کیا اس ہفتے ہو جائے گا امریکہ-ایران معاہدہ؟ سوربھ کمار شاہی کا تجزیہ
پروگرام ’دنیا میرے آگے‘ میں سوربھ کمار شاہی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ابھی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی مفاہمتی ڈھانچہ زیر غور ہے، تاہم دونوں فریق مشترکہ بنیاد کے قریب دکھائی دیتے ہیں
پروگرام ’دنیا میرے آگے‘ کی تازہ قسط میں بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار سوربھ کمار شاہی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے بجائے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت کی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جو مستقبل کے ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق بعض بنیادی نکات پر ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، اگرچہ کئی اہم معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی جیسے مطالبات پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکہ جوہری سرگرمیوں اور علاقائی استحکام سے متعلق یقین دہانیاں چاہتا ہے۔
سوربھ کمار شاہی نے کہا کہ بحیرۂ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جس کے باعث امریکہ بھی خطے میں اپنے اخراجات کم کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم، پابندیوں کے خاتمے اور جنگ بندی سے متعلق معاملات پر مزید مذاکرات درکار ہیں۔
ان کے مطابق اگرچہ فریقین کے درمیان فاصلہ پہلے کے مقابلے میں کم ہوا ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کئی پیچیدہ امور پر اتفاق ضروری ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مذاکرات دوبارہ تعطل کا شکار ہو جائیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
