اپنے شہریوں کو تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت نے مغربی اقوام کو متنبہ کیا ہے کہ غریب اور امیر ممالک میں فرق کو بڑھاوا نہ دیا جائے۔ عالمی ادارے نے امیر ملکوں کی اپنے شہریوں کو ویکسین کی تیسری خوراک فراہم کرنےکی بھی تنقید کی ہے۔

تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او
تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او
user

Dw

ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں سے کچھ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کورونا ویکسین کی تیسری خوراک مہیا کریں گے۔ اس مناسبت سے اسرائیل میں ویکسین کے تیسرے انجیکشن کی شروعات ملکی صدر کو ٹیکا لگانے سے ہو چکی ہے۔ امریکا بھی اس حوالے سے فیصلہ کر چکا ہے۔ یورپی اقوام میں بھی ایسا ہی سوچا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی صورت حال کے ڈائریکٹر مائیکل جوزف ریان نے ایسی سوچ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بندی ایسی ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے ان افراد میں مزید لائف سیونگ جیکٹیں بانٹی جائیں، جنہوں نے پہلے ہی ایسی جیکٹیں پہن رکھی ہیں اور دوسری جانب انہیں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، جو زندگی بچانے والی جیکٹوں سے محروم ہیں۔


ویکسین کی تیسری خوراک

امریکا کے ادارے برائے انسدادِ بیماری اور تحفظ (سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر روشیلی ویلینسکی کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں کو تیسری خوراک فراہم کی جائے گی اور ویسے بھی امریکی لوگوں کو محفوظ رکھنا ہی ان کے ادارے کا بنیادی مقصد ہے۔

کورونا ویکسین کی تیسری خوراک دینے کے حوالے سے امریکی و اسرائیلی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی جسم میں داخل شدہ ویکسین کی قوت کم ہونے لگتی ہے اور اس کی مدافعتی صلاحیت بڑھانے کے لیے تیسری خوراک یعنی بوسٹر ضروری ہے۔ کئی ایسے ممالک کورونا وائرس کی نئی قسم کے متغیر ڈیلٹا ویریئنٹ کو ایک خطرناک قسم قرار دیتے ہیں۔


ڈیلٹا ویریئنٹ سے بچاؤ کے تناظر میں اسرائیلی حکومت نے پچاس برس سے زائد عمر کے شہریوں کو ویکسین کی تیسری خوراک دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

بوسٹر تھیوری کی کوئی گنجائش نہیں

عالمی ادارہ صحت ابھی تک کورونا ویکسین کی تیسری خوراک کی فراہمی سے اتفاق نہیں کرتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس مناسبت سے واضح سائنسی شہادت کا ہونا اہم ہے وگرنہ یہ ایک بے کار بات ہے۔


ڈبلیو ایچ او کی سائنس دان سومیا سوامیناتھن نے بدھ اٹھارہ اگست کو کہا کہ ایسے اعداد و شمار موجود نہیں کہ جن پر اعتبار کرتے ہوئے بُوسٹر کی ضرورت کو تسلیم کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا مستقبل میں ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہو سکتی ہے۔ سوامی ناتھن کے مطابق اس وقت بھی ساری دنیا میں اور خاص طور پر ترقی پذیر اقوام میں ایک ارب انسانوں کو ویکسین درکار ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبرائسیس نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کثیر آبادی کو پہلی خوراک دینے کے بجائے ان افراد کو تیسرا ٹیکا لگا دیا جائے، جو پہلے سے محفوظ ہیں۔ ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ اس عمل سے غریب اور امیر کے درمیان خلیج وسیع سے وسیع تر ہو جائے گی۔


ویکسین کا تعصب

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبرائسیس نے امریکی ویکسین تیار کرنے والے ایک ادارے پر بھی تنقید کی ہے۔ اُن پر تنقید ان رپورٹوں کے تناظر میں ہے، جن کے مطابق جانسن اینڈ جانسن نامی دوا ساز ادارے نے جنوبی افریقہ میں تیار کردہ اپنی ویکسین کو ارد گرد کے غریب ملکوں میں فراہم کرنے کے بجائے امیر ملکوں کو بیچ دی تھی۔

ڈائریکٹر جنرل نے دوا ساز ادارے جانسن اینڈ جانسن سے کہا ہے کہ وہ ترجیحی بنیاد پر اپنی ویکسین افریقہ کے ممالک کو فراہم کرے کیونکہ امیر ملکوں کو پہلے ہی دوسری ویکسینوں تک آسان رسائی حاصل ہے۔


ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبرائسیس نے ویکسین کی مساویانہ تقسیم میں تفریق کو غیر منصفانہ اور باعثِ شرمندگی قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوا ساز اداروں نے ویکسین کی امیر ملکوں کو فراہمی میں ریکارڈ منافع کمایا ہے۔ ان کے مطابق غریب اقوام کو نظرانداز کر کے اپنی آبادی کو تیسری خوراک دینا بے ضمیری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔