاط رہیں اور فضائی حملے کی صورت میں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے جاری کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز بنانے، شائع کرنے یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ ایسا کرنا مقامی قوانین کے تحت قانونی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
حملے کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمد و رفت تاحال معطل ہے۔ تاہم دمام، جدہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس سے کچھ بندشوں کے ساتھ پروازیں جاری ہیں۔
ہندوستانی ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے اور وہاں سے آنے والی متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ مختلف کمپنیوں کے شیڈول اور پروازوں کی بحالی کی تاریخ الگ الگ ہو سکتی ہے، اس لیے مسافروں کو سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائن سے تازہ معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انڈیگو نے سعودی عرب کے لیے اپنی پروازوں کی منسوخی میں 24 اکتوبر تک توسیع کا اعلان بھی کیا ہے۔
سعودی عرب سے فوری طور پر نکلنے کی ضرورت محسوس کرنے والے ہندوستانی شہری بحرین، کویت اور قطر سمیت پڑوسی ممالک کے ہوائی اڈوں سے دستیاب پروازوں کے ذریعے سفر کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ تاہم متعلقہ ملک میں داخلے کے لیے ویزا اور دیگر شرائط کی پابندی ضروری ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے دوران ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی تھی، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں سے منسوب کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں تقریباً 26 لاکھ ہندوستانی شہری مقیم اور مختلف شعبوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ ایسے میں سلامتی کی صورت حال اور فضائی سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ان کی حفاظت، آمد و رفت اور روزگار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ سفارت خانے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔