لاک ڈاؤن کی پالیسی ناکام ہوئی، اب آگے کیا؟ راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے پوچھا سوال

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران کہا کہ ”جو ہدف لاک ڈاؤن کا تھا، وہ پورا نہیں ہوا۔ 60 دن ہو گئے، بیماری بڑھتی جا رہی ہے، تو ہمیں وضاحت چاہیے کہ حکومت کی کیا پوزیشن ہے۔“

user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے آج ایک بار پھر صحافیوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات چیت کی اور ان کے ذریعہ پوچھے گئے سوالوں کا جواب بھی دیا۔ بات چیت کا مرکز کورونا سے پیدا تازہ صورت حال ہی رہے اور راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر اس بات کا الزام عائد کیا کہ اس نے لاک ڈاؤن کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا اور یہ صرف لوگوں کے لیے پریشان کرنے والا ہی ثابت ہوا۔ راہل گاندھی نے واضح لفظوں میں کہا کہ "جو ہدف لاک ڈاؤن کا تھا، وہ پورا نہیں ہوا۔ 60 دن ہو گئے، بیماری بڑھتی جا رہی ہے، تو ہمیں وضاحت چاہیے کہ حکومت کی کیا پوزیشن ہے۔" انھوں نے کہا کہ "حکومت آنے والےد نوں کو لے کر کیا پالیسی تیار کر رہی ہے، اس کی جانکاری لوگوں کو دی جائے۔ وہ غریبوں کی کس طرح مدد کرے گی، اسمال، میڈیم صنعتوں کی کس طرح حفاظت کرے گی، اور مجموعی طور پر ان کا آگے کا کیا پروگرام ہے۔"

کانگریس لیڈر راہل گاندھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پریس سے کورونا بحران سے پیدا کئی ایشوز پر کھل کر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ جب پی ایم مودی نے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ 21 دن میں ہم اس وبا پر قابو پا لیں گے۔ لیکن چار لاک ڈاؤن نافذ کرنے اور 60 دن کے بعد بھی کورونا پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ "گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار کورونا کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ کورونا کے بڑھتے معاملوں سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ لاک ڈاؤن فیل ہو گیا ہے اور اس کا اعتراف پی ایم مودی کو کرنا چاہیے۔"

راہل گاندھی نے پریس سے بات کرتے ہوئے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی کہ جب ملک میں کورونا کے معاملے کم تھے تب لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا، اور اب جب کہ کورونا کے معاملے بڑھ رہے ہیں تو لاک ڈاؤن کو ہٹایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "پی ایم مودی اور ان کی حکومت کو اعتراف کرنا چاہیے کہ لاک ڈاؤن کی پالیسی پوری طرح فیل ہو گئی ہے۔ پی ایم مودی کو بیک فٹ سے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر آ کر یہ بتانا چاہیے کہ وہ کورونا پر قابو کے لیے کیا پالیسی بنا رہے ہیں۔ ہم پی ایم مودی سے سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کو لے کر وہ کیا سوچتے ہیں۔ آگے حکومت کورونا پر قابو پانے کے لیے کیا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔"

راہل گاندھی نے اپنی بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ "فروری کے مہینے میں کورونا کو لے کر جو میں نے تنبگیہ کی تھی، آج بھی میں اسی طرح کی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں۔ حکومت اسمال اور میڈیم صنعتوں، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کو لے کر جلد سے جلد ضروری اقدام کرے، ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں۔" انھوں نے مزید کہا کہ "حکومت کو فوراً مزدوروں اور غریبوں کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنے چاہئیں۔ اب بھی وقت ہے، ضروری فیصلے لیے جائیں۔"