کامن ویلتھ گیمز 2026: ہندوستانی تمغوں کی تعداد 33 پہنچی، ساکشی-پریا کے ’گولڈن پنچ‘ نے طلائی تمغوں کی تعداد 10 کر دی
ساکشی نے فائنل مقابلے میں انگلینڈ کی روبی وائٹ کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دی۔ پورے میچ کے دوران ساکشی کی گرفت مضبوط رہی۔ انہوں نے تینوں راؤنڈ میں اپنا مکمل غلبہ برقرار رکھا۔

ہندوستانی باکسنگ کا قلعہ کہے جانے والے ہریانہ کے بھیوانی کی رہنے والی ساکشی چودھری نے ’کامن ویلتھ گیمز 2026‘ میں اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں ساکشی نے خواتین کے 51 کلوگرام وزن کے زمرے میں طلائی تمغہ اپنے نام کر ملک نام روشن کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے اب تک 33 تمغے جیت لیے ہیں۔ ان 33 میں سے 10 طلائی، 15 چاندی اور 9 کانسے کے تمغے ہیں۔
ساکشی کے بعد پریا گھنگھس نے بھی 60 کلوگرام وزن کے زمرے میں گولڈ میڈل جیت کر اپنا دم دکھایا۔ پریا کا خواتین کے 60 کلوگرام زمرے کے فائنل میں مقابلہ کناڈا کی میری باتھیل ال احمدی سے ہوا۔ پہلا راؤنڈ ہارنے کے بعد پریا نے باقی دونوں راؤنڈ اپنے نام کرتے ہوئے گولڈ میڈل پر قبضہ جما لیا۔ ساکشی کے سامنے انگلینڈ کی روبی وائٹ نے جارحانہ انداز میں شروعات کی، لیکن وہ ساکشی سے آگے نکلنے میں ناکام رہی۔ ساکشی نے پہلے راؤنڈ میں کامیابی حاصل کر کے گولڈ کی جانب اپنے قدم بڑھائے۔ دوسرے اور تیسرے راؤنڈ میں بھی انہوں نے شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے گولڈ پر قبضہ جما لیا۔
ساکشی نے فائنل مقابلے میں انگلینڈ کی روبی وائٹ کو متفقہ فیصلے سے 0-5 کے یکطرفہ فرق سے شکست دے دی۔ پورے میچ کے دوران ساکشی کی گرفت کافی مضبوط رہی۔ انہوں نے تینوں راؤنڈ میں اپنا مکمل غلبہ برقرار رکھا اور روبی وائٹ کو حاوی ہونے کا ایک بھی موقع نہیں دیا۔ ساکشی کی کارکردگی اتنی شاندار تھی کہ تیسرا راؤنڈ ختم ہوتے ہی، سرکاری اعلان سے پہلے ہی انہوں نے اپنی جیت کا جشن منانا شروع کر دیا۔ وہیں دوسری جانب میچ کا رخ دیکھ کر اپنی شکست کا احساس ہوتے ہی روبی وائٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
قابل ذکر ہے کہ ساکشی کی یہ کامیابی اتنی آسان نہیں تھی۔ اس کے پیچھے ان کا ایک بڑا فیصلہ اور سخت محنت پوشیدہ ہے۔ ساکشی ہمیشہ سے 54 کلوگرام وزن کے زمرے میں کھیلتی آئی ہیں۔ لیکن اس بار 54 کلوگرام زمرے میں ہندوستان کا کوٹہ پہلے ہی پریتی پوار حاصل کر چکی تھیں۔ ایسے میں ساکشی نے اپنا وزن کم کر کے نئی کیٹگری میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ساکشی نے ہار ماننے کے بجائے خطرہ مول لینا بہتر سمجھا۔ اپنے کوچز سے مشورہ کر کے انہوں نے 51 کلوگرام زمرے میں کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ 3 کلوگرام وزن کم کرنے کے لیے ساکشی نے انتہائی سخت ڈائٹ پر عمل کیا۔ انہوں نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک روٹی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ گزشتہ سال آستانہ میں منعقدہ ورلڈ باکسنگ کپ میں انہوں نے 54 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ کامن ویلتھ گیمز کی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے ساکشی نے ورلڈ چیمپئن نکہت زرین اور سابق نیشنل چمپئن میناکشی ہڈا جیسی مایہ ناز کھلاڑیوں کو شکست دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
