’ہاتھ میں ترنگا تھا، اچانک چھرے آ کر لگے‘، زخمی طالب علم ساحل کی روداد، راہل گاندھی نے جاری کی ویڈیو

راہل گاندھی نے پیپر لیک احتجاج میں زخمی طالب علم سے ملاقات کی ویڈیو جاری کی، جس میں اس نے کہا کہ ہاتھ میں ترنگا لے کر پرامن احتجاج کے دوران اس پر چھرے داغے گئے اور اس کی ایک آنکھ کی بینائی جا سکتی ہے

نئی دہلی، 24 جولائی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے 19 سالہ طالب علم ساحل کے ہمراہ پریس کانفرنس کے بعد ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ساحل نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہاتھ میں ترنگا لیے پرامن احتجاج کر رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے پر چھرے آ کر لگے اور اس کی ایک آنکھ شدید متاثر ہو گئی۔

’پیلٹ گن کا سچ، مودی حکومت کا جھوٹ - دونوں بے نقاب‘ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں ساحل نے بتایا کہ وہ دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور 2025 کے ایس ایس سی دہلی پولیس کانسٹیبل امتحان کے پیپر لیک سے متاثر ہوا تھا، لہذا وہ احتجاج میں شریک ہوا تھا۔

ساحل نے راہل گاندھی کو بتایا کہ احتجاج کے دوران اچانک دونوں جانب سے لاٹھی چارج شروع ہو گیا۔ اس کے بعد وہ پولیس کے قریب ایک مقام پر پہنچا جہاں اس کے ہاتھ میں قومی پرچم تھا۔ اس نے کہا، ’’میں پولیس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک زور دار آواز آئی اور میرے چہرے پر چھرے آ کر لگ گئے۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا۔‘‘

اس نے بتایا کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ اس پر کس نے فائر کیا، تاہم جس سمت سے فائر ہوا وہاں پولیس فورس تعینات تھی۔ اس کے مطابق احتجاج کے دوران وہ نہ صرف پرامن تھا بلکہ دوسرے طلبہ سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کر رہا تھا۔

ساحل نے کہا، ’’جو لوگ پتھراؤ کر رہے تھے، میں ان سے کہہ رہا تھا کہ ہاتھ جوڑ کر آگے بڑھو، کچھ نہیں ہوگا۔ میں سب سے آگے کھڑا تھا اور میرے ہاتھ میں ترنگا تھا۔‘‘


اس نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی فائر کے متعدد چھرے اس کے جسم میں پیوست ہو گئے، جن کے نشانات اس کی کمر اور کندھوں پر موجود ہیں۔ زخمی ہونے کے بعد پولیس نے اس کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ دیگر طلبہ نے انسانی زنجیر بنا کر اسے وہاں سے نکالا، جس کے بعد ایک موٹر سائیکل سوار اسے لیڈی ہارڈنگ اسپتال لے گیا۔

ساحل نے کہا کہ وہ صرف انصاف چاہتا ہے۔ اس نے کہا، ’’اگر میں ایک آنکھ سے محروم ہو گیا ہوں تو میرے مستقبل کے لیے انصاف ہونا چاہیے۔‘‘

راہل گاندھی کے سوال پر اس نے کہا کہ اگرچہ اس کا مقصد سرکاری ملازمت حاصل کرنا تھا، لیکن اب وہ اس جدوجہد کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے کہا، ’’میں نے آزادی کے لیے اتنی بڑی لڑائی لڑی ہے اور ایک آنکھ دے چکا ہوں۔ میں یہ لڑائی آخر تک لڑنا چاہتا ہوں۔‘‘

جب راہل گاندھی نے پوچھا کہ گھر والوں نے اسے احتجاج میں جانے سے کیوں روکا تھا تو ساحل نے جواب دیا، ’’میں آمریت قبول نہیں کر سکتا، یہی میری سب سے بڑی پریشانی ہے۔‘‘ جس پر راہل گاندھی نے بھی کہا کہ یہی ان کی بھی پریشانی ہے۔


ویڈیو کے ساتھ جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے کہا کہ ساحل صرف صاف و شفاف امتحان اور اپنی محنت کا صلہ مانگ رہا تھا، لیکن اسے چھرے ملے۔ انہوں نے مودی حکومت پر طلبہ کے خلاف بربریت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انصاف مانگنے والے نوجوانوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل راہل گاندھی نے ساحل کو اپنے ساتھ پریس کانفرنس میں بھی پیش کیا تھا اور مرکزی حکومت سے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور طلبہ کے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔