الجزائر: معروف صحافی احسان القاضی کو پانچ سال قید کی سزا

صحافی احسان القاضی کو "اپنی تجارت کے لیے غیرملکی مالی امداد حاصل کرنے" کے جرم میں جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

الجزائر: معروف صحافی احسان القاضی کو پانچ سال قید کی سزا
الجزائر: معروف صحافی احسان القاضی کو پانچ سال قید کی سزا
user

Dw

الجزائرکی ایک عدالت نے معروف صحافی احسان القاضی کو پانچ سال قید کی سزا سنائی، اس میں سے دو برس کی سزا معطل رہے گی۔ حکومت کے سخت ناقد القاضی کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

الجزائر کا قانون کسی بھی شخص کو ایسے فنڈ وصول کرنے سے روکتا ہے جس کا مقصد"ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں کے لیے اکسانا" ہے۔ القاضی کی مغرب ایمرجنٹ نیوز ویب سائٹ اور ریڈیو ایم کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ یہ ملک میں چند ایک باقی رہ جانے والے آزاد میڈیا اداروں میں سے تھے۔


دارالحکومت الجزائر کی عدالت نے القاضی کی ویب سائٹ اور ریڈیو اسٹیشن کی ملکیت والی میڈیا کمپنی کو تحلیل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ القاضی کے وکیل عبدالغنی بدیع نے کہا کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

الجزائر میں احتجاجی تحریک کے خلاف کارروائی

القاضی ان متعدد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہیں حال ہی میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جنوری میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کے ان اقدامات کی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں الجزائر میں انسانی آزادیوں پر مسلسل حملہ قرار دیا تھا۔


انہوں نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ جمہوریت نواز احتجاجی تحریک الحراک کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ القاضی اس تحریک میں کافی سرگرم تھے، جس کے نتیجے میں ایک طویل عرصے تک عہدہ صدارت پر فائز رہنے والے عبدالعزیز بوطفلیکہ کو سن 2019 میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

فروری میں انسانی حقوق کے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولر نے الجزائر کے حکام سے سول سوسائٹی اور انسانی حقوق گروپوں کے کارکنوں کے خلاف کارروائی ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز(آر ایس ایف) کی سن 2022 کے پریس فریڈم انڈکس میں الجزائر 180ملکوں کی فہرست میں 134ویں نمبر پر ہے۔


آر ایس ایف کے سکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوئر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اتوار کے روز عدالت کی طرف سے القاضی کی سنائی گئی سزا "مضحکہ خیز" ہے اور یہ صرف من گھڑت الزامات کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔