رمضان المبارک: عبادت کے ساتھ دوسروں کے درد کو محسوس کرانے والا مہینہ

اس ماہ میں صاحب حیثیت مسلمان دل کھول کر لوگوں کی امداد کرتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ غریب ومستحق رشتہ دار، آس پاس کے لوگ اور جاننے والے بھی اس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں کا فیض حاصل کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

ممبئی: ماہ رمضان عبادت، انسانیت، مساوات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والا مہینہ ہے، اس میں ہمیں اللہ رب العزت کے احکامات کے تحت مختلف عبادات اور سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ ہی ایسے مستحق افراد کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو کہ کسی وجہ سے محروم ہیں۔ ہمیں ضرورت مندوں کے ساتھ ہی ایسے اداروں اور تنظیموں کے لیے مالی اعانت کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار عروس البلاد ممبئی سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، سماجی رہنماﺅں اور مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات نے کیا ہے۔ ان شخصیات میں صدرانجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی بھی شامل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے بچوں کی بھی کفالت کا قوم کو خیال رکھنا چاہیے جوکہ فیس دینے اورنصابی کتابیں خریدنے سے قاصر رہتے ہیں۔


ڈاکٹر ظہیر قاضی نے مبارک مہینے کے لیے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عبادت کا مہینہ ہے، اس کے ساتھ ہی اکثر اسی ماہ میں زکوة بھی زائد ثواب کی نیت سے ادا کرتے ہیں، رمضان میں ایک صاحب حیثیت مسلمان دل کھول کر لوگوں کی امداد کرتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے غریب ومستحق رشتہ دار، آس پاس کے لوگ اور جاننے والے بھی اس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں کا فیض حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارے کے صدر ہونے کی وجہ سے انہیں اس بات کا علم ہے کہ بہت سے لوگ اپنے بچوں کی تعیم کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے ہیں، فیس کی ادائیگی اور کتابوں کی خریداری سے محروم رہتے ہیں، لیکن وہ زکوة بھی نہیں لینا چاہتے ہیں، اس لیے ہمارے صاحب حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ ایسے خاندانوں کی بھی فیس اور نصابی کتابوں کی خریداری میں مدد کریں۔ ڈاکٹر قاضی کے مطابق مسلمان ماہ مقدس میں جس طرح زندگی گزارتے ہیں، اگر سال بھر یہی معاشرے میں یہی ماحول بنا رہے تو دوسرے لوگ کہیں گے کہ اسلام اور اس کے ماننے والوں جیسا کوئی نہیں ہے۔


اس موقع پر ملت اسلامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ مجلس عاملہ کے سنیئر رکن حافظ سیّد اطہرعلی نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ رمضان صبر و تحمل کا مہینہ ہے اور اس میں تقویٰ حاصل کرو۔ اس لیے ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ ماہ مبارک میں نہ صرف صبروتحمل کا مظاہرہ کرو بلکہ اس ماہ میں مسلمان اللہ کی رضا کے لیے عبادات اور فرض ادا کرے گا اور اپنے چھوٹے بڑوں کا خیال رکھے گا تو اسے اپنے اندر تبدیلی محسوس ہوگی اور دینی جذبہ پیدا ہوگا۔ ہمیں ہرحال میں اپنے آس پاس دبے کچلے افراد کا حوصلہ بڑھانا چاہیے اور ان کی مالی اعانت کرنا چاہیے۔

اس سلسلہ میں ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشن کے صدر عامر ادریسی نے کہا کہ ماہ رمضان سے دوتین روز قبل ہی ان کے ادارہ نے زکوة کی تقسیم کے سلسلہ میں ایک رپورٹ پیش کی ہے اور ایک ایسے منصوبہ پر جلد عمل پیراں ہوں گے، جس کے تحت زکوة لینے والوں کو ان کے پیروں پرکھڑا کر کے انہیں زکوة دینے والا بنا دیں اور یہ کوشش جاری رہیگی۔ اس موقع پر انہوں نے مطلع کیا کہ گذشتہ اے ایم پی پانچ برسوں سے زکوة کے مرکزی نظام کے لیے جدو جہد کر رہی ہے تاکہ معاشی طور پر کمیونٹی کے پسماندہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکے اور انھیں ”زکوة لینے والوں سے زکوة دینے والوں“ میں تبدیل کیا جاسکے، اور تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے اور زکوة کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر انہوں نے زور دیا۔ تاکہ مستحق اور ضرورت محروم عام زندگی اور تہواروں کے موقعہ پر محروم نہ رہ جائیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔