راہل-کھڑگے کی یوتھ کانگریس-این ایس یو آئی رہنماؤں سے ملاقات، ووٹ چوری کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل
ووٹ چوری کے تنازعہ کے درمیان راہل گاندھی اور کانگریس صدر کھڑگے نے یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوا دل کے رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے طلبہ کی آواز بننے اور جمہوریت کے تحفظ کی اپیل کی

نئی دہلی: ووٹ چوری پر جاری تنازعہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر کانگریس کی جاری مہم کے درمیان، پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو نئی دہلی میں یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوا دل کے رہنماؤں اور عہدیداروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال سمیت دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
یہ ملاقات پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں ہوئی، جس میں نوجوان اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ موجودہ سیاسی صورت حال، جمہوری حقوق کے تحفظ اور حکمراں بی جے پی کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یوتھ کانگریس اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) حالیہ دنوں میں ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہی ہیں، جبکہ سیوا دل بھی اس مہم میں پارٹی کی حمایت کر رہا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملاقات کی تصاویر اور تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی موجودگی میں یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوا دل کے رہنماؤں اور عہدیداروں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کارکنوں کو ’ببر شیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی طاقت اور جمہوریت کے تحفظ کے جنگجو ہیں، جو اس جدوجہد کے لیے پوری طرح پرعزم اور تیار ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے نوجوان ہمیشہ ملک کی سیاسی سمت طے کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان کے مطابق، این ایس یو آئی، یوتھ کانگریس اور سیوا دل کے رہنماؤں نے مودی حکومت کے آمرانہ رویے کو چیلنج کیا ہے، حالانکہ انہیں پولیس کی سخت کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ پارٹی کی نوجوان اور ذیلی تنظیمیں نوجوانوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی حکومت کو جواب دہ ٹھہرانے، جمہوری حقوق کا دفاع کرنے اور اداروں کی ساکھ محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ملاقات کے بعد این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ راہل گاندھی نے طلبہ کی آواز بننے، ملک کے عام شہریوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک، آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔
جاکھڑ نے حالیہ احتجاج کے دوران طلبہ کے ساتھ پولیس زیادتیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا الزام تھا کہ کچھ مظاہرین کو ایسی جگہوں پر لے جایا گیا جہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے واقعات کی فوٹیج حاصل کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
اس سے قبل راہل گاندھی نے طلبہ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ عوام کی آواز کے خلاف کھڑے نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج میں مذہب، ذات یا جنس کی بنیاد پر کوئی تقسیم نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کی آواز ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، اس آواز کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
