مینیملزم یا سادہ طرز زندگی کیسے اپنائی جائے؟

مینیملزم لائف سٹائل یا سادہ طرز زندگی کے فوائد ہر فرد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں. بہت سے لوگ مینیملزم کو رفتہ رفتہ اپنا رہے ہیں تاکہ ذہنی دباؤ اور بے ترتیبی سے نکل کر پر سکون زندگی گزار سکیں۔

مینیملزم یا سادہ طرز زندگی کیسے اپنائی جائے؟
مینیملزم یا سادہ طرز زندگی کیسے اپنائی جائے؟
user

Dw

مینیملزم یا سادہ طرز زندگی رفتہ رفتہ ایک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ تصور جدیدیت کی ایجاد ہے جبکہ دیکھا جائے تو یہ صدیوں پرانا تصور ہے۔ ہم اگر اپنے سے پہلے کے انسانوں کی زندگی میں جھانکیں تو ان کی زندگی صرف ضروری اشیا پر محیط نظر آئے گی۔ سادہ اور تصنع سے پاک زندگی کسی بھی قسم کی پریشانی سے دور لیکن بھرپور۔

اس تصور کو روایتی طور پر آرٹ اور ڈیزائن سے جوڑا جاتا ہے جبکہ اس اصطلاح کا مطلب اور مفہوم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ تصور اس بات کی نشاندہی کرنے کا عمل ہے کہ آپ کی زندگی میں کیا ضروری ہے؟ اور کیا آپ اپنی زندگی سے غیر ضروری اشیا کو کم یا ختم کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ کیونکہ بعض اوقات بہت سی غیر ضروری اشیا صرف اور صرف اس لیے زندگی میں شامل رہتی ہیں کہ ان سے جڑی وابستگی آپ کو ان سے الگ نہیں ہونے دیتی۔


سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ بے ترتیبی کورٹیسول کی سطح کو بلند کرتی ہے۔ کورٹیسول وہ ہارمون ہے، جس کا اضافہ ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے اور اس وجہ سے توجہ کسی ایک جانب مرکوز نہیں رہ پاتی ہے۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں جسمانی اور ذہنی بے ترتیبی سے بڑھتے ڈیجٹل دور کی مصروفیت کی وجہ سے مغلوب ہیں۔ اس کی وجہ سے ذہنی خلفشار اور اضطراب میں اضافہ ہو رہا ہے، جو آپ کو ڈپریشن کی جانب لے جاتا ہے۔ ہمیں نئی چیزوں کے لیے جگہ بنانا، اپنوں کے لیے وقت نکالنا، پرانی اشیا کی چھانٹی کرنا یا پھر ضروریات کو محدود کرنا مشکل لگتا ہے۔

اس بھاگ دوڑ والی اور بے ترتیب زندگی کو سادہ بنانا آسان نہیں ہے لیکن ہم اس کو کیسے سادہ بنا سکتے ہیں؟ اس عمل کو ڈی کلٹرنگ کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے کچھ جانتے ہیں۔ مینیمل لائف سٹائل کی طرف آنے کے لیے ڈی کلٹرنگ کے دو مرحلے ہیں۔ اول اپنے ارد گرد کے ماحول کو ڈی کلٹر کرنا اور دوم اپنے آپ کو ڈی کلٹر کرنا۔


بات کرتے ہیں اردگرد کے ماحول کی۔ سب سے پہلے تو اپنے ارد گرد غور کریں کہ کونسی چیز مفید ہے یا یونہی ایک عرصے سے آپ کی زندگی میں شامل چلی آ رہی ہے۔ اگر نہیں مفید تو اس سے جان چھڑوائیں۔ اور اس سوچ کا آغاز انفرادی سطح پر کریں کیونکہ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ کسی قسم غیر ضروری کی اشیا پھینکتے نہیں ہیں نہ ہی ان کو ضائع کرتے ہیں۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ الماری میں کچھ ایسے کپڑے یا اشیا پڑی ہوں، جن کو آپ نے ایک سال سے زائد عرصے سے استعمال نہیں کیا ہو۔ ان سب کو نکال دیں تاکہ وہ کسی اور کے استعمال میں آسکیں۔

اس کے بعد نمبر آتا ہے وارڈ روب کو مینیمل کرنے کا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے الماری میں موجود سب اشیا کو اپنے سامنے ڈھیر کر لیں۔ ان میں سے وہ تمام کپڑے الگ کر لیں، جن کو آپ نے اس انتظار میں رکھا ہے کہ کمر کم ہو گی، وزن کم ہو گا تو پورے آ ہی جائیں گے۔ ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو بہت قیمتی کپڑے آپ نے اپنی الماری میں سنبھال رکھے ہیں، جن کو ایک بار پہننے کے بعد دوبارہ موقع کم ہی آتا ہے۔ ان کو یا تو بیچ دیں یا پھر کرایہ پر دے کر اسے ایک اضافی رقم کمانے کا ذریعہ بنائیں۔


اب کچھ بات ہو جائے باورچی خانے کی۔ تمام وہ برتن ہٹا دیں، جو آپ استعمال نہیں کرتے۔ چاہے وہ کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔ خراب الیکڑک اپلائینسس جو ٹھیک ہونے کے انتظار میں ہیں لیکن ان کا متبادل آپ کے پاس موجود ہے، ان کو بھی ہٹا دیں۔ ان سب اقدامات سے بہت سی جگہ خالی ہو جائے گی اور گھر میں کشادگی کااحساس ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں مینیمل لائف سٹائل یا سادہ طرز زندگی کے اصل فائدے کی طرف۔ اپنے آپ کو ڈی کلٹر کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور سے آمادہ کریں۔ کیونکہ بیرونی ڈی کلٹرنگ سے زیادہ مشکل اندرونی ہے۔ اس لیے راتوں رات کسی معجزے کی توقع نہ کریں۔ جب بھی کبھی آپ اپنے آپ کو دباؤ میں محسوس کریں تو اس کا مطلب ہے آپ مینیمل نہیں سوچ رہے بلکہ اپنے ذہن پر بہت سا بوجھ ڈالے ہوئے ہیں۔ بہتر ہو گا اس سب کو ایک کاغذ پر لکھیں اور اس پر نظر ثانی کریں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کیا اضافی سوچ رہے ہیں۔ سب باتوں کو اپنے دماغ سے ریموو کریں اور ذہن کو ریلکس کریں۔ اس کے بعد اپنے سب تعلقات پر ایک نظر ڈالیں۔ جو تعلق تکلیف دہ ہو اس کو زندگی سے نکال دیں تاکہ خوامخواہ کا ڈیپریشن کم ہو۔ اس کے بعد خود کو ری یوزیبل چیزوں کے لیے آمادہ کریں جو کہ ماحول اور جیب دونوں پر بیک وقت رحم کھانے کے مترادف ہے۔


یاد رکھیں مینیملزم اور کنجوسی میں فرق ہے۔ اسی طرح تعلقات میں مینملزم اور قطع تعلقی میں فرق ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سادہ طرز زندگی ہی بہترین انتخاب ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔