صرف عورتوں کی تحریک نہیں #MeToo، پاکستانی فلم ساز جمشید محمود بھی ہوئے شکار!

پاکستانی فلم ساز جمشید محمود جنہیں جامی کے نام سے جانا جاتا ہے نے ’می ٹو‘ موومنٹ کا حصہ بنتے ہوئے ایک ’طاقت ور میڈیا شخصیت‘ پر ریپ کا الزام عائد کیا ہے

تصویر ڈی ڈبلیو
تصویر ڈی ڈبلیو

ڈی. ڈبلیو

حال ہی میں لاہور میں ایم او کالج کے لیکچرار محمد افضل نے مبینہ طور پر اپنی جان اس لیے لے لی کیوں کہ ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جھوٹے الزامات عائد کیے گئے تھے، جو ممکنہ طور پر چھوٹے تھے۔ متنازعہ حالات ميں ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر'می ٹو‘ مہم کے حوالے سے کافی تنقید کی گئی۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا گیا کہ می ٹو کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معصوم لوگوں کو ذاتی مفادات کے ليے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی فلم ساز جامی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،'' ایک شخص کے غلط الزامات کی بنیاد پر ہلاکت کا یہ مطلب نہیں کہ تمام متاثرہ افراد جھوٹ بول رہے ہیں۔ می ٹو تحریک پر حملہ کرنے والوں پر مجھے شدید غصہ ہے، اسی لیے میں تیرہ سال بعد ایک سچ بتا رہا ہوں۔‘‘ جامی مزید لکھتے ہیں کہ انہیں میڈیا کی ایک با اثر اور طاقت ور شخصیت نے تیرہ برس قبل بہت بے دردی سے جنسی زيادتی کا نشانہ بنايا۔ جامی کے مطابق اس واقعے نے انہیں ذہنی طور پر شدید متاثر کیا۔ انہیں چھ ماہ تک اپنے علاج کے لیے ماہر نفسیات کے پاس بھی جانا پڑا۔

جامی کے اس دعوے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا انڈسٹری کو کور کرنے والے صحافی اور کراچی میں ڈی ڈبلیو کے نمائندہ حسن کاظمی نے بتایا، ''پاکستانی انڈسٹری میں وہی ہو رہا ہے، جو ہالی وڈ اور بالی وڈ میں بھی ہو رہا ہے۔ می ٹو تحریک استعمال کرتے ہوئے چند خواتین نے آواز اٹھائی۔ لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستانی شو بز انڈسڑی سے تعلق رکھنے والے ایک مرد نے کسی پر ریپ جیسے سنگین جرم کا الزام عائد کیا ہے۔ اس الزام کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔‘‘

حسن کاظمی کہتے ہیں کہ میڈیا نے جامی کی ٹوئٹس کو رپورٹ تو کیا لیکن ڈان نیوز نے اس آرٹیکل کوکچھ دیر کے لیے ہٹا دیا۔ بعد ازاں جب سوشل میڈیا پر اس حوالے سے احتجاج کیا گیا تو اس مضمون کو دوبارہ شائع کیا گیا۔ اس حوالے سے جامی نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ سوائے ایکسپریس ٹریبیون کے کسی نے ان کے الزامات کو واضح طور پر شائع نہيں کیا۔

ڈیجیٹل رائٹس کی ماہر اور پاکستان میں می ٹو تحریک کی ايک اہم کردار میشا شفیع کی وکیل نگہت داد نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''جامی کے الزامات پاکستانی معاشرے کی اصل صورت ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ نگہت کہتی ہیں کہ می ٹو تحریک صرف عورتوں کی نہیں بلکہ یہ ہر اس شخص کی تحریک ہے، جو زیادتی کا شکار ہوا۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان میں می ٹو ایک کمزور تحریک ثابت ہوئی کیوں کہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ میشا شفیع جیسی بااثر شخصیت اور چند اور خواتین کی جانب سے موسیقار علی ظفر پر لگائے گئے الزامات کے باوجود یہ معاملہ کسی بھی منتقی انجام تک نہ پہنچ پایا۔ لیکن نگہت اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کی رائے میں، ''یہ می ٹو کی کامیابی ہے کہ جامی سامنے آئے۔ پاکستان جیسے پدرانہ معاشرے میں مردوں کا یہ کہنا کہ وہ ہراساں ہوئے، اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی تنزیلہ مظہر نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جامی کی کہانی کے بعد سوشل میڈیا پر پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ می ٹو کو کیسے مؤثر بنایا جائے۔ وہ افراد جو خواتین کو اپنی کہانیاں سنانے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے بد قسمتی سے وہ مرد کو بھی ویسے ہی شکوک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ لوگ اس معاملے پر جس تیزی سے ردعمل ظاہر کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ می ٹو پر لوگوں کی حساسیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن متاثرہ شخص کو شدید تنقید اور مشکل سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘