
Getty Images
مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں سالانہ حج اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور لاکھوں حجاج کرام اہم مناسک کی ادائیگی کے بعد حج کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ حجاج کرام یوم عرفہ میں میدان عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، جمرہ عقبہ کبریٰ پر رمی اور قربانی جیسے اہم ارکان ادا کر چکے ہیں جبکہ اب حج کے آخری مناسک جاری ہیں۔
Published: undefined
عید الاضحی کے پہلے دن بدھ کی صبح پو پھٹتے ہی حجاج کرام نے مشعر منیٰ میں جمرات کمپلیکس کی طرف پیش قدمی کی اور جمرہ عقبہ کبریٰ پر کنکریاں مارنے کی رسم ادا کی۔ اس کے بعد قربانی، بال منڈوانے یا کٹوانے اور طواف افاضہ کا مرحلہ شروع ہوا۔ طواف افاضہ حج کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام مسلسل مسجد حرام پہنچ رہے ہیں۔
رمی کے ابتدائی مرحلے کے بعد حجاج دوبارہ منیٰ لوٹ رہے ہیں جہاں ایام تشریق کے دوران قیام کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو دنوں میں حجاج کرام تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں ماریں گے۔ یہ عمل حج کے آخری اہم مراحل میں شمار ہوتا ہے اور اس کے بعد حجاج کی عبادات تکمیل کے قریب پہنچ جائیں گی۔
Published: undefined
سعودی حکام نے جمرات پل، داخلی اور خارجی راستوں، منیٰ اور مسجد حرام کے اطراف غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ سکیورٹی اہلکار، طبی ٹیمیں، ایمبولینس خدمات اور ہنگامی امدادی عملہ 24 گھنٹے خدمات انجام دے رہا ہے۔ شدید گرمی کے پیش نظر پانی، ٹھنڈک اور طبی سہولتوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تمام مناسک مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ سے روانگی سے قبل طواف وداع ادا کریں گے۔ طواف وداع حج کے اختتامی اعمال میں شامل ہے اور اس کے بعد بیرون ملک سے آنے والے عازمین کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
Published: undefined
سعودی حکام کے مطابق اس سال 17 لاکھ سے زائد افراد حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں جن میں 15 لاکھ سے زیادہ بیرون ممالک سے آئے ہیں۔ ہندوستان سے اس سال ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد عازمین حج میں شریک ہوئے ہیں۔ ہندوستانی حجاج نے انتظامات، نقل و حرکت اور سہولتوں کو بہتر قرار دیا ہے۔ کئی ہندوستانی عازمین نے شدید گرمی کے باوجود حج انتظامات کو منظم بتایا اور کہا کہ حج ایک جسمانی طور پر دشوار مگر روحانی طور پر انتہائی اہم سفر ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined