ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: غریبوں کے لئے مشکلات کا پیغام

60 سالہ حلیمہ بی بی اسلام آباد کے ایک میڈیکل اسٹور کے سامنے آنے جانے والوں کے منہ تک رہی ہے اور اس کی منتظر آنکھیں کسی خدا ترس انسان کو تلاش کر رہی ہیں۔

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: غریبوں کے لئے مشکلات کا پیغام
ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: غریبوں کے لئے مشکلات کا پیغام
user

ڈی. ڈبلیو

60 سالہ حلیمہ بی بی اسلام آباد کے ایک میڈیکل اسٹور کے سامنے آنے جانے والوں کے منہ تک رہی ہے اور اس کی منتظر آنکھیں کسی خدا ترس انسان کو تلاش کر رہی ہیں، جو اس کے ہاتھ میں موجود نسخے میں لکھی ادویات اسے دلا دے۔ اسکی منتظر آنکھیں انتظار سے پتھرا گئی ہیں لیکن کوئی اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

درد کی کہانی

مسائل میں گھری، جھنگ سے تعلق رکھنے والی یہ صرف حلیمہ بی بی ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے میڈیکل اسٹور کے سامنے آپکو ایسے افراد مل جائیں گے، جو مہنگی دوائیاں نہیں خرید سکتے اور ہاتھ میں پرچہ لیے کسی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں۔ کئی افراد ایسے بھی ہیں، جو بیمار بچوں کو لے کر ہاتھ میں ڈاکٹر کی دوائیوں یا ٹیسٹ کا نسخہ لیے گھومتے ہیں اور کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہیں۔

''میرا شوہر بیمار ہے۔ وہ دل اور شوگر کا مریض ہے۔ رشتے داروں کی مدد سے اپنا گھر چلا رہی ہوں لیکن وہ صرف کھانے پینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ علاج معالجے میں وہ کیسے مدد کر سکتے ہیں جب کہ وہ خود بھی مزدور ہیں۔‘‘ حلیمہ نے آنسو پونچھتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا۔

حلیمہ کا کہنا ہے کہ کسی دور میں ساری دوائیاں سرکاری اسپتالوں سے مفت مل جاتی تھی اور علاج بھی مفت ہوتا تھا: ''اب تو سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ٹیسٹ باہر سے کرا کر لاؤ جب کہ ڈھیر ساری دوائیاں بھی لکھ دیتے ہیں، جو دن بدن مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور غریب آدمی اب انہیں نہیں خرید سکتا۔‘‘

ماہرین صحت اورسیاست دانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں اور اس نے عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

اضافہ کی حمایت

وزارت صحت کے ایک ذمہ دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کو جائز اور مثبت قرار دیا۔ ڈی ڈبلیو کو ایک تحریری بیان میں اس اہلکار نے کہا، ''غیر حقیقت پسندانہ قیمتوں کی وجہ سے کئی دوائیوں کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی تھی اور انہیں بہت زیادہ قیمت پر بیچا جارہا تھا۔ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان کو مقامی سطح پر تیار کیا جائے، جس کے لیے یہ اضافہ ضروری تھا۔ ان دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہارڈشپ کیٹگری میں کیا گیا ہے تاکہ یہ آسانی سے میسر آسکیں۔ کچھ دواؤں کی قیمتیں 10 سال سے منجمد تھیں جبکہ اس دوران خام مال اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس فیصلے سے دوائیاں آسانی سے میسر بھی ہوں گی اور غیر معیاری دوائیوں کی فروخت بھی ختم ہوگی۔‘‘

اضافے پر تنقید

تاہم سیاست دان اور ماہرین صحت اس اضافے کو نا انصافی سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ سے غریب آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور ملک میں شرح اموات بھی بڑھ سکتی ہیں جب کہ کئی بیماریاں پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے وابستہ ڈاکٹر عبدالغفور شورہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو برانڈ سسٹم ختم کرنا چاہیے: ''پہلے ہی جو دوائی 30 پیسے کی ہونے چاہیے تھی وہ 16 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ جو انجیکشن 10 روپے کا ہونا چاہیے وہ سینکڑوں میں فروخت ہورہا ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی غریب ہے۔ کورونا کی وجہ سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تو اب اس اضافے کے بعد غریب آدمی کیسے دوائی خریدے گا۔ ابھی اس کو ایک بیماری ہوئی ہے اور اگر اس کو دوا پیسے کی وجہ سے نہیں مل سکی تو وہ ہی بیماری دوسری بیماریوں کو جنم دے گی۔ تو غریب مریضوں کے لیے یہ تباہ کن فیصلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے وہ برانڈ سسٹم ختم کرے اور جنیرک سسٹم لے کر آئے۔‘‘

next