جرمن شہریت کے قانون میں اصلاحات پر وفاقی پارلیمان میں تند و تیز بحث

جرمن شہریت سے متعلق موجودہ ملکی قانون میں وسیع تر اصلاحات کے لیے وفاقی حکومت کے پیش کردہ ایک قانونی مسودے پر برلن میں بنڈس ٹاگ کہلانے والے وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں میں تند و تیز اولین بحث ہوئی۔

جرمن شہریت کے قانون میں اصلاحات پر وفاقی پارلیمان میں تند و تیز بحث
جرمن شہریت کے قانون میں اصلاحات پر وفاقی پارلیمان میں تند و تیز بحث
user

Dw

اس مسودہ قانون کے تحت چانسلر اولاف شولس کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت اتنی بڑی اصلاحات کرنا چاہتی ہے، جتنی پہلے کبھی نہیں کی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر اس قانون سازی کے بعد جرمنی میں کسی بھی غیر ملکی کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ ملک میں پانچ سال تک اپنے قانونی قیام کے بعد جرمن شہریت کی درخواست دے سکے گا۔ اب تک یہ مدت آٹھ سال ہے۔

اس کے علاوہ مجوزہ قانونی مسودہ منظور ہو جانے کے بعد جرمنی بنیادی طور پر اپنے ہاں دوہری شہریت کا حصول بھی ممکن بنا دے گا۔ اب تک چند استثنائی واقعات کو چھوڑ کر کسی بھی غیر ملکی کو جرمن شہریت لینے سے قبل اپنی پہلے سے حاصل شہریت چھوڑنا پڑتی ہے۔


موجودہ مخلوط وفاقی حکومت نے یہ مسودہ قانون اس لیے پارلیمان میں پیش کیا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی، ماحول پسندوں کی گرین پارٹی اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل اس حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے حکومتی اتحاد کے معاہدے میں ہی یہ طے کر لیا تھا کہ یہ جماعتیں اپنے مشترکہ دور اقتدار میں جرمن شہریت کے قانون میں جامع اصلاحات بھی لائیں گی۔

اپوزیشن کی یونین جماعتوں کا اعتراض

بنڈس ٹاگ میں آج ہونے والی بحث کے دوران ملکی سطح پر اپوزیشن کی قدامت پسند یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کے مشترکہ پارلیمانی حزب کے داخلہ سیاسی امور کے ترجمان آلیکسانڈر تھروم نے کہا کہ بنڈس ٹاگ کی اپوزیشن اس مسودہ قانون کو مسترد کرتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کے لیے جرمن شہریت کے حصول کے لیے لازمی طور پر درکار قانونی قیام کی کم از کم مدت کم کر کے اور ہر کسی کے لیے دوہری شہریت کا راستہ کھول کر شولس حکومت جرمن ''ریاست کی خوشحالی اور بہتری کو خطرے میں ڈال‘‘ رہی ہے۔

ساتھ ہی تھروم نے یہ بھی کہا کہ اس مسودہ قانون کا نام 'جرمن شہریت کے قانون میں اصلاحات کا بل‘ نہیں بلکہ 'جرمن شہریت کی بےقدری کا قانون‘ ہونا چاہیے۔ کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے اس سیاست دان نے یہ بھی کہا کہ تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحرانی حالات میں دوہری شہریت کو عمومی طور پر ممکن بنا دینے والا یہ مجوزہ قانون ایک ''غلط اشارہ‘‘ ہو گا۔


اصلاحات کے حق میں حکومتی موقف

بنڈس ٹاگ میں اس مسودہ قانون پر بحث سے قبل ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والی وفاقی جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے یہ بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی حالات، جدید دور کے تقاضوں اور جرمنی میں آبادی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ لازمی ہو چکا ہے کہ یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں شہریت کے حصول کے قانون کو بھی جدید تر بنایا جائے۔

نینسی فیزر نے کہا کہ وفاقی پارلیمان کو یہ مسودہ قانون اس لیے منظور کرنا چاہیے کہ طویل عرصے سے قانونی طور پر جرمنی میں مقیم ان کئی ملین غیر ملکی شہریوں کا یہ حق ہے کہ وہ اگر چاہیں تو جرمن شہریت بھی حاصل کر لیں، نہ کہ اس کے لیے انہیں پہلے اپنا آبائی ممالک کی شہریت ترک کرنا پڑے۔


شولس حکومت کے پیش کردہ اس مسودہ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ جو کوئی بھی سامیت دشمن، نسل پرستانہ یا کسی بھی شکل میں انسانی وقار کے منافی جرائم کا مرتکب ہو گا، اسے جرمن شہریت نہیں دی جائے گی۔

اس کے علاوہ چند استثنائی حالات کو چھوڑ کر جرمن شہریت کے حصول کے خواہش مند کسی بھی تارک وطن کے لیے یہ بھی لازمی ہو گا کہ وہ جرمن زبان پر کافی عبور رکھتا ہو اور جرمنی میں قیام کے دوران اپنے اخراجات زندگی خود برداشت کر رہا ہو، نہ کہ وہ اپنے یا اپنے خاندان کے لیے ریاستی مالی امداد پر انحصار کرتا ہو۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔