جمعیۃ کا ششماہی مشورہ: 6 ماہ میں 5352 نئے مکاتب قائم، 9400 نوجوان شعبۂ رفیق سے وابستہ

جمعیۃ کے پوکرن میں منعقدہ مرکزی ششماہی مشورے میں 5352 نئے مکاتب کے قیام، 9400 نوجوانوں کو شعبۂ رفیق سے جوڑنے اور 484 دیہات میں ترقیاتی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ پریس ریلیز</p></div>
i

پوکرن (راجستھان): جمعیۃ علماء ہند کے نویں مرکزی ششماہی مشورہ میں تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ چھ ماہ کے اہداف مقرر کیے گئے۔ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن، جیسلمیر میں منعقدہ سہ روزہ اجتماع میں ملک بھر کے صوبائی صدور، نظمائے اعلیٰ اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خطاب میں ملت کی خدمت کو اولین ترجیح دینے، نوجوانوں کو آگے بڑھانے اور نئی قیادت تیار کرنے پر زور دیا۔

جمعیۃ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹوں کے مطابق، اپریل سے اکتوبر 2026 کے دوران ملک بھر میں 5352 نئے دینی مکاتب قائم کیے گئے، جب کہ آئندہ چھ ماہ میں مزید 5332 مکاتب قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت تنظیم کے تحت 63 ہزار سے زائد مکاتب چل رہے ہیں۔

درسِ قرآن و حدیث کے سلسلے کو وسعت دیتے ہوئے گزشتہ چھ ماہ میں 5860 نئے مقامات پر درسِ قرآن اور 8848 مقامات پر درسِ حدیث کا آغاز کیا گیا۔ معاشرتی اصلاح، اخلاقی تربیت اور فضول خرچی کی روک تھام کے لیے 7351 اصلاحی اجتماعات منعقد ہوئے۔ نوجوانوں کو تنظیمی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق سے جوڑنے کے تحت 9400 نوجوانوں کو شعبۂ رفیق سے وابستہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، دینی و سماجی رہنمائی کے مراکز کے طور پر 1806 مثالی مساجد قائم کی گئیں، جب کہ قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 356 پروگرام منعقد ہوئے۔ سماجی و تعلیمی ترقی کی سرگرمیوں کے لیے 484 دیہات منتخب کیے گئے اور کارکنان کی تربیت کے لیے 115 ورکشاپیں منعقد ہوئیں۔ آئندہ مرحلے میں ان سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے اہداف بھی طے کیے گئے۔


مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ مختلف شعبوں میں پیش رفت کے باوجود ملت کی ضروریات اور موجودہ حالات کے تقاضوں کے پیش نظر مزید محنت، اخلاص اور عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، ملت کی خدمت کو حقیقی ترجیح حاصل ہونی چاہیے اور کارکنان میں ملت کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ ذاتی مفادات اور حیثیت کے بجائے اجتماعی خدمت کو اہمیت دی جائے۔

انہوں نے اکابرین اور اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے عزم و استقامت کے ساتھ کام کیا۔ آج کی ذمہ داری ہے کہ ان کے اخلاص، ایثار اور جذبۂ خدمت کو عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ انہوں نے نوجوانوں کو کام کے مواقع اور ذمہ داریاں سونپنے پر بھی زور دیا، تاکہ وہ مستقبل میں موجودہ ذمہ داران کا مؤثر متبادل بن سکیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے کہا کہ کام ذاتی شہرت اور نام و نمود کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ اجلاس میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے دینی تعلیمی بورڈ، مکاتب کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

مشورے میں معیاری مساجد، ہر یونٹ میں اصلاحی کمیٹی اور مثالی اضلاع میں فیملی کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ اجلاس میں مختلف شعبوں کی رپورٹوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تنظیمی و سماجی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔