میری بات: خفیہ ایجنسیاں، طاقت اور ذمہ داری کے درمیان باریک لکیر...ویڈیو

سرد جنگ سے جدید سائبر دور تک خفیہ ایجنسیوں کے بدلتے کردار، ایپسٹین فائلز سے جنم لینے والے سوالات اور قومی سلامتی، احتساب اور قانونی حدود کے درمیان توازن کی اہمیت پر گفتگو

قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ کی تیسری قسط میں ڈیجیٹل ایڈیٹر خرم رضا نے دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کے کردار، ان کے اثرات اور عالمی سیاست میں ان کی اہمیت پر تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان کشمکش اور اس دوران انٹیلی جنس اداروں کے بڑھتے کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی، معلومات اور سفارت کاری بھی قومی مفادات کے اہم ذرائع بن گئے ہیں۔

خرم رضا نے اسرائیل اور اس کی خفیہ ایجنسی موساد کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری مباحث کا ذکر کیا اور کہا کہ جدید دور میں خفیہ ایجنسیاں صرف روایتی جاسوسی تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے جیفری ایپسٹین اور اس سے متعلق منظر عام پر آنے والی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فائلوں نے طاقتور شخصیات اور ممکنہ خفیہ روابط سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر خرم رضا نے کہا کہ خفیہ ایجنسیاں ہر ملک کی ضرورت ہیں، لیکن ان کی فعالیت قانونی حدود، احتساب اور قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن سے مشروط ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔